Roshni Sab Kay Liye
Watch All The Episodes ➡️ https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8Xic1NLGY05O7GY70CDrW_HCC
Topic: Dawat-o-Tableegh
Host: Prof. Sumair Ahmed
Guest: Hafiz Ahmed Yousuf, Mufti Ahsen Naveed Niazi
#RoshniSabKayLiye #islamicinformation #ARYQtv
A Live Program Carrying the Tag Line of Ary Qtv as Its Title and Covering a Vast Range of Topics Related to Islam with Support of Quran and Sunnah, The Core Purpose of Program Is to Gather Our Mainstream and Renowned Ulemas, Mufties and Scholars Under One Title, On One Time Slot, Making It Simple and Convenient for Our Viewers to Get Interacted with Ary Qtv Through This Platform.
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://www.youtube.com/ARYQtvofficial
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Watch All The Episodes ➡️ https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8Xic1NLGY05O7GY70CDrW_HCC
Topic: Dawat-o-Tableegh
Host: Prof. Sumair Ahmed
Guest: Hafiz Ahmed Yousuf, Mufti Ahsen Naveed Niazi
#RoshniSabKayLiye #islamicinformation #ARYQtv
A Live Program Carrying the Tag Line of Ary Qtv as Its Title and Covering a Vast Range of Topics Related to Islam with Support of Quran and Sunnah, The Core Purpose of Program Is to Gather Our Mainstream and Renowned Ulemas, Mufties and Scholars Under One Title, On One Time Slot, Making It Simple and Convenient for Our Viewers to Get Interacted with Ary Qtv Through This Platform.
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://www.youtube.com/ARYQtvofficial
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Category
🛠️
LifestyleTranscript
00:00Roshni Sambakei
00:02Roshni Roshni Sambakei
00:07Allah s
00:19حضرت احمد مجتبہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر
00:25کہ آپ کی خدمت قدس میں
00:27ہدایہ درود پیش کرنا
00:28اہل ایمان کے لیے
00:30دنیا اور آخرت میں کامیابی بھلائی
00:33فلاہ نجات اور بلندی درجات کا ذریعہ ہے
00:36اللہم صلی علیہ سیدنا و مولانا
00:40محمد علیہ سیدنا و مولانا محمد مبارک وسلم
00:44ناظرین محترم السلام علیکم
00:46ورحمت اللہ وبرکاتہ
00:47میں ہوں آپ کا میزبان محمد رئیس احمد
00:49اور پیش کیا جا رہا ہے
00:51پروگرام روشنی سب کے لیے
00:52آپ جانتے ہیں کہ متنوے موضوعات کے ساتھ
00:55ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں
00:57سال ہا سال سے جاری یہ پروگرام
00:59ایک اپنا تشخص رکھتا ہے
01:00اپنی انفرادیت رکھتا ہے
01:02اور اس میں جس قسم کے موضوعات کو شامل کیا جاتا ہے
01:06عمومی طور پر ناظرین جو ہے
01:08اور پوری دنیا میں رہنے والے ناظرین جو ہے
01:10ان موضوعات کو پسند کرتے ہیں
01:12اور ایک لرنی ایک پروسس ہے
01:14کہ جو الحمدللہ اس میں جاری اساری رہتا ہے
01:16یعنی کہ کچھ بتایا جائے
01:18کچھ سکھایا جائے
01:19ذات و صفات کی تطہیر کی جائے
01:21ایک اچھا مسلمان بنایا جائے
01:23تو اسی سسلے میں آج جو موضوع ہے
01:25وہ ہمارا موضوع ہے دعوت و تبلیغ
01:27ناظرین محترم
01:29انبیاء علیہ السلام کو
01:30اللہ رب کریم نے مبوس فرمایا
01:32اور یہ فریضہ جو ہے
01:33ان کے ذمہ فرمایا
01:36کہ وہ جو ہے بنین و انسان کو جو ہے
01:39وہ امر بالمعروف
01:41و نہیں ان المنکر کی تحلیم دے ہیں
01:43اور امپلیمنٹ کریں معاشرے پر
01:45اس کے اثرات کو
01:46تو جن معاشروں میں
01:48اس کے اثرات مرتب ہوئے
01:50وہ معاشرے
01:51مثالی معاشرے کہلائے
01:53وہ سلسلہ نبی آخر الزمان
01:56حضرت احمد مجتبہ
01:57محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
01:59جو نبوت کے طور پر
02:02اپنے اختتام پر پہنچا
02:04لیکن یہ جو دعوت و تبلیغ کی ذمہ داری ہے
02:07یہ ہر اہل ایمان کیلئے
02:10لازم و ضروری قرار دی گئی ہے
02:11پھر اہل اللہ نے اس ذمہ داری کو
02:13اپنایا خلفہ راشدین المہدین
02:16رضوان اللہ تعالیٰ علیہ مجمعین
02:17اہل بیت اتحار علیہ السلام
02:19اور اولیاء امت نے
02:20جتنے اخلاص کے ساتھ
02:22اور دعوت کا تو
02:24اصل میں یہ سمجھتا ہوں
02:26اثر پذیری تب ہوتی ہے
02:28کہ جب اس میں اخلاص موجود ہو
02:30ورنہ اور کردار کی پاکیزگی
02:32یہی وہ دونوں چیزیں تھیں
02:34اخلاص اور کردار کی پاکیزگی
02:36جس نے جو ہے
02:37اس میسج کو آگے پہنچایا
