Skip to playerSkip to main content
Roshni Sab Kay Liye

Watch All The Episodes ➡️ https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8Xic1NLGY05O7GY70CDrW_HCC

Topic: Dawat-o-Tableegh

Host: Safar Ali Mohsin

Guest: Syed Naveed Jilani, Dr. Irfan Ullah

#RoshniSabKayLiye #islamicinformation #ARYQtv

A Live Program Carrying the Tag Line of Ary Qtv as Its Title and Covering a Vast Range of Topics Related to Islam with Support of Quran and Sunnah, The Core Purpose of Program Is to Gather Our Mainstream and Renowned Ulemas, Mufties and Scholars Under One Title, On One Time Slot, Making It Simple and Convenient for Our Viewers to Get Interacted with Ary Qtv Through This Platform.

Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://www.youtube.com/ARYQtvofficial
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Transcript
00:00ROSHNI SABKEE LIEYE
00:37روشنی سب کے لیے اپنے ناظرین تک پہنچانے کی سعادت حاصل کرتے ہیں
00:53ہمارے آج کے پروگرام کا عنوان ہے دعوت و تبلیغ
00:57یہ موضوع کتنا اہم ہے
00:59یہ کام کتنا اہم ہے
01:01اور اس کام کی برکتیں کیا ہیں
01:03یہ آج کی پروگرام میں ہم اپنے معزز سکولر سے سمجھیں گے
01:06ناظرین ابتدا ہی سے اللہ رب العزت کا پیغام
01:10انبیاء اکرام علیہ السلام کے ذریعے
01:13اس کے پھیلانے کا جو سلسلہ ہے اس کا آغاز ہو گیا
01:16انبیاء اکرام علیہ السلام اپنے اپنے زمانے میں
01:19اور اپنے احد کے مطابق
01:21ضروریات کے مطابق
01:22اللہ رب العزت کے احکامات کو بجا لاتے رہے
01:25اور ان احکامات کو نہائیت عزت کے ساتھ
01:28جانفشانی کے ساتھ اور پوری کمٹمنٹ کے ساتھ
01:31اللہ رب العزت کی مخلوق تک پہنچانے کی سعادت حاصل کرتے رہے
01:35شرفیاب ہوتے رہے
01:36انبیاء اکرام کا یہ سلسلہ جب ختم ہوتا ہے
01:39تاجدار ختمی مرتبت
01:40حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر
01:45اس کے بعد یہ ذمہ داری
01:46اصحاب رسول پر آ پڑی
01:48اہل بیت رسول پر آ پڑی
01:50اس کے بعد درجہ بدرجہ
01:52تابعین اتباع تابعین
01:54اور اس کے بعد امت کے جو دوسرے گروہ
01:56زمانی اعتبار سے تشریف لاتے رہے
01:59نسل بعد از نسل یہ ذمہ داری
02:01اب آمت المسلمین پر بھی ہے
02:03آمت المسلمات پر بھی ہے
02:05نبی کریم علیہ السلام کے اپنے ہی
02:07ایک مبارک کول کا مفہوم یہ ہے
02:09کہ میری طرف سے پہنچا دو
02:11چاہے کوئی تھوڑی سی چیز ہی کیوں نہ ہو
02:14تو یہ فریضہ جو ہے
02:15یہ ایک عام مسلمان پر بھی فرض ہے
02:17اور ہمیں ان فرائز سے
02:19اہدہ برا کیسے ہونا ہے
02:21دعوت و تبلیغ کا منحاج کیا ہونا چاہیے
02:24اس کا طریقہ کیا ہونا چاہیے
02:26اس کی حکمتیں کیا ہیں
02:27وہ کون کون سے پیرامیٹرز ہیں
02:29جو پیش نظر رکھنے چاہیے
02:31اس اہم ترین کام کو سر انجام دینے کے لیے
02:35یہ سارے ملتے جلتے موضوعات ہوں گے
02:37ہمارے آج کے ٹوپک کا اہاتہ کرتے ہوئے
02:40دعوت و تبلیغ کیا ہے
02:42آج ہم سمجھیں گے
02:43اور ہمیں سمجھانے کے لیے
02:46ہماری معلومات میں اضافہ کرنے کے لیے
02:47اور روشنی کی اس ترسیل میں
02:49آج جو دو سکولرز ہمارا وسیلہ ہیں
02:52میں سب سے پہلے
02:54ان میں سے ایک بڑی باوقار شخصیت
02:57خانوادہ رسالت سے ان کا تعلق
02:59اور نقش بندیوں کے عظیم اور فیض رسان آستانہ
03:03آستانہ آلیہ چورہ شریف سے
03:05آپ کی نسبتیں میری مراد ہے
03:07جنابِ ڈاکٹر سید نوید جلانی
03:09سلام علیکم
03:10وآلیکم السلام
03:11ڈاکٹر صاحب خوش آمدید جناب
03:13بہت شکریہ
03:14اور تازہ تازہ جو خیرات
03:15ہرمین شریفین سے آپ سمیٹ کے آئے
03:17اس کی الگ سے مبارک بار
03:18خیر بارک بہت شکریہ
03:19دوسری شخصیت
03:20گیریون یونیورسٹی لاہور سے
03:22درس و تدریس اور تعلیم و تعلیم کی دنیا کا
03:25ایک بڑا باوقار نام
03:26سینکڑوں نشستوں میں
03:28ان کے ذریعے نہائیت
03:29قیمتی ترین پیغامات
03:31ہمارے ایئر وائکو ٹی وی کے ناظرین
03:33تک پہنچ چکے ہیں
03:34میری مراد
03:34جنابِ ڈاکٹر ایفان اللہ سیفی سے ہے
03:36السلام علیکم
03:37ڈاکٹر صاحب خوش آمدید
03:39تشریف آبری کا بہت شکریہ
03:40آئیے آج کی گفتگو
03:42کائے ہاتھا کرتے ہیں
03:43سوالاً جواباً
03:45معلومات کو آپ تک پہنچانے کی
03:47صحیح کرتے ہیں
03:48میں سب سے پہلے
03:49گزارش کر رہا ہوں
03:50جنابِ ڈاکٹر سید نبید جلانی صاحب سے
03:52انہی سے گفتگو
03:53ہم شروع کریں گے
03:54ڈاکٹر صاحب
03:54انبیاء کا
03:55ظاہر ہے جو سب سے پہلا
03:57جو گروہ ہے
03:58وہ قدسی گروہ
03:59جس نے سب سے پہلے
04:00اللہ کا پیغام
04:01اس کی مخلوق تک پہنچایا
04:02وہ اللہ کے نبی ہیں
04:03حضرتِ آدم علیہ السلام سے لے کر
04:05ہمارے کریم آقا تک
04:06یہ صلی اللہ علیہ
04:07کی صورت میں
04:08ہم تک پہنچا ہے
04:09تو سب سے پہلے
04:10آپ ہمیں اگاہ فرمائیے
04:11کہ جو انبیاء کرام علیہ السلام کا
04:13منحجِ تبلیغ ہے
04:14اس کی جو نمائن ترین
04:16جو خصوصیات ہیں
04:18جو کریکٹرسٹکس ہیں
04:19وہ کیا ہیں
04:20ہمیں یہ نکات کی صورت میں
04:22آپ بیان کر رہے ہیں
04:22بسم اللہ الرحمن الرحیم
04:23بہت شکریہ محسن صفدر بھائی
04:26ایک خوبصورت موضوع کو
04:27لے کر آپ نے
04:28آج
04:30موقع دیا گفتگو کرنے کا
04:32اللہ تعالیٰ ہمیں
04:33اس طرح
04:34تبلیغ پر کام کرنے کی
04:36توفیقِ رفیق
04:37عطا فرمائے
04:39اللہ رب العزت نے
04:40ایک لاکھ چوبیس ہزار
04:42کم و بیش
04:42انبیاء اور مرسلین
04:44کو تائنات فرمایا
04:45انبیاء علیہ السلام کی
04:48منحجِ تبلیغ کا جو
04:50سلسلہ تھا
04:51سب سے پہلے تو
04:52دعوتِ تبلیغ دینا
04:53بلکل ٹھیک
04:54صورت نحل کے اندر
04:55اللہ رب العزت
04:56اشارت فرماتا ہے
04:57بے شک میری ترب بلاؤ
05:02کرو
05:02اور خواہ تمہیں
05:03لوگوں کے ساتھ
05:04بحث بھی کرنا پڑے
05:06تو نرمی کے ساتھ
05:07بات کرو
05:08اللہ حرکت
05:08انبیاء علیہ السلام
05:10جب دعوتِ تبلیغ
05:12کے لیے نکلتے
05:13دعوتِ تبلیغ دیتے