02:39لوگ جوہ در جوہ
02:41جو ہے مشرف و اسلام ہوئے
02:43ہم خواجہ مہین الدین چشتی اجمیری
02:45رحمت اللہ تعالیٰ علیہ کے برسغیر میں اگر مثال لے لیں
02:47تو سب سے بڑی تعداد میں
02:49جس ولی کامل نے
02:50لوگوں کو دارہ اسلام میں داخل کیا
02:53اس میں ان کا نام سر فہرست
02:54نظر آتا ہے
02:55اور ان سے ماں قبل بھی بہت سے افراد ہیں
02:58جن کی ظاہر تذکریں ملتے ہیں
03:00تو انفرادی طور پر اور اجتماعی طور پر
03:02بھی اس کے بہت اثرات ہیں
03:04اور یہ اہم ذمہ داری جو ہے
03:06وہ آیا قرآن کریم میں کس انداز میں
03:08اس کو بیان کیا گیا
03:09پھر انبیاء علیہ السلام نے اس کو کس انداز میں بیان کیا
03:12آج چونکہ اس موضوع کا پہلا پرگرام ہے
03:15تو آج ہم انشاءاللہ
03:16اس کے ایک ابتدائیہ کے طور پر اس پرگرام کو پیش کر رہے ہیں
03:19پھر کنٹینیوزلی کل اور پرسوں
03:21تب بھی یہی موضوع رہے گا
03:23تو اور ڈسکرائب ہو جائے گا
03:24اس موضوع کے حوالے سے
03:25کہ آپ کوئی بہترین اس کے حوالے سے ایک میسج ملے گا
03:29ہمارے ساتھ موجود ہیں
03:29استاذ العلماء حضرت علامہ مفتی احسن نوید نیازی صاحب
03:33شیخ الحدیث والتفسیر ہے
03:35ماشاءاللہ بہت امدہ شخصیت ہیں
03:36بہت صاحب متعلق شخصیت ہیں
03:39وقی متعلق رکھتے ہیں
03:40قرآن حدیث کے حوالے سے
03:41تاریخ کے حوالے سے
03:42تشریف فرمائے
03:43السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
03:44وعالیکم السلام ورحمت اللہ وبرکاتہ
03:47اور میرے بائیں جانبے
03:49ایک ایسے جماس سال اسکالر موجود ہے
03:51جنہیں دیکھ کر ہمیں خوشی بھی ہوتی ہے
03:53اور ہم اللہ کا شکر بھی ادا کرتے ہیں
03:56کہ ایسے نوجوان موجود ہیں
03:57کہ جو دین کا ایک خالصتا جذبہ رکھتے ہیں
04:00نہ صرف دین کے علوم کے حصول کا جذبہ رکھتے ہیں
04:04بلکہ اس کو ڈیلیور کرنے کا بھی ایک جذبہ رکھتے ہیں
04:07اور ایک خلاص کے ساتھ
04:08اور پھر یہ کہ ان کی ایکٹیویٹیز سے نظر آ جاتا ہے
04:11معاشرے میں جس طرح یہ صرف کر رہے ہیں
04:13جس طرح اپنے بیانات سے لوگوں کو
04:15اللہ اور اس کے رسول کی طرف لے کر آ رہے ہیں
04:18اور جس انداز میں لوگوں کو موٹیویٹ کر رہے ہیں
04:21کہ یہ بہت اچھا سائن ہے ہمارے لئے
04:23اور ہمارے نوجوانوں کے لئے
04:24ایک بہت اچھی مثال ہے
04:26ہمارے ساتھ موجود ہیں
04:29ماشاءاللہ احمد یوسف صاحب
04:30جو ممتاز و معروف ایک نوجوان اسکالر ہیں
04:33حافظ احمد یوسف ہمارے ساتھ موجود ہیں
04:35اسلام علیکم ورحمت اللہ
04:36جناب خیر مقدم ہے آپ دونوں کا
04:38اور مفتی صاحب آپ سے میں گزارش کروں گا
04:40قرآن کریم کی روشنی میں دعوت و تبلیغ کے حوالے سے
04:44کیا ہدایات ہمیں ملتی ہیں
04:46چونکہ یہ تو وہ سورس ہے ہماری
04:48جو سب سی ایتھنٹک سورس ہے
04:50قرآن کریم اور
04:51حدیث نبی کریم علیہ السلام
04:53یا قرآن کی حوالے سے
04:54بسم اللہ الرحمن الرحیم
04:59قرآن مجید فرقان حمید
05:00تو خیر سبحان اللہ
05:01سورس کی آپ نے بات کی
05:02قرآن تو ہر چیز کی ہدایت عطا فرماتا ہے
05:04یہ قرآن ہدایت ہے
05:06هدل لِن ناس ہے
05:07سارے لوگوں کے لئے ہدایت ہے
05:09اور اس میں ہر طرح کی ہدایت موجود ہے
05:11بس جو ہے وہ
05:12ڈائیور کی ضرورت ہے
05:14گوطہ خور کی ضرورت ہے
05:15if there's something that is used to be
05:45وَسَّبِيْلِ رَبِّكَ بِالْحِکْمَةِ وَالْمَوْئِدَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِاللَّتِهِ
05:50احسن
05:50اپنے رب کی راہ کی طرف بلاؤ حکمت کے ساتھ
05:55اچھی نصیحت کے ساتھ
05:57اور ان سے مجادلہ کرو
05:58یعنی ڈیبیٹ کرو بحث کرو
06:00اچھے انداز کے ساتھ
06:02احسن انداز کے ساتھ
06:04اب دیکھئے ایک تو اس کے اندر یہ ارشاد فرمایا گیا
06:06کہ رب کی راہ کی طرف بلانا ہے
06:08یعنی دعوت دینی ہے
06:09یعنی تبلیغ کرنی ہے
06:10لیکن یہ تبلیغ کس طرح کرنی ہے
06:12حکمت کے ساتھ کرنی ہے
06:13اور حکمت کا مطلب کیا ہے
06:15یعنی مبنی بردلیل ہو
06:16بغیر دلیل کے آپ کی بات نہ ہو
06:19آپ کی بات دلیل پر مبنی ہو
06:21تاکہ اگلے کے ذہن کو اپیل کرے
06:23اور دیکھیں انسان جو ہے
06:25انسان کے پاس دماغ بھی ہے
06:27اور انسان کے پاس دل بھی ہے
06:29تو کچھ چیزیں وہ ہیں جو دل کو اپیل کرتی ہیں
06:31as those things knife apieeil come
06:33this are twoiles
06:35this is one of the parts
06:37we have written
06:40that is
06:41that we have written
06:45me takia
06:58this is theajet
06:59that is the
07:00waar profund
07:00and the body of the body of the body of the body.
07:30dyn کی نظر میں غلط ہے شریعت کی نظر میں غلط ہے تو ان کی خوشنودی کے لیے غلط
07:35بات کہنا شروع کر دیں ان کی خوشنودی کے لیے باطل یا اہلِ باطل کی خوشنودی
07:40کے لیے حق بات نہ کرنا یہ تو مداحنت کہلاتا ہے یہ تو خود منع کیا گیا
07:44دین کے اندر مداحنت نہیں کرنی بات حق کہنی ہے لیکن حکمت کے ساتھ کہنی
07:49ہے دلیل پر مبنی ہونی چاہیے اور حکمت موقع محل کے مطابق ہونی چاہیے
07:55but the fact is, złoty, and murky!
08:02but the fact is , the fact is that even the fact is that
08:10which has become an impact
08:10, sharpen experience
08:10THIS is helpful as an opinion
08:11so a good time will prove to your li fairy
08:18then you have a good idea, right?
08:20it's good idea then it would make a good idea
08:22then you have a good idea
08:27debate debate can't be done, debate
08:31debate debate can't be done, whether it's for the full time
08:34debate debate debate can't be done
08:38but also how you can't
08:40it's better than what the best He said
09:12superlative degree
09:25foreign
09:55and then the
09:56He said,
10:33Ha-ha-ha-ha.
10:57. . . .
11:26توحید کا اقرار
11:27اللہ تعالیٰ کے وجود کا اقرار
11:29یہ ایک ایسا عقیدہ ہے جو انسان کی فطرت میں شامل ہے
11:33یعنی اگر انسان کے سامنے
11:34کسی نبی کی تعلیم نہ ہو
11:37تب بھی وہ اللہ تعالیٰ کے وجود کو
11:39اور اللہ تعالیٰ کی توحید کو
11:41پہچان لے گا
11:42یہ اس کی فطرت میں اللہ تعالیٰ نے یہ عقیدہ رکھا ہے
11:44لیکن اب اس اللہ تعالیٰ کو پہچان تو لیا
11:47لیکن اب اس خالق کی عبادت کیسے کرنی ہے
11:50اس کے فرامین کیا ہیں
11:51اس کے احکامات کیا ہیں
11:53اس کی رضا کے مطابق زندگی کو کیسے گزارنا ہے
11:56اور مقصد حیات کیا ہے
11:58ان تمام چیزوں کے بیان کے لیے
12:00اللہ تعالیٰ نے انبیاء کو بھیجا
12:02اور انبیاء بنیادی طور پر
12:04ایک برچ کا کردار ادا کرتے ہیں
12:07اللہ تعالیٰ اور اس کی مخلوق کے درمیان
12:09خالق اور اس کی مخلوق کے درمیان
12:11تو انبیاء کرام کی بیرست کا جو مقصد ہے
12:13وہ کیا ہے
12:14اللہ تعالیٰ نے اشارت فرمایا
12:18کہ ہم نے ہر ہر امت میں
12:20ہر ہر قوم میں رسول کو بھیجا
12:23انعبداللہ
12:23تاکہ وہ کیا کریں
12:24لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف بلائیں
12:27اللہ کی بندگی پر ان کو ابھاریں
12:29وجتنی تاغوت
12:31اور جو تاغوت کا جو راستہ ہے
12:32جو شیعاتین کا جو راستہ ہے
12:34جو شیعاتین کا مکروف فریب ہے
12:35انبیاء کرام اس مکروف فریب سے
12:38مخلوق خدا کو باز رکھ سکیں
12:41ہم آپ کی بات کنٹینیو کریں گے
12:43بہت خوبصورت آپ نے ابتدائیہ بیان فرمایا
12:46اپنے جواب کا
12:46ایک مختصر سا وقفہ ہے
12:48وقفے کے بعد لوٹیں گے انشاءاللہ
12:49تو جواب کو کنٹینیو کریں گے
12:51ہمارا ساتھ رہی ہے
12:51ناظرین آپ کا خیر مقدم ہے
12:53اور دعوت و تبلیغ آج ہمارا موضوع ہے
12:55اور قرآن کریم میں
12:56جو انبیاء علیہ السلام کی ذمہ داریاں
12:59وہ کس انداز میں بیان کی گئی ہیں
13:02میں چاہتا ہوں جواب کو آپ مکمل فرمادے
13:04ابتدائیہ آپ نے بیان فرمایا
13:05بسم اللہ الرحمن الرحیم
13:07میں نے آپ کے سامنے سورة النحل کی آیت نمبر 36 پیش کی تھی
13:11کہ اللہ تعالیٰ نے ہر قوم میں ہر امت میں
13:14اپنے رسول بھیجے ہیں
13:15تاکہ وہ لوگوں کو اللہ کی دعوت کی طرف بنایں
13:18اللہ کی عبادت کی طرف بنایں
13:19اور انہیں تاغوت سے شیعتین سے محفوظ رکھیں
13:22اسی طرح ایک اور مقام پہ
13:23اللہ تعالیٰ نے یہاں تک اشارت فرمایا
13:26سورہ النساء کی آیت نمبر 165
13:28رسول مبشرین و منذرین
13:31یعنی یہ جو انبیاء ہیں
13:32ان کی بیرست کا مقصد کیا ہے
13:33کہ خوشخبری دیتے ہیں اور ڈراتے ہیں
13:35خوشخبری کس چیز پر دیتے ہیں
13:37کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے احکامات پر
13:40عمل کرتے ہیں
13:41انہیں جو ہے وہ جنت کی خوشخبری دیتے ہیں
13:43اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے حکم سے عراس کرتے ہیں
13:46انہیں ڈراتے ہیں
13:47یعنی اللہ تعالیٰ کا جو عذاب ہے
13:49اور جو جہنم ہے
13:50اس سے ڈراتے ہیں
13:51And then after that.
13:52This means that Allah has told us that Allah has said,
13:56So that Allah does not know what he says.
13:58He because he says he has sent us,
14:01and he has sent us this.
14:05So now Allah does not tell us that Allah has said,
14:08He doesn't know what he says.