05:14تو سب سے پہلے
05:15حکمتِ عملی
05:16کو اپناتے
05:19محصر گفتگو کرتے
05:20اپنے اخلاق
05:22کو پیش کرتے
05:23اپنے کردار
05:24کو پیش کرتے
05:25اور اخلاق بھی
05:26وہ جو اخلاقِ حسنہ ہو
05:27اس کو پیش کرتے
05:28آقا علیہ السلام
05:30صلی اللہ علیہ السلام
05:31کے متلک
05:32حضور کا ایسا اخلاق ہے
05:34کہ اپنے تو
05:34اپنے بیگانے بھی
05:36اس کو تسلیم کرتے
05:37تمام کے تمام
05:38اس چیز کو مانتے
05:39بلا شبہ
05:39اور انبیاء علیہ السلام
05:41کی دعوتِ تبلیغ
05:42کا یہ بھی طریقہ ہے
05:43کہ ان کے
05:44کول اور فیل
05:45کے اندر تضاد نہ ہوتا
05:47وہ جو کہہ رہے ہوتے
05:49وہ وہی کر رہے ہوتے
05:50ان کے کول اور فیل
05:51میں قطن تضاد نہ ہوتا
05:52سب سے پہلے تو یہ
05:54کہ وہ توحید کے
05:55اوپر گفتگو کرتے
05:56کہ لوگوں
05:57اللہ ایک ہے
05:57اللہ نے سورہ نحل
05:58کے اندر فرمایا
05:59کہ لوگوں کو
06:00میری طرف بلاؤ
06:01ہمیشہ وہ لوگوں
06:02کو اللہ کی طرف بلاتے
06:04اور اپنے نبی
06:05ہونے کا دعویٰ کرتے
06:06یاد رکھے کہ
06:07آقا علیہ السلام
06:08صلی اللہ علیہ وسلم
06:09مسلم کے اندر
06:09حدیث پاک ہے
06:10ایک صحابی آقا علیہ
06:11صلی اللہ علیہ السلام
06:12کی بارگاہ کے اندر
06:13حاضر ہوا
06:13اس نے ارز کے آقا
06:15مجھے اپنی بارگاہ میں
06:16سجدہ کرنے کی
06:17اجازت دیجئے
06:18سرکار نے فرمایا
06:19سجدہ صرف
06:20خالق کو زیب دیتا ہے
06:21مخلوق کو نہیں
06:22عابد کو
06:23سجدہ نہیں کیا جاتا
06:24ہمیشہ رب کو
06:25سجدہ کیا جاتا ہے
06:26حضور نے فرمایا
06:27اگر میں
06:28اپنی امت میں
06:29کسی کو سجدہ
06:30کرنے کا حکم دیتا
06:31تو عورت کو دیتا
06:32کہ وہ اپنے شہر
06:33کو سجدہ کر سکتی
06:34تو آقا علیہ السلام
06:35تو سب سے پہلے
06:36انبیاء مرسلین
06:37جو ہیں وہ
06:38اللہ رب العزت کی
06:40توحید پر
06:41عمل کرنے کی
06:42سختی سے
06:43جو ہے وہ
06:44نصیت فرماتے
06:45کہ اللہ کو
06:45اللہ ایک ہے
06:46اس کی وحدنیت
06:47کو مانو
06:48اس کی توحید
06:49پر ایمان لے کر آو
06:51اس کی عبادت کرو
06:52اس کے بعد
06:53انبیاء اور مرسلین
06:55واضح نصیت کے ذریعے
06:56لوگوں کو
06:57جو ہے وہ
06:58اللہ کی طرف بولاتے
06:59کبھی
07:00کسی عام مجمع کے اندر
07:02کبھی کسی خاص مجمع کے اندر
07:04اللہ رب العزت
07:05کی وحدنیت
07:06کا اعلان کرتے
07:07تیسی بات
07:08اخلاق حسنہ پر
07:09زور دیتے
07:11چوتھی بات
07:12اپنے کردار
07:12کو پیش کرتے
07:13آقا علیہ السلام
07:15صلی اللہ علیہ وسلم
07:16نے
07:1623 سال کے قریب
07:18دعوت تبلیغ
07:20کا کام کیا
07:21درست ہے
07:21کم و بیش
07:22اور اس پورے
07:2323 سال کے اندر
07:24آقا علیہ السلام
07:24نے ہمیشہ
07:25لوگوں کو
07:27اللہ کی وحدنیت
07:28کی طرف راگب کیا
07:32اخلاق کریمانہ
07:33کو مانا کرتے تھے
07:34سورہ نحل
07:35کے ایک دوسری آیت
07:36کی مطابق
07:37اللہ رب العزت
07:38نے ارشاد فرمایا
07:38لوگوں کو میری طرف
07:39بلاؤ لیکن
07:40ان کے ساتھ
07:41جھگڑا نہ کرو
07:42ان کے ساتھ
07:43ہمیشہ محبت
07:44کے ساتھ پیش آؤ
07:45تمام انبیاء
07:46کا یہ طریقہ
07:47کار رہا ہے
07:47کہ ہمیشہ
07:48لوگوں کو
07:49محبت کے ساتھ
07:50اللہ رب العزت
07:51کے دین کی طرف
07:52بلائے کرتے تھے
07:53بہت خوبصورت
07:54آغاز آپ نے
07:54فرما دیا
07:55بات آگے
07:56بڑھانے کے لیے
07:56ایک اچھا
07:57پلائٹ فارم
07:58ہمیں مجسر آ گیا
07:59ڈاکس اب کی بلا
08:01حضور علیہ السلام
08:02کی اگر حکمت
08:03عملیوں کی بات
08:03کی جائے
08:04جس طرح
08:04ڈاکس اب نے
08:04آغاز کیا
08:05تو ہم بنیادی طور پر
08:06اسے دو عدوار
08:07میں تقسیم کر سکتے ہیں
08:08جو پہلا دور ہے
08:09وہ ظاہر ہے
08:10مکہ کی زندگی
08:11کا دور ہے
08:12جو مکی دور
08:12آپ کا کہلاتا ہے
08:14یقیناً
08:15اس دور کے
08:15تقاضے اور ہیں
08:16یہاں مسائل اور ہیں
08:17مسائب اور ہیں
08:18ذمہ داریاں
08:19چیلنجز
08:20وہ ڈیفرنٹ ہیں
08:21تو مکی زندگی میں
08:22جو سٹیٹیجی
08:23رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
08:24نے جس پر
08:25ہمیشہ عمل فرمایا
08:25وہ حکمت عملی
08:27جو ہے
08:27وہ کیا ہے
08:28اس کے ہمیں
08:30کچھ گرہیں کھولیے
08:31تاکہ اس کی روشنی
08:32ہم تک
08:32اور پھر ناظرین تک پہنچیں
08:34بہت شکریہ
08:35جزاکم اللہ خیرہ
08:36نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
08:38کی دعوت کا آغاز
08:40مکی دور میں ہوتا ہے
08:41درست
08:41اور آپ نے
08:43سب سے قبل
08:44جو آغاز فرمایا
08:45وہ اپنے گھر سے فرمایا
08:47اللہ تبارک و تعالیٰ نے
08:48جب حکم دیا
08:49کہ آپ
08:49اعلان نبوت فرمائیے
08:50تو
08:51اعلان نبوت فرمانے کے بعد
08:53جب
08:54سب سے پہلا حکم ہوا
08:55وہ کیا تھا
08:58اور لوگوں کو ڈرائیے
09:01اور وہ ڈرانے کا جو مرحلہ
09:02آغاز میں
09:03جب شروع ہوتا ہے
09:04تو اس کا
09:06حکم کیا تھا
09:09پہلے آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے
09:12اپنے قریبی رشتہ داروں تک یہ پیغام پہنچائیے
09:14تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
09:16نے یہ آغاز فرمایا
09:18اب
09:19دوسرا جو ایک اہم پہلو ہوتا ہے
09:22کسی بھی مبلک کے لیے
09:23وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
09:25کی اس حکمت عملی سے
09:26اور آپ کی سیرت تطیبہ سے
09:28ہمارے لئے بہت خوبصورتی سے
09:29ہماری تعلیم اور ہماری تربیت کرتا ہے
09:32حضور علیہ السلام نے
09:34سب سے پہلے جب لوگوں کو دعوت دی
09:36تو آپ نے کیا فرمایا
09:37فَقَدْ لَبِسْتُ فِيكُمْ عُمُرًا مِّن قَبْلِهِ اَفَلَا تَقِبْ
09:40میں نے عمر کے چالیس سال
09:42تمہارے اندر بسر کیا
09:43کیا پھر بھی تمہیں اس بات کی سمجھ نہیں آ رہی
09:46تو حضور علیہ السلام کی
09:48حکمت عملی تبلیغ کے حوالے سے
09:49جو دوسری تھی وہ اپنا کردار پیش کرنا تھا
09:52جس کی طرف شاہ صاحب نے اشارہ کیا
09:54کہ اپنے کردار کو
09:56حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش فرمایا
09:58اور وہ تو کہ کوئی شخص بھی
10:00حضور کے کردار کی طرف کے انگلی بھی نہیں اٹھا سکتا
10:02آپ کا کردار بلکل
10:04بے عیب اور ہر طرقات سے بے داگ تھا
10:07تیسری چیز
10:08جو قرآن مجید نے جس کی طرف
10:11اشارہ کیا
10:12بلکہ حکم دیا حضور علیہ السلام کو
10:14ادعو الہ سبیل ربک بالحکمت
10:17والموعزت الحسنت
10:18وجادلہم باللتیہ احسن
10:20یہ تین چیزیں ہیں تین مرحلیں
10:22حکمت کے ساتھ
10:24وعظ حسنہ کے ساتھ
10:26اور اگر کسی کے ساتھ مباحثہ کرنا پڑے
10:29مجادلے کی بباری آئے
10:30تو وہاں بھی حسن کا ذکر کیا گیا ہے
10:33یعنی وہ بھی
10:35حسن نہیں ہونا چاہیے
10:36وہ بھی حسن کے ساتھ ہونا چاہیے
10:38بظاہر ایک طرح کی رڑائی بھی ہے
10:39ایک طرح کی سٹرگل ہے
10:40لیکن اس میں بھی حسن ہے
10:42اور پھر آپ دیکھئے
10:43نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
10:46تبلیغ کے اندر جو چیز
10:48بہت زیادہ آپ نے پیشے نظر رکھی
10:51وہ حضور کی نرمی تھی
10:52حضور کی شفقت تھی
10:53حضور کی محبت تھی
10:55میں قرآن مجید کی تفسیر پڑھ رہا تھا
10:58سورہ رحمان کا
10:59آغاز ہوتا ہے نا سفدر بھائی
11:00الرحمان علم القرآن
11:03خلق الانسان علمہ البیان
11:05صحیح
11:06رحمان کی ذات وہ ہے
11:07جس نے قرآن سکھایا
11:08اور سب سے پہلے ظاہر بات ہے
11:10نبی کریم صلی اللہ علمہ وسلم کو قرآن سکھایا
11:12اور آگے فرمائے علمہ البیان
11:14بیان بھی اللہ تعالی نے سکھایا
11:15تو تبلیغ کا جو مرحلہ ہوتا ہے
11:18وہ بیان کے ساتھ
11:18اس کا ایک بڑا اہم تعلق ہوتا ہے
11:20تو آپ دیکھئے کہ
11:22بیان سکھانے کا جہاں پر ذکر کیا گیا
11:24کہ آپ بیان کریں
11:25اور آپ کو بیان سکھایا گیا ہے
11:27آغاز اللہ نے الرحمان کی صفت کے ساتھ فرمایا
11:29یعنی آپ کے اس بیان کے اندر رحمت جلکنی چاہیے
11:34یہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو
11:35رحمت اللہ العالمین کا جو
11:36اللہ تعالی نے کرم اور فضل فرمایا ہے
11:39اسی وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
11:41کو رشاد فرمایا گیا
11:42فَبِمَا رَحْمَتِم مِنَ اللَّهِ لِنْتَ لَهُمْ
11:48اللہ کا یہ آپ پر کرم اور فضل ہے
11:50کہ آپ کو رحیم و شفیق بنایا گیا
11:52اور اگر آپ سخت ہوتے
11:54تو یہ جو آپ کے ساتھ دیوانی ارد گرد ہیں
11:56یہ بھاگ جاتے
11:57یعنی وہ زمانے کی سختیاں تو پہلے جھیل رہے تھے
12:00مسیبتیں اور آفات و بلیات
12:03زمانے کے لوگوں کی بھی
12:04اور زمانے کی بھی
12:05وہ تو پہلے برداشت کر رہے تھے
12:07ان کو چاہیے تھا
12:08کہ ان کے زخم پر کوئی مرہم رکھنے والا ملے
12:10درست
12:11ان کی دکھوں کا مداوہ کرنے والا ملے
12:13اور جب انہوں نے دیکھا
12:14کہ یہاں تو رحمت اللہ العالمینی کی وسط
12:16اور حضور کا دامن کرم
12:18اتنا وسیع ہے
12:18کہ جو بھی پاس آتا ہے
12:19تو پاس ہی آتا چلا جاتا ہے
12:21پھر وہ کہیں جا نہیں سکتا
12:22تو وہ پھر آتے گئے
12:23آتے گئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب
12:25اور پھر جو بھی ایک مرتبہ
12:27لا الہی اللہ محمد الرسول اللہ پڑھتا ہے
12:29پھر ایسا غلام بنتا ہے
12:32پتھر بھی ساتا ہے
12:33اور وہ تبتی ہوئی ریت پر بھی لیڑ جاتا ہے
12:36لیکن لا الہی اللہ محمد الرسول اللہ
12:38چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوتا
12:40تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے
12:41پوری تبلیغ کے اندر یہ جو مراحل ہیں
12:43یہ جو حکمت عملی ہے
12:45اس کے پیش نظر رکھ کے
12:46تدریج ایک اہم پہلو
12:48سٹیپ بے سٹیپ
12:49سٹیپ بے سٹیپ
12:49یک دم احکام کو نافذ نہیں کر دیا گیا
12:51بلکہ تدریجاً جو ہے وہ
12:54مختلف چیزیں نافذ کی گئے
12:56شراب کے حرام ہونے کا حکم ہوا
12:57یک دم نہیں کیا گیا
12:58نماز فرض کی گئے
12:59یک دم نہیں کی گئے
13:00بلکہ مرحلہ وار ساری چیزیں کی گئے
13:02تو تبلیغ کے اندر یہ بھی ایک اہم پہلو تھا
13:04جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش نظر رکھ
13:06بہت خوبصورت گفتگو کا آغاز
13:08اور اس کے بعد
13:09بہت عالی طریق سے بات آگے بڑھائی ہے
13:11اور جہاں بات ختم کی ہے
13:13ڈاک صاحب نے وہ مرحلہ بڑا سمجھنے والا ہے
13:15ہم میں سے زیادہ ترکی بشمول
13:17ہم سب کے
13:17ہماری عادت ہوتی ہے
13:18کہ ایک ہی رات میں جو ہے
13:19وہ انقلاب برپا کر دیا جائے
13:21ہتھیلی پہ سرسوں جماع دی جائے
13:23اور ریزلٹس جو ہیں
13:24وہ اپنے احکامات سے
13:26اور اپنے فرمودات سے پہلے
13:27ہم اپنے سامنے کنفارم کرنا چاہتے ہیں
13:30یہ عادت جو ہے
13:31اور یہ جو طریق ہے
13:32اور یہ جو منحج ہے
13:33یہ سارا سار خلاف سیرت ہے
13:35حضور علیہ السلام کی زندگی
13:37ہمیں یہ سبق دیتی ہے
13:38آپ کی مبارک جو تبلیغ ہے
13:40جو دعوت کا انداز ہے
13:41وہ یہ سبق دیتا ہے
13:43کہ ایک ایک کر کے
13:44آہستہ آہستہ لوگوں کو
13:45پٹڑی پر چڑھاتے جاؤ
13:46پھر وہ چیزیں پختہ بھی ہوتی جائیں گی
13:48اور ان کی زندگی کا
13:50مستقل حصہ بھی بنتی جائیں گی
13:52پروگرام میں ایک مختصر سا وقفہ
13:53واپس آتے ہیں
13:54تو حضور علیہ السلام کی
13:55مدنی دور کی جو
13:56جو تبلیغ ہے
13:57اس کا جو انداز ہے
13:58اس کے رموز
13:59ہم سمجھنے کی کوشش کریں گے
14:03جی ناظرین
14:04خوش آمدید
14:05آپ کا ایک دفعہ پھر
14:06خیر مقدم ہے
14:07پروگرام روشنی سب کے لیے
14:08ایئر وائی کیو ٹی بی پر
14:09ہفتہ وار
14:10روشنی پھیلانے کا
14:11وصول کرنے کا
14:12اور اس سے اپنی زندگیاں
14:14اجالنے کا
14:15یہ سلسلہ ہے
14:16آج کا ہمارا ٹوپک ہے
14:17دعوت و تبلیغ
14:19اور یہ بڑا اہم
14:21ترین ٹوپک ہے
14:22یہ عنوان
14:23یہ کام
14:24بڑا سعادت مند
14:26لوگوں کا حصہ ہے
14:27گفتگو کے پہلے حصے میں
14:28آپ نے دونوں باتیں
14:30دونوں سکالر سے سمات کی
14:31اب ہم بڑھ رہے ہیں
14:32حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
14:36کے مدنی دور کی
14:37جو انداز تبلیغ ہے
14:39اس میں حکمتیں کیا تھی
14:41اس کا طریقہ کار کیا تھا