14:13So that Allah has said,
14:17سورة بنی اسرائیل میں اس بات کو یوں بیان فرمایا
14:19وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّنَبْعَسَ رَسُولَ
14:23کہ ہم جب تک کسی قوم میں رسول نہیں بیشتے
14:25تب تک ہم اسے عذاب میں بھی مبتلا نہیں کرتے
14:28اور پھر جب ہم نبی کریم علیہ السلام کی بات کرتے ہیں خاص طور پر
14:32تو قرآن پاک میں بڑی واضح طور پر نبی کریم علیہ السلام کے بارے میں فرمایا گیا ہے
14:45یعنی حضور علیہ السلام کی بیست کا مقصد اللہ تعالیٰ نے کیا بیان فرمایا
14:49کہ ایک تو یہ قرآن پڑھنا سکھاتے ہیں
14:51یعنی قرآن کی تلاوت کرتے ہیں
14:52پھر یعلمہم الكتاب جو کتاب ہے اس کا علم دیتے ہیں
14:57والحکمہ اور حکمت کا علم دیتے ہیں
14:59جیسے ابھی مفتی صاحب نے بھی ذکر کیا
15:01تو انبیاء کی بیست کا مقصد یہ بھی ہے کہ وہ تسکیہ کرتے ہیں
15:05جو باطنی بیماریاں ہیں جو باطنی جو امراض ہیں
15:08اس سے جو مخلوق خدا ہے اس کو دور کرتے ہیں
15:11جو اندر کی بیماریاں ہیں حسد ہے تکبر ہے ریا ہے اجب ہے
15:15ان تمام بیماریوں کو انبیاء جو ہے وہ دور کرتے ہیں
15:19تو یہ انبیاء کی بیست کا جو ہے بنیادی مقصد ہے
15:21اسی طرح قرآن پاک میں اور بھی مقامات پر انبیاء کی بیست کے مقاصد کو بہت ڈیٹیل میں بیان کیا
15:26ہے
15:26مثال کے طور پر ایک مقام پر اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا
15:29کہ انبیاء کو اس لیے بیجا تاکہ لوگوں میں جو اختلاف ہو جاتا ہے
15:32تو اللہ تعالیٰ نبی کو بھیجتا ہے اس کی تعلیمات کو بھیجتا ہے کتاب کو بھیجتا ہے
15:37کیوں بھیجتا ہے تاکہ وہ اختلافات لوگوں کی درمیان سے دور ہو جائے
15:40یعنی انبیاء کی بیست کا ایک مقصد یہ ہے
15:43کہ جو انسانیت ہے وہ ایک پیچ پر آ جائے
15:46انسانیت میں تفریق نہ ہو اور وہ اللہ تعالیٰ کے احکامات سے روح گردانی نہ کرے
15:51یعنی انسانیت کی جو ان کا جو جمع ہونا ہے ان کا جو اتحاد ہے
15:55قوموں کا جو اتحاد ہے امت کا جو اتحاد ہے
15:58یہ اللہ تعالیٰ کے نظیر کس قدر محبوب ہے پسندیدہ ہے
16:01کہ اس مقصد کے لئے اللہ تعالیٰ نے انبیاء کو بھیجا
16:04تاکہ وہ نظریاتی طور پر فکری طور پر عقیدہ کے اعتبار سے
16:08عمل کے اعتبار سے انتشار اور اختلاف کا شکر نہ ہو
16:11اور اسی طرح ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے یہاں بیان فرمایا
16:14یہاں تک بیان فرمائے کہ انبیاء کی بیرست کا مقصد یہ ہے
16:18میزان کا لفظہ آیا
16:19کہ میزان کے ساتھ انبیاء کو بھیجا
16:21کتاب کے ساتھ بھیجا
16:22یعنی انبیاء علم بھی دیتے ہیں
16:23انبیاء کی بیرست کا ایک مقصد کیا ہے
16:25علم دینا
16:26کتاب کے ساتھ بھیجا
16:27اور اسی مقام پر اشارت فرمائے
16:29یعنی میزان کے ساتھ بھیجا
16:30میزان کیا ہوتے ہیں
16:31ترازو
16:31کیوں لیاکوم الناس بلقس
16:33so that they would be unbearable
16:36they would be a weep
16:37because when they would become
16:38the way that comes in
16:39Because when it comes in
16:40it comes in
16:42the way that comes in
16:43and that comes in
16:44to put this
16:45be it
16:45that
16:46to be
16:49but
16:55to
16:56even
16:57UNSANIKAJU POURA MOASHRAH ARE
16:59US MEAN TALFRIEK NO HOE KISI BIE KISAM KII خRABY PAYDA NA HOE
17:03TOYHE TEMAM AEM BIAK KO BEJINNEKE KISSpace MQASID HINI
17:06ESMEEN JIN CERFARIS GEN IMAGASID HINI NZAARA
17:08which which is about all the above and the Lord
17:11which is what's saying
17:11in the book is what is the book
17:12meaning of the book
17:14which is the thing that gives us
17:16is what the practical art has done
17:17what the characters have done
17:18is that a lot of different ways
17:21that has been through the dialogue
17:22and the background of the also
17:23that are acting only that
17:26that the material has been given
17:27that Allah will take place
17:29he will take place
17:29very much more than that
17:31there is a lot of details
17:31that turquoise challenge
17:33and that all things he has done
17:34and all this stuff
17:35that any other thing
17:35that is another thing
17:38that all of us
17:38Umar bil maruf wa nahi anil munkar ki baqa, maashreti baqa johai,
17:44woh kiasa mumkin isa wala se kya abirshad kama hai?
17:46Dekha rizp, pahle toh mein iska matlab bata lieta ho
17:48ki amar bil maruf wa nahi anil munkar kehatai kisye hai?
17:51Amar bil maruf ka matlab hota hai neki ka hukum dena.
17:53Or nahi anil munkar ka matlab hai bura hai se rokna.
17:56Bura hai se rok.