14:42وہاں ریکوائرمنٹس کیا کیا تھی
14:44یہ ہم جانیں گے
14:45جنابِ ڈاکٹر سید نبیر جلانی صاحب سے
14:48مدنی دور
14:49ہجرت کے بعد
14:50آقا علیہ السلام
14:52جب مدینہ منورہ تشریف لے کر آئے
14:54تو اب
14:56آقا علیہ السلام نے
14:57جو محایدے فرمائے
14:59میری نظر سے یہ سات نقاط گزرے
15:01ویسے تو اس کے بے شمار نقاط ہوں گے
15:03لیکن میری نظر سے سات نکتے گزرے
15:06اب یہ صرف فقط
15:08مکہ شریف یا مدینہ شریف تک محدود نہ رہا
15:10بلکہ اس کے اندر نئی جدت آئی
15:13آقا علیہ السلام نے اب یہ زبانی کلامی نہیں
15:16بلکہ ایک اسلامی
15:19ریاست کی بنیاد
15:20آقا علیہ السلام صلی اللہ علیہ وسلم
15:22نے اس کی بنیاد کو ڈالا
15:24سب سے پہلے تو یہ
15:26آقا علیہ السلام نے
15:27مسجد اور مراکز کی تعمیر
15:30بنانے کا حکم ارشاد فرمایا
15:32اب یہ جو مسجدیں ہیں
15:34صرف مسجدیں نہ رہی
15:35بلکہ آقا علیہ السلام صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے
15:38یہ دعوتِ تبلیغ کا بھی
15:40ایک ذریعہ بنی
15:42دوسرا آقا علیہ السلام نے
15:44وفود کی آمد کا سلسلہ ہوا
15:46حضور نے سب سے پہلے
15:48اپنے اخلاق کو پیش کیا
15:50سرکار کے اخلاق کو دیکھ کر
15:52اب وفود کا سلسلہ جاری ہو گیا
15:54ہر آنے والے کو آقا علیہ السلام
15:56اچھے انداز سے ملتے
15:57جب بھی کسی بادشاہ کا وفد آتا
16:00آقا علیہ السلام کی بارگاہ میں
16:01حضور اس کے سامنے اپنے اخلاق کریمہ کو پیش کرتے
16:04وہ حضور کے اخلاق کریمہ کو دیکھ کر
16:07آقا علیہ السلام کا ایسا غلام ہوتا
16:09کہ سرکار صلی اللہ علیہ السلام کا
16:10کلمہ پڑھ کر وہاں سے اٹھتا
16:12مسلی زیادہ تر ایسا ہوا تیسرا
16:14آقا علیہ السلام نے خطوط کے ذریعے
16:17لوگوں کو دین کی دعوت دی
16:19بہت سارے بادشاہوں کو
16:21آقا علیہ السلام نے دعوت دی
16:22جو تھی آقا علیہ السلام نے
16:24اپنے نمائندے بھیج کر
16:26اپنا پیغام لوگوں کے پاس
16:29بھیج کر ان کو طلب کیا
16:31کسی کے پاس خود جا کر
16:32کسی کو خط لکھ کر
16:33آقا علیہ السلام صلی اللہ علیہ السلام
16:36نے لوگوں کو دین کی دعوت کا
16:39ذریعہ آقا علیہ السلام
16:41آقا علیہ السلام نے
16:42لوگوں کے پاس جا کر
16:44لوگوں کو اپنے پاس بلا کر
16:47کبھی کسی کو خط بھیجا
16:48کسی کے پاس پیغام بھیجا کہیں
16:50خود جا کر آقا علیہ السلام نے
16:51ان کو دین کی دعوت دی
16:53پانچوں آقا علیہ السلام نے
16:55مساق مدینہ کے نام سے
16:57ایک مہائدہ تیہ فرمایا
16:59انسار کو مہاجرین کا اور مہاجرین کو
17:01انسار کا بھائی بنایا اور آقا علیہ السلام نے فرمایا
17:04کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر
17:08کوئی فوقیت حاصل نہیں ہے
17:10یہ تمام تر محسن صفدر بھائی وہ باتیں ہیں
17:13کہ جو احادیثِ قدسیہ سے اور سیرت کی کتابوں سے
17:16ہمیں یہ نقائد ملتے ہیں نکتے ملتے ہیں
17:19کہ آقا علیہ السلام نے مدنی دور کے اندر
17:21کس طرح لوگوں کے دلوں کے اوپر راج فرمایا
17:24ویسے تو آقا علیہ السلام مکی دور کے اندر بھی
17:26لوگوں کے دلوں پر راج فرماتے ہیں
17:27آقا علیہ السلام سب سے بڑھ کر بات یہ
17:29جب میں یہاں ٹیلیویزن پر آ رہا تھا
17:31اور راستے میں میں نے کچھ کتابوں کو دیکھا
17:33تو مدنی دور کے اندر جو سب سے زیادہ بات
17:36سامنے آ رہی تھی وہ ایک ہی تھی
17:38کہ آقا علیہ السلام سب کے سامنے
17:40اپنی اخلاق کو پیش کر رہے تھے
17:42ہمیشہ آقا علیہ السلام نے دشمنوں کو بھی دعائیں دی
17:45اپنوں کو بھی دعائیں دی
17:46آقا علیہ السلام نے سب کے ساتھ
17:48بھلا کر کے دکھایا
17:50حضور نے یہ اپنی مثال
17:52لوگوں کے سامنے پیش کی
17:53کہ جب بھی کوئی آئے
17:54اس کو انتہائی محبت کے ساتھ نواز آ جائے
17:56بہت شکریہ شاہ جی
17:57ڈاکسر میں چاہتا ہوں کہ اس بات کو
17:59تھوڑا سا مزید ہم آگے چلائیں
18:00مدنی دور
18:01کیونکہ اسلامی تاریخ کا انتہائی
18:04سنہرہ ترین دور ہے
18:05اور اس سے حسین دور
18:09شاید آج کے دن تک
18:10بنین و انسان نے
18:12ان دس سالوں سے بہترین سال کبھی
18:14دنیا نے
18:15اور چشم فلک نے کبھی
18:16اس کا نظارہ کیا نہیں ہے
18:18تو میں چاہتا ہوں کہ
18:19جو مدنی دور کا دعوت و تبلیغ کا انداز ہے
18:21ہمارے کریم آقا صلی اللہ علیہ وسلم
18:23کا اس بات میں کچھ مزید اضافہ فرمائے جائے
18:25جی
18:26مدنی دور کے جو
18:28دس سال کا جو عرصہ ہے
18:29اس دس سالہ عرصے میں
18:31سلطنت اسلامیہ کی بنیادیں
18:34اصل میں یہاں سے مضبوط ہوئی
18:35اگرید
18:36سٹیٹ یہاں سے بنی
18:37یہاں سے بنی
18:38جس کی طرف شاہ صاحب نے بھی اشارہ کیا
18:41یہاں پر احکام کو بقاعدہ طور پر نافذ کیا گیا ہے
18:44تنفیذ احکام کے حوالے سے
18:46عملی طور پر جدو جہود ہوئی
18:49اور پھر اس میں یہاں پر جو ہے وہ پھر تلوار بھی نکالی گئی
18:52اور جہاد بھی ہوئے ہیں غزوہ بدر سے لے کر
18:55آن ورڈ تک جتنے بھی
18:56جہاد بالکتال سارے
19:00سارے جو ہے نا وہ
19:02پہلے تو جو مکی دور تھا اس میں نرمی
19:05اور اس کے اندر جو ہے وہ
19:06ہر طرح کی دکھ اور پریشانیوں برداشت کرنے کی تلقین گئے
19:11کہ صبر اور حوصلہ
19:12اب جب کہ وہ باز نہیں آئے
19:14تو پھر یہاں پر حکم دیا گیا
19:16کہ اب اگر جو ہے وہ
19:17آتے ہیں عمل آور ہوتے ہیں
19:20اور اگر اسلام کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں
19:22تو بزور بازو پھر اس کو روکا جائے
19:24تو ایک حکمتی عملی یہاں
19:26جہاد کی بھی ہمیں نظر آتی ہے
19:29پھر آپ دیکھئے کہ زکاة کا بقاعدہ حکم
19:32وہ بھی یہاں پر ہوتا ہے
19:34روزے کا بقاعدہ حکم
19:36وہ بھی مدینہ طیبہ میں ہوتا ہے
19:39جو
19:41زکاة کے ساتھ
19:42ست اشر کا حکم ہے وہ بھی مدینہ طیبہ میں
19:44حج کا حکم جو ہے آخر میں جا کے
19:46وہ بھی مدینہ طیبہ میں ہوتا ہے
19:47یہ سارے کے سارے احکام جو ہے وہ مدینہ طیبہ میں ہوتے ہیں
19:50پھر یہاں پر جو ہے وہ چیزیں
19:52مزید جو ہے وہ پھیلنا شروع ہی ہیں
19:53Nabi Kareem sallallahu alayhi wa sallam
19:55نے اپنے جو شگردان رشید
19:57جن کی تربیت کی تھی