17:56Aam alfaz me johem kehatai hai daawat o tablieg,
17:58to daawat o tablieg mein johan or bhoast sarhi chizai shamil hai
18:01toh wahaan per ye neki ka hukum dena,
18:02bhalaii ka hukum dena,
18:04اور bura hai se rokna bhi shamil hai.
18:05Aab joh aap ne bata ki,
18:07ke maashreti baqa,
18:08Dekha,
18:09muslimanوں ka joha maashara hai,
18:10uski baqa toh amar bil maruf wa nahi anil munkar hii ke sath hai.
18:13Iske bغayr,
18:15islami maashire ki baqa ka tصور hii nahi kiya jaa sakta.
18:19Islami maashire toh kha'da hii ishi bunyad per hai.
18:23Isiliee,
18:23حضور jani alam sallallahu ta'ala alayhi wa sallam,
18:26ane furmaya ta na,
18:26من raha min kum munkaran,
18:28fal yugayrhu bayadhi fa ilam yastate fa bilisani fa ilam yastate fa biqalbi wa daqa daful iman.
18:36کہ تم میں سے جو بھی کوئی برائی دیکھے تو اسے ہاتھ سے روکے,
18:40یعنی قوت سے روکے,
18:41طاقت سے روکے.
18:42اور اگر اس کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو زبان سے روکے.
18:46اگر اس کی بھی طاقت نہ رکھتا ہو تو کم از کم درجہ یہ ہے
18:49کہ دل میں برا جانے اور یہ ایمان کا سب سے ادنا درجہ ہے,
18:53سب سے کمزور درجہ ہے.
18:54اگر کوئی دل میں بھی نہیں جان رہا تو جو کم از کم درجہ ہے
18:58اس سے بھی نیچے گیا ہوئے وہ خود اپنے اوپر گوھر کر لے.
19:00تو دیکھئے معاشرے کی بقا اور دیکھیں کس طرح نبی کریم علیہ السلام
19:05اس کی ترغیب دلا رہے ہیں اور کیسے بتا رہے ہیں یہ خطاب جو ہے
19:08وہ ساری امت کو کیا جا رہا ہے.
19:10ساری امت کو یہ خطاب فرما رہے ہیں کہ برائی روکنی ہے
19:14ویسے بھی معاشرے کی جو فوض و فلا ہے وہ اسی میں ہے نا
19:17کہ بھلائیاں پھیلیں اچھائی پھیلیں برائی رکھیں جرائم کم ہوں
19:21جرائم ختم ہوں ریڈیوس ہوں تو معاشرے کی بقاہ اسی کے اندر ہے
19:25تو اس کا ذریعہ کیا ہے آپ کا جب تک چیک انڈ بیلنس نہیں ہوگا
19:29کنٹرول نہیں ہوگا اس کے لیے آپ روکیں گے نہیں لوگوں کو
19:33ترغیب نہیں دلائیں گے دو اسطلاعیں استعمال ہوتی ہیں
19:35ترغیب اور ترہیب ترغیب کا معنی ہوتا ہے خوشخبری دینا
19:39رغبت دلانا ترہیب کا معنی ہوتا ہے درانا
19:42آپ دیکھیں قرآن کے اندر بھی دونوں انداز استعمال کیے گئے ہیں
19:46ترغیب بھی موجود ہے ترہیب بھی موجود ہے
19:48بلکہ اکثر آپ کو قرآن مجید فرقان امید میں نظر آئے گا
19:51کہ دو پیرلل متوازی تصویریں بیان کی جاتی ہیں
19:55کھینچی جاتی ہیں دو نقشے کھینچے جاتی ہیں
19:57بتایا جاتا ہے کہ جو اچھے لوگ ہیں وہ ایسے ایسے ایسے
20:00جو برے لوگ ہیں وہ ایسے ایسے
20:01جدا کا بیان کیا جاتا ہے ساتھ صدا کا بیان بھی کیا جاتا ہے
20:04تو جدا اور صدا دونوں کا ذکر قرآن کے اندر آپ کو ملتا ہے
20:08سعید اور شکی خوشبخت بدبخت دونوں کا ذکر آپ کو ملتا ہے
20:11خیر اور شر دونوں کا ذکر آپ کو ملتا ہے
20:14حق اور باطل دونوں کا ذکر ملتا ہے
20:16ایمان اور کفر دونوں کا ذکر ملتا ہے
20:18اور دونوں طرح کے طبقات کی کریکٹریسٹکس جو ہیں
20:21qualities ہیں
20:22وہ بھی بقاعدہ
20:23قرآن describe کرتا ہے
20:24اسے elaborate کرتا ہے
20:25بیان کرتا ہے
20:26اور یہی انداد آپ کو
20:27احدیثِ طیبہ کے اندر بھی نظر آئے گا
20:29تو اور بلکہ حضور جانِ عالم علیہ السلام کے
20:31جو دو وصف بیان ہوئے ہیں
20:32بشیر اور ندیر
20:33وہ بھی یہ قرآن کے اندر بیان ہوئے ہیں
20:34اور خود سرکال علیہ السلام دونوں باتیں
20:36خوشخبریاں بھی دیتے تھے
20:37دراتے بھی دیں
20:38تو بشیر بھی ہیں
20:39ندیر بھی ہیں
20:40تو یعنی امر بالمعروف بھی ہے
20:41نحی ان المنکر بھی ہے
20:43اس کا طریقہ خوشخبری سنانے کا بھی ہے
20:45اس کا طریقہ ڈرانے کا بھی ہے
20:46اور یہ طریقہ ضروری ہے
20:48تو بندہ برائی دیکھیں
20:49ہاتھ سے روکیاں
20:50لیکن ہاتھ سے روکنا کس کا کام ہے
20:52ہاتھ سے روکنا ہر آدمی کا کام نہیں ہے
20:54ہاتھ سے روکنا اُس آدمی کا کام ہے
20:56جو قوت نافضہ رکھتا ہے
20:58اجتماعی سطح پر دیکھیں
20:59ریاستی سطح پر
21:29so,
21:58fashion
22:00the
22:00is
22:01iman ka. Us par to a pahein. To ager sarehi is tarah joh hath se rokna jinn ka kama hai
22:05woh hath se rokna shurru karedeein. Jinn ka kama zaban se rokna hai woh zaban se rokna
22:10shurru karedeein. Baqi loog dil mein bura jana shurru karedeein. To aasta aasta sara
22:13muashara hi nekiyong ka mgemooha aur nekiong ka mgemooha ho jayega. Buraiya ruk jayengi
22:18aur burai jub hem keheti hain to buraiy am hai. Us mein muasharti burai bhi shamil
22:23hai. Us ke anndar infiradi burai bhi shamil hai. Us meh ijtimaayi burai bhi shamil hai.