19:58اب ان کو وفود کی صورت میں
20:00مختلف قبائل کی طرف بھیجا گیا
20:01تاکہ وہ وہاں پر جا کے تبلیغ کر
20:03اور یہاں میں آپ کو یہ بھی
20:05ارز کرتا چلوں
20:06کہ اس مرحلے میں
20:08بہت سارا نقصان بھی اٹھانا پڑا
20:11کئی مرتبہ ایسا ہوا
20:12کہ ان کے ساتھ بہت
20:14misbehave کیا گیا
20:15بلکہ ایک جگہ پر
20:17حضور صلی اللہ علیہ وسلم
20:18نے اپنے ساتھیوں کو بیجا
20:19تو ان کو شہید کر دیا گیا
20:20صرف دو یا تین لوگ
20:22بچے باقی سب کے سب شہید ہو گئے
20:24لیکن اسلام کی یہ تبلیغ
20:26دعوت کا جو سسٹم تھا
20:28نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
20:29نے اس کو پھیلانا شروع کیا
20:31اور پھر یہ صرف حجاز تک
20:33محدود نہیں رہا
20:34بلکہ یہ سرحدوں سے بھی باہر نکلا
20:36اور حضور علیہ السلام نے
20:37اس حوالے سے حکمت عملی ایک
20:40اور یہ اختیار کی
20:41کہ آپ نے مختلف صحابہ کی
20:45زبانیں سیکھیں
20:46آپ نے ان کی تربیت کی
20:47اور ان کو زبانیں سکھائیں
20:49تاکہ وہ سریانی زبان
20:51اور دیگر عبرانی زبان
20:52اور دیگر زبانیں سیکھ کر
20:53وہاں تک لوگوں تک
20:54جو ہے اسلام کا پیغام پہنچائیں
20:55نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
20:57نے جو قرآن مجید
20:58مختلف جگہوں پر لکھوایا تھا
21:00وہ بقاعدہ جو ہے
21:02وہ لوگوں کو سکھایا جاتا
21:03اور پھر آگے پہنچایا جاتا
21:05اچھا ایک اس کا ایک پہلو یہ بھی تھا
21:07کہ صفحہ کے چبوترے پر
21:08جو حضور کے شگردان رشید
21:10تیار ہو رہے تھے
21:10حضور علیہ الصلاة والسلام
21:12کچھ لوگ تو وہ تھے
21:13یوں بقاعدہ وہیں رہتے تھے
21:14حضرت ابو حرارہ رضی اللہ تعالیٰ
21:16جیسے اور حضرت عبداللہ بن مسعود
21:18عبداللہ بن عمر جیسے
21:19وہ تو وہیں رہتے تھے
21:20لیکن کچھ ایسے ہوتے تھے
21:21کہ مختلف قبائل سے آتے
21:22چند روز حضور کی خدمت میں گزارتے
21:24حضور ان کی تربیت فرماتے
21:26ان کو سکھاتے
21:27اور پھر ان کو حکم دیتے
21:28کہ اب آپ اپنے قبیلے میں جائے
21:30اور وہاں پر جا کے
21:31آپ تبلیغ کا فریضہ سر انجام دے
21:33اچھا اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم
21:35نے جو اہم پہلو پیشے نظر رکھا ہوا تھا
21:38وہ قرآن کی تعلیم
21:40اور اس شخص کی تربیت پر موقوف تھا
21:43اس میں عمر کو نہیں دیکھا گیا
21:44آپ دیکھئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم
21:46کی ایک حدیث ہمیں ملتی ہے
21:47کہ ایک وفد آیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم
21:49کی خدمت میں
21:50حضور علیہ السلام نے چند روز
21:51وہ رہا ان کی تربیت کی
21:52پھر حضور علیہ السلام نے پوچھا
21:54کہ تم میں سے بتائیں
21:55فلان فلان کس کو چیزیں آتی ہیں
21:57قرآن کے حوالے سے
21:58سب سے قرآن زیادہ کس کو آتا ہے
22:00ایک بچہ تھا وہ کہنے لگا
22:01حضور مجھے آتا
22:01اور مجھے سورہ بقرہ ساری کی ساری یاد ہے
22:03حضور علیہ السلام نے فرما
22:05یہ تمہارا امیر ہے
22:06اور اس کو تم پر امیر مقرر کر دیا گیا
22:09یعنی یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اشارہ یہ تھا
22:11کہ تم پر فوقیت اس کو ملے گی
22:14جس کے پاس علم کی فوقیت ہوگی
22:15اور علم زیادہ ہوگا
22:16تو حضور علیہ السلام نے ان کو مبلغ مقرر کیا
22:19اور تبلیغ کا فریضہ ان کو
22:20جو ہے وہ سونپا
22:21اس کا مطلب یہ ہوا
22:22کہ حضور علیہ السلام نے
22:24تعلیم و تربیت کو عام فرمایا
22:25اور لوگوں کو تعلیم و تربیت دے کر
22:27اور خود وہاں پر جو آتے
22:29ان کی عملی تربیت فرما کے
22:31پھر ان کو آگے روانہ کر دیا جاتا
22:32تاکہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام آگے
22:35لوگوں تک پہنچائے
22:36بہت شکریہ ڈاکس صاحب
22:37بڑی نوازش
22:38بہت اچھے طریقے سے بات
22:39آپ نے آگے بڑھائیے
22:40اور شایدی اب
22:42انبیاء اکرام علیہ السلام کا
22:44جو قدسی گروہ ہے
22:45اس کے بعد جو
22:47تبلیغ کی جو آمانت ہے
22:48وہ سب سے پہلے جس گروہ کے پاس آتی ہے
22:50انبیاء کے پاس
22:51وہ اصحاب ہیں
22:52اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم
22:54بشمول اہل بیت
22:55تو یہ جو قدسی گروہ ہے
22:57یہ جو نفوس سے قدسیہ
22:59جتنے عضرت سلام سے خود تربیت کی آفتہ ہیں
23:01رضی اللہ عنہ کی ڈگری والے لوگ ہیں
23:03انہوں نے
23:04کس انداز میں پھر تبلیغ دین کی
23:06جو ہے وہ آگے کی ہے
23:07ان کا طریقہ کار کیسا رہا
23:08کچھ اس بارے میں
23:09کچھ جلگیاں نایت کریں
23:10محسن صفدر بھائی
23:11علیہ السلام صلی اللہ علیہ وسلم
23:13نے اشارت فرمایا
23:14صحابی کا نجون
23:15میرا ہر صحابی آسمان پہ
23:17چمکتے تارے کی مانے دے
23:18اور جیسے کہ آپ نے
23:19خود اشارت فرمایا
23:20رضی اللہ عنہ و رضی اللہ عنہ
23:22کی ڈگری ان کے پاس ہیں
23:23اب انہوں نے
23:24دعوت تبلیغ کو
23:26اس انداز میں پہنچایا
23:27کہ سب سے پہلے
23:28انہوں نے سفر کیے
23:29کریا کریا
23:31بستی بستی جا کر
23:32انہوں نے لوگوں کو
23:33دین کی دعوت کو پیش کیا
23:34اور اپنے اخلاق کو
23:36سب سے پہلے
23:37یاد رکھے گا
23:38انسان کہتا کچھ ہو
23:39کرتا کچھ ہو
23:40یہ بات اس کو زیب نہیں دیتی
23:41انسان جو کہے
23:43اور وہی کرے
23:44اس کے کول اور فیل
23:45کے درتزاد نہ ہو
23:47اس کے اندر صبر
23:48اور استقامت کا جذبہ ہو
23:50اس کے اندر خدمت
23:52خلق کرنے کا جذبہ ہو
23:54اس کے اندر
23:54آقا علیہ السلام کی
23:57صورت
23:57سیرت کو
23:58اپنانے کا پورا جذبہ ہو
24:01تو پھر یقیناً وہ
24:02بندہ کامیاب ہوتا ہے
24:03صحابہ اکبار کا طریقہ
24:05یہی تھا ہمیشہ
24:06کہ وہ آقا علیہ السلام کی
24:07سیرت پر بھی عمل کرتے
24:08حضور کی صورت پر بھی
24:10عمل کرتے
24:11آقا علیہ السلام کی
24:12سیرت کی مطابق
24:13ہر زیادتی کو
24:14وہ برداشت کرتے
24:15میرے محترم بھائی
24:16محمد عرفان اللہ
24:17صحیفی صاحب پر بھی
24:18ارشاد فرما رہے تھے
24:19کہ جن صحابہ
24:20نے صحابہ
24:21صوفہ کی
24:22یونیورسٹی کے اندر
24:23بیٹھ کر
24:23آقا علیہ السلام کی
24:25بارگاہ سے
24:25علم کی خیرات
24:26حاصل کی ہو
24:27انہوں نے صرف
24:28علم کی خیرات
24:29ہی حاصل نہیں کی
24:30بلکہ انہوں نے
24:31زندگی گزارنے کا
24:32بہترین طریقہ بھی
24:33آقا علیہ السلام
24:34صلی اللہ علیہ وسلم
24:35سے سیکھا ہے
24:36ایک مقام
24:37مجھے یاد آتا ہے
24:37کہ کچھ صحابہ
24:38تبلیغ کے لیے
24:40ایک جگہ پہ گئے
24:41انہوں نے
24:41ان لوگوں
24:42نے ان کو
24:42کھانا نہیں دیا
24:43رات ٹھیننے کی
24:44جگہ بھی نہ دی
24:45ان کے امیر
24:46کو رات کو
24:47سانپ نے کٹ لیا
24:48وہ صحابہ کے پاس
24:50آئے اور آ کر
24:50کہا کیا تم
24:51یہ بخاری کے اندر
24:52ہے حدیث سپاہ
24:53کیا تم
24:54کچھ ایسا عمل
24:55جانتے ہو
24:55کہ جس سے
24:56ہمارے امیر
24:57کو شفاہ مل سکے
24:58صحابہ اکبار کے
24:59گروہ میں سے
25:00ایک شخص
25:00ایک صحابی اٹھا
25:01اس نے کہا ہاں
25:02اٹھ کر
25:03آقا علیہ السلام
25:04کے فرمان
25:06میں سے ایک فرمان
25:07تین مرتبہ
25:07صورت فاتحہ پڑھ کر
25:08اس کو دم کیا
25:09اللہ نے اس کو
25:10شفاہ عطا فرما دی
25:11انہوں نے کچھ بکرییاں
25:12اور کچھ مال
25:13اس صحابی کی بارگاہ
25:14میں پیش کیا
25:14وہ صحابی
25:15واپس پلٹے آقا علیہ
25:16صلی اللہ علیہ السلام
25:17کی بارگاہ میں
25:17اور جا کر یہ ساری
25:19بات ارزگی
25:19حضور نے مسکر آ کر
25:20فرمایا جو مال
25:21ملا تھا اس میں سے
25:22مجھے بھی حصہ دے
25:24اب یہ دیکھئے
25:25کہ آقا علیہ السلام
25:26کے طریقے کو
25:27انہوں نے اپناتے ہوئے
25:28سب سے پہلے
25:29یہ بات ایسی نہیں کہتے
25:31کہ سفر وسیلہ زفر ہے
25:32صحابہ اکبار
25:33نے اپنی زندگی کے اندر
25:34بے شمار سفر کیے
25:35آپ دیکھیں
25:36چین کے اندر
25:37صحابہ اکبار موجود ہیں
25:38دبائی کے شہر
25:38علائن کے اندر موجود ہیں
25:39مسکت امان کے اندر
25:40صحابہ اکبار موجود ہیں
25:41ہر صحابی دین کی
25:43تبلیغ کی گرس
25:44اپنے مقام سے نکلا
25:45حضور کی
25:46سب سے پہلے
25:47یونیورسٹی
25:48صحابہ صفحہ
25:49کا جو چھبوترہ تھا
25:50اس چھبوترے پہ
25:51بیٹھ کر آقا علیہ السلام
25:52سے علم حاصل کرنے والی
25:54یہ وہ شخصیات ہیں
25:55جنہوں نے کریا کریا
25:56بستی بستی جا کر
25:58دین کی
25:59تبلیغ کا کام کیا ہے
26:00اور اپنے
26:01میں پھر بار بار
26:02وہی جملہ کہہ رہا ہوں
26:03اپنے اخلاق کو پیش کیا
26:04آقا علیہ السلام
26:05صلی اللہ علیہ السلام
26:06نے سب سے پہلے
26:07اپنی اخلاق کو پیش کیا
26:08حضور نے خود فرمایا تھا نا
26:09کیا تم مجھے
26:10اتنے عرصے سے جانتے ہو
26:11کیا تم نے نہیں دیکھا
26:12مجھے
26:12لوگوں نے کہا
26:13بلکل آپ صادق الامین ہیں
26:14یاد رکھے گا
26:15ہمیشہ کہیں بھی
26:16کوئی کام کرنا پڑے
26:17تو پھر اس کو
26:18اپنا اخلاق ہی پیش کرنا پڑے گا
26:20بہت شکریہ جاری
26:21بڑی نمازش
26:21ہمیں ایک وقفے کی طرف
26:23پڑنا ہے ناظرین
26:23واپس آتے ہیں
26:24تو جنابی ڈاکٹر
26:25عرفان اللہ صحیفی صاحب سے
26:26ایک نہائیت
26:27قیمتی سوال کا جواب جائیں گے
26:28اور یہ جان ہے
26:30ہمارے آج کیس ٹوپک کی
26:31کہ ایک جو پریشر ہے
26:32تبلیغ کرنے والا بندہ ہے
26:34اس کے اندر
26:35کن اوصاف کا ہونا ضروری ہے
26:38جو دعوت تبلیغ
26:39جو ہے
26:39اس کی ذمہ داری نباتا ہے
26:41اور ایک دائی جو ہے
26:43اس کے اندر
26:44کون کونسی
26:44کوالٹیز کا ہونا
26:46کہ ان صفتوں کا ہونا ضروری ہے
26:47اہم ترین بات ہم پوچھیں گے
26:49جب ہم وقفے سے واپس آئیں گے
26:50جنابی ڈاکٹر عرفان اللہ صحیفی صاحب سے
26:52ایک مختصر وقف
26:56خوش آمدید ناظرین
26:57آپ کے ایک دفعہ پھر خیر مقدم ہے
26:59ائر وائی کیو ٹی وی پر
26:59پروگرام روشنی سبت کے لیے
27:01ہمارا آج کا پروگرام
27:02دعوت و تبلیغ کے موضوع کا
27:04انوان کا احطہ کر رہا ہے
27:06پہلے دونوں حصوں میں
27:07بڑی پائیدار
27:08اور بڑی روان گفتگو کے ذریعے
27:10پیغامات آپ کی سماعتوں تک پہنچے
27:12اور یقیناً سماعتوں سے ہوتے ہوتے
27:14دل میں بھی جگہ بنائیں گے
27:15میں وقفے سے پہلے
27:16سوال عرض کر چکا
27:18جنابی ڈاکٹر عرفان اللہ صحیفی صاحب سے
27:20میں آپ سے جواب کی گزارش کروں گا
27:24بسم اللہ الرحمن الرحیم
27:26صفتر بھائی
27:27اصل میں
27:27نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
27:30کا ہر امتی
27:32اور ہر فرد
27:33وہ مبلغ بھی ہے
27:35وہ دائی بھی ہے
27:37اور اسے
27:38ہر وقت
27:39اپنے آپ کو
27:40مبلغ اور دائی سمجھنا بھی چاہیے
27:42اور اس حوالے سے
27:44اس کو
27:45ہومورک بھی کرنا چاہیے
27:46ظاہر بات ہے
27:47کہ کوئی بھی شخص
27:48جب کوئی کام کرتا ہے
27:50تو اس کے لیے
27:51پراپر تیاری کرتا ہے
27:53تبلیغ کا جو فریضہ ہے
27:55خاص طور پر
27:56جو باقاعدہ مبلغ ہیں
27:57ان کے لیے
27:59چند ایک چیزیں
28:00بہت زیادہ ضروری ہیں
28:01سب سے پہلی تو
28:02جو چیز ہے وہ علم کا ہونا ضروری ہے
28:04بہت حالا
28:05اگر آپ کے پاس علم نہیں ہوگا
28:07تو آپ کسی کی
28:08اصلاح نہیں کر سکتے
28:09کسی کو سمجھا نہیں سکتے
28:10کسی کو بتا نہیں سکتے
28:11بہترین بات
28:12اس وجہ سے
28:13جو میں نے آیہ مقدسہ
28:14پچھلے جواب میں ارز کی تھی
28:16الرحمن و علم القرآن
28:19تو قرآن کے سکھانے کا پہلے ذکر ہے
28:21و علمہ البیان
28:22بیان کو سکھانے کا بعد میں ذکر ہے
28:24تو علم کا پہلے ذکر ہے
28:25بیان بعد میں
28:30اس لیے
28:31سب سے پہلے بنیادی معلومات
28:33ہونا ضروری ہے
28:33اس وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
28:35جس حدیث کی طرف
28:37آپ نے انٹرو میں اشارہ کیا تھا
28:38بلگو عنی ولو آیا
28:40بلکل صحیح
28:41میری طرف سے پہنچا دو
28:42اگرچہ ایک آیت بھی ہو
28:43سوزار بات ہے
28:43آدمی پاس آیت کا علم ہوگا
28:45تو پہنچائے گا
28:46تو پہلی بات علم
28:47دوسری بات
28:48اس میں مبلک کے لیے
28:50اخلاص کا ہونا بہت زیادہ ضروری ہے
28:52کیونکہ بے اخلاص شخص
28:54وہ کچھ نہیں کر سکتا
28:56کوئی تبلیغ نہیں کر سکتا
28:57نہ ہی کسی کے لیے