22:27To kutra kutra karke joe hai woh dharia bantah hai. Afarad ka mgemooha hi
22:31muashara tashkil dheeta hai. To jab joe hai har koji apne apne dharakar ke anndar
22:36amr bil maroof wa nahir munkar ka nafas karayega. To aasta aasta pura muashara
22:40sa hii ho jayega. Or ager sarehi bhi is tarah bihna shurru ho jayega. Que fulani
22:44kar raha fulani kar raha woh karayenge. Pehle woh karayenge. Pehle woh karayenge. To is tarah
22:48to pher koji bhi thik nai ho paayega. To muashara ka joh sodhar hai. Joh society ka
22:52joh beghaar hai. Isse dure karna hai. Wo amr bil maroof wa nahir munkar ka
22:56mecanism. Us ke anndar hona chahiye. Or bil khusus joh islami muashara hai. Joh
23:01islam ke nama par binaaya gya ho. Us muashara ka. To iske bagayr tصور hi
23:06nahi kiya jaya saka. Mumkan hi nahi hai. Or bhaqaida bhlke joh hai. Woh
23:09ahitisab aur hisba ke nama se. Kutub fikiyah ke anndar bhaqaida abuwaab
23:14kaim kiya gaya hai. Jensen ke anndar iske akam bhi dhikar kiya gaya hai. Que kis
23:17anndaz phe isko nafis karna hai. Kya tariqa ona chahiye. Toh ye
23:20intihai zhururi hai. Mlwil maroof wa nahir munkar. Muashara ti
23:24bhaqa ke liye. Bhoot. Bhoot. Kisii bhi muashara ki bhaqa ke liye. Kisii bhi
23:28society ko behteri ki taraf lane ke liye. Or usko صحیح معنو
23:33میں منضبط kerne ke liye. Amr bil maroof wa nahir munkar. Eks aisa
23:38formula diya qurán ne. Or ushe صحیح معنو میں دیکھا ہے. Toh anbiya
23:41sallam ki zindagi kiise kiise imtihanaat se naihi guzure. Kis kis
23:45tarah naihi naihi naihi jhutlaya gya. Kis kis tarah naihi naihi takalif
23:50dhi gai. Belkih ye hai ki anhu naihi har tariqe se hir muskil ka sámana
23:54kiya. Lekin apne is farizhe se pichhe naihi athe. Or isi way se
23:58Allah ta'ala naihi naihi ko an mubarak namao me shamil kiya. Ki jenka
24:02ham áج bhi tazim ke sath nama lietai hain. Eek mختacar sa waqfah.
24:06And uske baad inshaAllah isi mوضوع پar eek bhoot ہی aham
24:08sual hai inshaAllah. Wo me pèche karun ga. Hadir uti waqfahe ke baad
24:11hamare saht riye. Jee nazirin aapka khair mqdem hai. Or
24:14dhawet u tbeliq ági hamara mouzuh hai. Or us per
24:17یہ وہ beniyadhi mouzuh hai. Jou quran ka mouzuh. Yeh naihi
24:20وٹraqon pere rakshon pere likkha wa hai. Que dhawet u tbeliq
24:23zindabad wo nii. Yeh title hai. Zahir hai. Koi bhi
24:25ikhtiar kera hai. Lekin joh asal joh iska. Iski sours
24:29se eme joh milta hai. Joh. Voh quran se milti hai. Beniyadhi
24:31taur. Anbiyah al-salaam. Ah. Nye is farizhe ko
24:34anjama dhia. Phr. Ah. Auliai amat wa ulama
24:37hazirat ki zimmedarie. Que وہ luogun ko joh hai raahe
24:41raast dikھائیں. Toh is tibar se. Acha benne sarnama
24:43iklam mein bhi. Yehi baat ki tii. Que ayah
24:46dhawet u tbeliq ke joh infiradi. Or
24:49ijtimaayi fawait hai. Kuchh is per kuch roshni ڈالi
24:52e. Bismillahirrahim. Bismillahirrahim. Ah. Bohut aham
24:55s'awal hai. Or is s'awal hai. Bukhari
24:57shariif ki eek riwaayet hai. Numan bin
25:00bishir riwaayet kerti hai. Que nabiyah karim
25:01al-islam firmata hai. Que joh luog Allah
25:04tabarak wa taala ki hudud ka khayal
25:05naihi rakhte. Or is mein mubtala ho jate hai. Toh
25:08unki misal aysi hai. Jisai eek kishhti hai.
25:10Or dhu group's hai. Unh mein se eek group
25:13kishhti ke oopper wale flore pe hai. Or eek
25:15niče wale flore pe hai. Or joh niče wale flore
25:18wale hai. Voh páni lene ke liene ke liene
25:19oopper jaya kerti hai. Voh. Ab unhne
25:21taklief abh hoti hai oopper jane mein.
25:23To unhne kya s'uchha ki kiyon haem
25:24kulhara lhe kar is kishhti ke
25:27tختe ko tođein. Or yahin se hem
25:29páni jow ho hahasil kar lene. Toh huzud
25:30al-islam firmata hai. Que oopper wale
25:32grow. Voh niniče átai hai. Or unse
25:34kaita hai. Que tum ye kya kare hai. On unhne ka
25:36ki bhai hum kulhara lhe kar tختe
25:38tođein. Taki hain se páni mil jaya. Huzur
25:40al-islam firmata hai. Ager toh
25:42oopper walau ne oon niniče walau ka
25:43hath rok liya. Tođne nahi diya.
25:46To ye bhi bhaj gaya. Voh bhaj gaya. Voh bhaj gaya.
25:47Or agar agar nahi roka
25:49aur unhne tođne diya. To ye bhi
25:51đup gaya. Voh bhi dup gaya. Voh bhaj gaya.
25:53To yeh ap dhekhein. Maha shakatiya is ka
25:55jahe woh athar hai. Or phir ham
25:56dhekhtaein. Mutaadat ahadīth
25:58haemarai sámane hai. Is huale
25:59se ke nabi kareem al-islam firmata hai. Que
26:01agar tum amr bin maruof wa nahi anil
26:03munkar ka faryzah saranjām
26:05نہیں دوگے. To allah tbarek
26:06wa taala tum peh azab bhej ega.
26:07Allah. Allah. Allah. And number two
26:09yeh keh tumhari dhuayin qabool
26:11نہیں hongi. Hmm. Hmm. Or pher
26:12qur'an paak meh allah taala نے
26:13ارشاد فرماya. Wattaku fitnatal
26:16la tussi banal ladhina
26:17vlamu minkum khawassah. Que
26:19ڈرو اس fitnے سے. Que
26:21جس کے سبب azab ہوگa. اور
26:23وہ azab خاص ظالموں
26:25کو نہیں پہنچے گا. یعنی اس کی جو
26:26تفاصیل ہیں. اس میں یہاں تک
26:28ہمیں ملتا ہے. کہ جو
26:29روایات ہمیں ملتی ہیں. اس میں
26:31یہاں تک آیا ہے. کہ جو لوگ
26:32ممنوعات پر نقیر کرنے
26:34پر قادر ہوں. بڑائیوں کو
26:36روکنے پر قادر ہوں. لیکن وہ
26:38نہ روکیں. تو پھر اللہ
26:39تبارک و تعالی جو عذاب
26:40بھیجتا ہے. وہ ایسا عذاب
26:42ہوتا ہے. کہ جس میں صرف
26:43گناہگاروں کی پکڑ نہیں ہوتی. جس
26:45میں خاص ظالموں کی پکڑ نہیں
26:47ہوتی. بلکہ وہ عذاب عام ہوتا
26:49پورے معاشرے کوپی لپیٹ میں
26:51لے لیتا ہے. یعنی جو گناہگار
26:53ہو. جو متقی ہو. پھر اس سے
26:55فرق نہیں پڑتا. تو دعوت
26:57و تبلیغ کے اگر ہم انفرادی
27:00اور اجتماعی فوائد کی بات کریں
27:01تو اجتماعی فوائد تو میں آپ
27:02کو بتایا کہ کس طرح ایک سوسائٹی
27:04محفوظ رہتی ہے. انفرادی فوائد
27:06کی اگر میں بات کروں تو دیکھیں
27:08اس میں سب سے اہم چیز یہ ہے کہ
27:10بندہ خود علم حاصل کرتا ہے. کیونکہ
27:11ظاہر ہے جب اس کو دعوت دینی ہے تو وہ علم بھی
27:13حاصل کرے گا. نمبر ٹو وہ خود
27:15باعمل بن جاتا ہے. کیونکہ ظاہر ہے
27:17اس کو اندر سے ایک احساس
27:19تو ہوتا ہے. ضمیر تو اس کو ملامت
27:21کرتا ہے کہ تم دعوت دے رہے لیکن تم عمل
27:23نہیں کر رہے. تو عمل کی طرف اس کی جو
27:25رغبت بڑھ جاتی ہے. اور
27:27ایک کہ ہمارے یہاں ہے نا
27:29کہ عمل نہیں کیا تو پھر دعوت
27:31کیوں ہم کیسے ہم دیں
27:33تو اس میں دو نقصان آتے ہیں. ایک تو
27:35بے عمل ہیں اور دوسرا دعوت
27:37نہیں دے رہے. تو بھائی آپ عمل
27:39کریں نہ تاکہ آپ دعوت دینے والے بن جائیں
27:41تو ایک چیز کی وجہ سے وہ دوسرے سے
27:43بھی جو رکے رہتے ہیں. تو ایسا نہیں ہونا
27:45چاہیے. تو بندہ بے عملی سے بچتا ہے
27:47ٹھیک ہے اور پھر سب سے اہم بات اس میں
27:49یہ ہے کہ ہمیں نہیں دیکھنا
27:51کہ ہماری دعوت کا اثر کتنا پھیل رہے
27:53آپ دیکھیں نا نو علیہ السلام کی مثال ہمارے
27:55سامنے ہیں. حضر علیہ السلام کی
27:57جو تیرہ سالہ مکی زندگی کی جد و جہد
27:59وہ ہمارے سامنے ہیں. ہمارے سامنے ہیں. تو اگر
28:01شخص جو ہے وہ دعوت و تبلیغ
28:03کے کام پہ لگا ہوا ہے. تو اس کا
28:05انفرادی فائدہ اس کو سب سے بڑا تو یہ ہے
28:07کہ وہ اللہ تبارک وطالعہ کے حکم
28:09پر عمل کر رہا ہے. وہ اللہ تعالی کی
28:11رضا میں جو ہے وہ راضی رہ رہ رہا ہے
28:13اس کو نہیں دیکھنا کہ معاشراتی
28:15سطح پر اس کا کوئی اثر پڑھ رہا ہے یا نہیں پڑھ
28:17رہا. کیونکہ اللہ تبارک وطالعہ نے واضح
28:19ارشاد فرما دیا ہے کہ ہدایت اللہ تعالی کے
28:21ہاتھ میں ہے. نتیجہ کا
28:23نتیجہ پروڈیوز کرنا. ریزلٹ
28:25پروڈیوز کرنا. یہ ہمارے
28:27ذمہ اللہ تبارک وطالعہ نے ڈیوٹی نہیں
28:29لگائی. ہمارے ذمہ جو ڈیوٹی ہے وہ
28:31کیا ہے کہ ہمیں سٹرگل کرنی ہے. جد و جہد
28:33کرنی ہے. کوشش کرنی ہے. اگر یہ کام
28:35ہم نے کر لیا تو ہم اپنے فریجے سے
28:37جب وہ دست بردار ہو جائیں گے
28:38ریزلٹ آتا ہی نہیں آتا وہ اللہ تبارک وطالعہ