28:58کوئی فائدہ مند بات کر سکتا
28:59کیا ہے
28:59خوبصورت پائدار بات
29:00اور اخلاص کا مطلب کیا ہوتا ہے
29:03للہیت
29:03فقط اللہ کی رضا کے لیے
29:05مقصد یہ نہیں ہے
29:06کہ میں بات کو پہنچا رہا ہوں
29:09تو وہ کتنے لوگ مانیں گے
29:10یا نہیں مانیں گے
29:11بہت سارے آدمی کے ذہن میں سوال آتے ہیں
29:13کہ میں بات کروں
29:14پتہ نہیں بات وہ مانیں
29:16کہ نہ مانیں
29:16یہ کسی سے پوچھا ہی نہیں جائے گا
29:19کہ آپ نے سوال کیا
29:20آپ نے لوگوں کو تبلیغ کی
29:22لوگوں سے کہا
29:23تو آپ کی لوگوں کے
29:24کیا مانیں
29:25کتنا مانا
29:25عظم کا کام تو آزان دینا ہے
29:27نماز کے لیے آئے نہ ہے
29:29یہ اس کا دردستہ بھی نہیں ہوتا
29:30مجھے ہے حکمِ آزان
29:30لا الہ
29:32گرچے بتہ ہیں جماعت کی آستینوں میں
29:34مجھے ہے حکمِ آزان
29:35لا الہ
29:35اب دیکھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما
29:37کہ قیامت کے دن
29:38اللہ کی بارگاہ میں جب
29:39مختلف انبیاء اکرام آئیں گے
29:41تو ان میں ایسے نبی بھی ہوں گے
29:42جن کا ماننے والا صرف ایک شخص ہوگا
29:45امت ہی ایک شخص ہوگا
29:47حالانکہ وہ نبی کی زندگی
29:50ناکام تو نہیں رہی
29:51وہ کامیاب ہوئی
29:51تو دوسری بات اخلاص ہے
29:53اور تیسری بات
29:54اس میں اہم ہے
29:56اس میں صبر
29:56حوصلہ و برداشت
29:58یہ بہت زیادہ ضروری ہے
30:07اور بہت ساری چیزیں
30:09آپ کو برداشت کرنا پڑیں گی
30:11لوگوں کے تانے بھی سہنا پڑیں گے
30:13لوگوں کی باتیں بھی برداشت کریں گی
30:14اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی
30:16جو صیرت طیبہ ہے
30:17اس کو پیش نظر رکھنا چاہیے
30:18جو حضور کا مقی دور تھا
30:20نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
30:22کو تکلیفیں بھی دی گئیں
30:23حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر پتھر بھی برسائے گئے
30:25حضور کو پریشان بھی کیا گیا
30:27لیکن حوصلے اور صبر کے ساتھ
30:29حضور علیہ السلام نے اپنا مشن جاری رکھا
30:31تو حضور کی صیرت طیبہ کو
30:33ملہوز خاطر رکھتے ہوئے
30:35اپنا مشن جو ہے وہ جاری رکھیں
30:36اور چوتھی بڑی اہم بات ہے
30:39وہ یہ ہے کہ جو مبلغ ہے
30:41اس کا خود باعمل ہونا بہت زیادہ ضروری ہے
30:43بہت عالی
30:44خود بے عمل ہوگا
30:45تو وہ موثر تبلیغ نہیں کر سکتا
30:48موثر تبدیل اسی وقت ہوگی
30:49کہ جب وہ خود جو ہے
30:51اپنا اس کا کردار
30:53اس کا عمل جو ہے
30:53وہ خود خوبصورت ہو
30:54یہی وجہ ہے
30:55قرآن مجید نے یہ فرمایا
30:57لِمَا تَقُولُونَ مَا لَا تَفَعَلُونَ
30:58تم وہ بات کیوں کہتے ہو
31:00جو تم خود نہیں کرتے
31:01اور بنی اسرائیل کو یہ کہا گیا
31:03تَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَا نَفُسَمْ
31:05لوگوں کو تو نیکی کا حکم دیتے
31:07اور خود اپنے آپ کو بھول جاتے
31:08جزا کرلہ کی بلا
31:09جو شخص کردار کے ساتھ بات کرے گا
31:12وہ بہت زیادہ مؤثر ہوگی
31:14اور کسی بزرگ کی آخری بات
31:16کہا کہ میں
31:17اپنی بات کو مکمل کرتا ہوں
31:18کسی بزرگ سے کسی نے پوچھا تھا
31:20کہ بھئی
31:20ایک مبلک کو کیا کرنا چاہیے
31:23کہ اس کی تبلیغ بہت زیادہ
31:24اثر انداز ہو سکے
31:26اور اثر پذیر ہو
31:27تو انہوں نے کہا
31:28کیا؟
31:29اس کہا تھا
31:29کہ اس کی الفاظ جتنے کم ہوں
31:31اتنے زیادہ اثر کرنے والی ہوگی
31:33اس تبلیغ کے لفظ جتنے کم ہوں گے
31:36اتنے زیادہ اثر کرنے والی ہوگی
31:38اس کا مطلب کیا ہے
31:39کہ وہ صرف زبان کے ساتھ
31:41بات کرنے والا نہ ہو
31:42بلکہ زبان کے پیچھے
31:43اس کے کردار کا
31:45ایک خوبصورت مرحلہ موجود ہو
31:47اس کے کردار کی
31:48ایک بیگرونڈ موجود ہو
31:50تب جب وہ بات کرے گا
31:51تو وہ بات کانوں سے ہوتی ہوئی
31:54دل پر پہنچے گی
31:56اور پھر وہ عمل کا
31:58خوبصورت مظہر بن جائے گی
31:59بہت شکریہ ڈاک صاحب
32:00پروگرام کی اختتامی گھڑی ہیں شاہ جی
32:03تو آج
32:05کے جو پروگرام کا خلاصہ ہے
32:07لبے لباب
32:08اس کا کنکلوجن
32:09وہ آپ کیا
32:10کیسے ڈراؤ کریں گے
32:11محسن صفدر بھائی
32:12میرے برادم
32:13عرفان اللہ صحیفی صاحب
32:14دائی کے مطلق
32:15بڑی خوبصورت
32:16گفتگوئی ارشاد فرما رہے تھے
32:17یاد رکھیے گا
32:18کہ جو بھی
32:19دائی تبلیغ ہو
32:21اس کو خالصتاً
32:22اللہ کی رضا کے لیے
32:24تبلیغ کرنا ہوگی
32:25نہ کہ کوئی
32:26عجر طلب کرنے کے لیے
32:27کوئی بندہ
32:28تبلیغ کے لیے نکلے
32:29اگر کوئی ایسا شخص
32:31انبیاء مرسلین
32:32نے تبلیغ کی
32:33ہمیشہ یہی
32:34کہتے رہے
32:34عجر کم من اللہ
32:36ہمارا عجر
32:37اللہ کے پاس ہے
32:37یہ نہیں
32:38کہ ہم کسی سے
32:39عجر طلب کریں
32:40دوسری بات یہ
32:41کہ جو دائی ہوگا
32:42وہ ہمیشہ
32:43سچ گو ہوگا
32:44بادشاہ وقت کے سامنے بھی
32:46وہ کلمہ حق
32:47کہنے سے نہیں
32:48ڈرے گا
32:48اس کی زندہ مثال
32:49حضور مجدد
32:50الفیسانی شیخ
32:51احمد فاروق سرہندی
32:52آپ نے
32:53بادشاہ وقت کے سامنے
32:55بھی کلمہ
32:55گو
32:56کلمہ حق
32:57کہنے سے آپ کو
32:57ڈر نہیں لگا
32:58ہمیشہ انسان کو
32:59اللہ کی رضا کے لیے
33:00دین کی کام کرنا ہوگا
33:01نہ کہ وہ
33:02اپنی عزت کمانے کے لیے
33:04دولت کمانے کے لیے
33:05وہ دین کا کام کرے
33:06آقا علیہ السلام کی
33:07دیشن بارگاہ ہے
33:16اللہ حکر قبیرہ
33:17دوکس صاحب
33:18کیا پیغام ہمارے
33:20جاتی جاتی گھڑیوں میں
33:21دو جمعہ پیغام
33:23ارشاد کیجئے
33:24قرآن مجید نے
33:25ہر مسلمان کو
33:26مبلغ فرمایا ہے
33:27درست ہے
33:28اور ارشاد فرمایا
33:29کنتم خیر امت
33:30اخرجت للناس
33:31تأمرونا بالمعروف
33:32و تنہونا للمنکر
33:33تم بہترین امت ہو
33:34نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی
33:36امت کو بہترین امت
33:37قرار بیا گیا
33:38اور آگے فرمایا گیا
33:39اس کی وجہ کیا ہے
33:40کہ تم نیکی کا حکم دیتے ہو
33:41اور برائی سے روکتے ہو
33:43تو اس کا مطلب ہے
33:44کہ ہم میں سے
33:44ہر ایک شخص مبلغ ہے
33:46لیکن مبلغ کی بات وہی
33:48کہ اس کی زبان سے زیادہ
33:51اس کا عمل تبلیغ کرنے والا ہو
33:52تو پھر تبلیغ میں
33:54اثر ہوگا
33:54اور میں
33:55اپنے تمام اہل ایمان بھائیوں سے
33:57گزارش کروں گا
33:59کہ ہم
33:59ہر جگہ پر
34:00ایک مبلغ کا
34:02فریضہ سر انجام دیں
34:03اور اس میں ظاہر بات ہے
34:05کہ جب ہم کوئی بات کریں گے
34:06تو پہلے ہمارا
34:07کردار ہونا چاہیے
34:08تو ہمارا کردار
34:10ہمارا عمل
34:11بتائے کہ یہ واقعہ تن
34:12ایک مسلمان ہے
34:13نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
34:15نے ہمیں جن چیزوں
34:16کے کرنے کا حکم دیا
34:17وہ کریں
34:17جن سے منع کیا
34:18ان سے رکیں
34:19تو یہاں سے ہماری تبلیغ کا
34:21سلسلہ شروع ہوگا
34:22تو ہم پہلے
34:23اپنے عمل کو درست کریں
34:24اور پھر اس عمل کے ساتھ
34:26آگے
34:26لوگوں کی اصلاح
34:27اور ہر وقت
34:28اور ہر مرحلے پر
34:30اصلاح کی کوشش کریں
34:31انشاءاللہ
34:32اس کا بہت زیادہ فائدہ ہوں گا
34:33بہت شکریہ دکسر
34:34بہت متفق آپ سے
34:35مکرم ناظرین ہمارا
34:37آج کے پروگرام
34:38اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے
34:39انتہائی شکر گزار
34:40جنابے ڈاکٹر سکر
34:42نمید جیدانی صاحب آپ کا
34:43جنابے ڈاکٹر
34:44اللہ اپنی شان کے مطابق
34:46آپ کو اس کوشش کا
34:48اس کا وشکہ
34:49اور نیکی اور خیر
34:50کے اس کام کا
34:51عجر نصیب فرمائے
34:52ایک دعا پر
34:54میں اپنے ناظرین سے
34:55آمین کا طالب ہوں
34:56ہماری ہی ٹیم کے
34:58ہمارے انتہائی
34:59مشفق مہربان
35:01عالم اسلام کے عظیم
35:02سناخان رسول
35:03جن کا پنجابی پروگرام
35:05آپ بہت شوق سے
35:06ملاحظہ کرتے رہے ہیں
35:08فقیر خود بھی
35:08ایک عرصہ
35:09اس پروگرام میں
35:10اپنی حاضری اور نوکری
35:11پیش کرتا رہا ہے
35:12سنے میرین سننے سدامہ
35:13اس پہ
35:14ہمارے مشفق اور مہربان
35:15جناب پروفیسر عبدالورف روفی صاحب
35:17کی جو ٹیم ہے
35:18جس پہ مختلف
35:19ہمارے دوست شامل ہیں
35:20ان کا ایک ٹیم میمبر ہے
35:22ان کا ایک بیٹا ہے روحانی
35:23علی رضا
35:24ہمارے اس بھائی کا نام ہے
35:25ان کی والدہ
35:26بہت شدید علیل ہیں
35:28اور
35:29اللہ رب العزت کی بارگاہ میں
35:31میں دعا کرتا ہوں
35:32آپ اس پر آمین کہیے
35:33کہ اللہ ان کی والدہ کو
35:35صحت کاملہ عطا فرمائے
35:37اللہ رب العزت ان کا سایہ
35:39بچوں کے سر پہ
35:40علی رضا کے سر پہ
35:41اور گھر والوں کے سر پہ
35:42سلامت رکھے
35:43اور اس گھرانے کو
35:44ہمیشہ عزت والا بابرکت رکھے
35:46بابکار رکھے
35:47ان کی والدہ کو
35:48اللہ ان کے سر پہ
35:48آسمان کی طرح
35:49ہمیشہ سلامت رکھے
35:50ہماری یہ دعا ہے
35:51میں ناظرین سے
35:52اس پر آمین کہتا ہوں
35:54ہمارے دونوں سکولرز نے
35:56بڑے بہترین انداز میں
35:57آج کی گفتگو کا احاطہ بھی کیا
36:00پھر اس کو سم اپ کیا
36:01میں اس کنکلوجن
36:03اور جو خلاصہ اقلام ہے
36:06اس کا بھی عطر
36:08آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوا
36:10مزبان کے طور پر
36:12ایک مختصر سے پیغام کے ساتھ
36:14اجازت کا طلبگار ہوں گا
36:15حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم
36:17کے اخلاق کریمانہ کی بات
36:19پوری نشست میں بڑی غالب رہی
36:21کوئی بھی موقع آیا
36:23وہ مکی زندگی کا موقع تھا
36:25وہ مدنی دور کی بات تھی
36:26حضور علیہ السلام کے اخلاق کریمانہ کی
36:29مثالیں ہر طرف بڑی دھوم
36:31کے ساتھ شائع رہیں اور پوری دنیا
36:33پورا زمانہ اس دور کا پورا
36:35اہد گواہ ہو گیا کہ اس دور
36:37میں کوئی ایک فرد بھی
36:39اخلاق میں رسول اللہ صلی اللہ
36:41علیہ وسلم سے بڑھ کر تو بڑی دور کی بات
36:43ہے اس کے عشرِ عشیر تک بھی نہیں
36:45پہنچ پایا جو اخلاق کریمانہ
36:47حضور علیہ السلام نے خود پیش فرمایا
36:49ہمارے آج کے دور کے مسلمان
36:51نبی پاک علیہ السلام کی صرف سے
36:53آج کے دائی روشنی حاصل کریں
36:55اور پھر وہ آئینے کی طرف دیکھیں
36:57جس میں ہمیں اپنی تبلیغ کا
36:59اکس نظر آئے کیا ہمارے اخلاق
37:01بھی ویسے ہی ہیں جیسے رسول اللہ
37:03صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے فرمودہ تھے
37:05بلکہ مجھے
37:07ایک دو مصرے
37:09ذہن میں آگئے
37:10کہ اس نام پہ تحمت ہیں درندوں کی دکانیں
37:15اس نام پہ تحمت ہیں درندوں کی دکانیں
37:18ظالم کو بھی آقا نے محبت سے خریدا
37:28اور جس طرح بھی ڈاکس اپ نے کیا تھا
37:30بات کی تھی
37:31شاہ صاحب نے بھی ملتی جلتی بات کی
37:33کہ ہمارا کام تو اپنے حصے کی صدا بلند کرنا ہے
37:35اور اپنے حصے کی صدا لگانا
37:37ہمارے ذمہ ہے
37:38ہمارے ذمہ یہ تھوڑا ہی ہے
37:40کہ ہم سے پوچھا جائے کہ آپ نے اتنا عرصہ تبلیغ کی تھی
37:42تو اس کے ریزلٹس کیا نکلے پہلے
37:44اپنے ریزلٹس جو ہیں
37:45اس کی شیٹ چیک کر آئیں
37:46یہاں تو پھر 900 سال خود انبیاء بھی تبلیغ کرتے رہے
37:50کتنے لوگ راستے پر آئے
37:51اگر یہ پیٹرن ہوتا
37:53اور یہ کرائٹیریا ہوتا فطرت اور قدرت کا
37:55تو یہاں تو پھر بڑے بڑے جو ہیں
37:57وہ سوالوں کے جواب نہ دے پاتے
37:59ہم سے صرف یہی پوچھا جانا ہے
38:01کہ اپنے حصے کا کوئی کام بھی کیا ہے
38:03یا نہیں کیا
38:04بقول احمد فراز اسی پہ ختم کرتے ہیں
38:07کہ شکوہِ ظلمتِ شب سے تو کہیں بہتر تھا
38:10اپنے حصے کی کوئی شمہ جلاتے جاتے ہیں
38:13ہمارا کام یہ ہے
38:14کہ اپنے حصے کا کام کریں
38:15جس کپیسٹی میں اور جس انداز میں
38:18ہمیں اللہ رب العزت نے صلاحیتوں سے نوازا ہے
38:20ہم اپنے شعبے میں
38:22ان صلاحیتوں کا بہترین استعمال کریں
38:25اور ان صلاحیتوں سے
38:26خلقِ خدا میں
38:27دعوت کا تبلیغ کا اور حکمت کا سلسلہ جاری کریں
38:32جس سے امتِ مسلمہ کو فائدہ ہو
38:34اور بنین و انسان جو ہے
38:36وہ اس سے استفادہ کریں
38:38آپ کا بیز بان سفظر علی محسن
38:40اسی پیغام کے ساتھ اجازت کا طلبگار
38:42نیکی اور خیر کی اگلی مجلس کے ساتھ
38:44آپ سے پھر ملاقات ہوگی
38:45و السلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ
Comments

Recommended