28:41کے ہاتھ میں ہیں. یدل بھی
28:43کسیرہ و یہدی بھی کسیرہ. اللہ تعالی جیسے
28:45چاہتا ہے ہدایت جیسے چاہتا ہے اللہ تعالی
28:46گمراہ فرماتا ہے. تو یہ بات. بہت
28:49خوبصورت بات. گنیادی
28:50جو باتیں ہیں وہ آپ نے ارشاد فرمائی
28:52اس کی جو انفرادی فوائد ہے بلا شبہ
28:55یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ تو
28:56دعائی کرے گا جو کام ہے. اس کا ہمارا
28:59تو کام نہیں ہے ہمیں تو. لیکن یہ کہ
29:00جواب دے ہیں آپ. حدیث رسول
29:03کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں
29:04کہ آپ سے سوال کیا جائے گا آپ کی
29:06رائیت کے بارے میں. تو اس کے لیے بھی
29:08ذرا تیار رہیں کہ آپ کی جو ذمہ داری
29:10تھی وہ کس حد تک آپ نے پوری کی
29:12اور کتنی کرنی چاہئے تھی آپ کو. اگر
29:15آپ دعائیان اسلام پر چھوڑ دیں
29:16ساری باتیں کہ وہ کریں گے. تو پھر
29:18آپ سے جو سوال جواب ہوں گے. آپ اس کا کیا جواب
29:20دیں گے. تو ضروری بات یہی ہے جب علماء
29:22حضرات فرماتے ہیں کہ پہلے خود سیکھیں
29:24دین کو. پھر اپنے
29:27جو رائیت ہے آپ کی جو آپ کے
29:28اہل و عیال ہیں. ان تک
29:30وہ بات پہنچائے. اور پھر اللہ آپ کو
29:32توفیق دے تو اس دعوت کو اور عام کرے.
29:34یہ بڑی بنیادی بات اور ہے. اجتماعی فوائد
29:36تو اس کے اتنے ہیں کہ اس پر کتب
29:38لکھی جا سکتی ہیں کہ کتنے ہی
29:40اس کے فوائد ہیں. ہم آگے بڑھتے ہیں اور
29:43امت مسلمہ
29:44کا مقصود
29:46مقصد وجود. یہ
29:48ایک بڑا اہم وائد. اتنی
29:51امتیں ظاہر ہیں. اس حوالے سے میں
29:52چاہتا ہوں کو جو اشارت کرنا ہے. دیکھیں رئیس بھئی اللہ
29:54تبارک و تعالی نے قرآن مجید فرقان حمید
29:56برحان رشید میں اس امت کو
29:58خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا
30:00کنتم خیر امت اخرجت لن
30:02ناسی تأمرونا بالمعروف
30:06تم سب سے اچھی
30:08امت ہو جو ظاہر کی گئی
30:10ہے لوگوں کے لئے. کام
30:12کیا بتایا گیا اس امت کا آگے کہ تم
30:13اچھائی کا بھلائی کا معروف کا
30:16نیکی کا حکم دیتے ہو اور
30:18برائی سے روکتے ہو
30:19یعنی اس امت کو
30:22اللہ نے خیر امت بنایا ہے
30:23یہ امت خیر امت اصل میں تو
30:25اس وجہ سے ہے کہ یہ اللہ کے محبوب
30:27علیہ السلام جو محبوب خدا
30:30ہیں سید المرسلین ہیں
30:31سید المبلغین ہیں یہ ان کی امت
30:34ہے تو ان کی نسبت سے
30:35اصل میں تو خیر امت ہے لیکن جیسے
30:37حضور جانعالم علیہ السلام کو فرمایا
30:39گیا اسی قرآن کے اندر کہ ہم جو
30:41لوگوں کو نبیوں کو جب بطور
30:43شاہد لائیں گے تو ہم آپ
30:45کو ان پر شاہد لائیں گے یعنی اس
30:47امت کو یہ بتایا گیا کہ یہ امت
30:49گواہی دے گی پچھلے انبیاء کرام علیہ
30:51السلام کی تبلیغ کی اور نبی
30:53کریم علیہ السلام گواہی دیں گے اس امت کی
30:55تو نبی کریم علیہ السلام
30:57کی وجہ سے یہ امت
30:59خیر امت ہے افضل الامہ ہے
31:01کیونکہ وہ افضل الرسول
31:03افضل الرسول ہیں افضل المرسلین ہیں
31:05اب اگلی بات لیکن جو وصف ہے
31:07اس کا اصافت امت کے بہت سارے تھے
31:09لیکن جہاں اللہ نے خیر امت ہونا
31:11بیان کیا ہے تو اس کے ساتھ ہی جس
31:13وصف کو اللہ تعالیٰ نے سب سے
31:15زیادہ نمائیہ انداز میں بیان
31:17کیا ہے کیونکہ یہ مقام تھا نا
31:19موزے مدھا ہے یہ مقام مدھا میں کیا
31:21جب تعریف کسی کی کی جا رہی ہوتی ہے
31:24تو جو سب سے اچھا وصف ہوتا ہے
31:25وہ بیان کیا جا رہا ہوتا ہے
31:27جب یہ کہا جائے نا یہ سب سے اچھا ہے
31:28تو اس کے بعد آگے وصف اس کا وہ بیان کریں گے
31:31جو وصف اس کا اس بات پہ دلالت کر رہا ہو
31:33کہ ہاں واقعی یہ سب سے اچھا ہے
31:34تو جب یہ بتایا گیا کہ تم سب سے اچھی امت ہو
31:37تو فوراں ساتھ جو وصف بتایا ہے
31:40جو خوبی بتائی ہے
31:41وہ خوبی ایسی ہے کہ وہ خوبی بتاتی ہے
31:43کہ یہ امت سب سے اچھی ہے
31:44تو وہ خوبی کیا ذکر کی ہے
31:45وہ خوبی یہ ذکر کی ہے
31:47کہ تم نیکی کا حکم دیتے ہو
31:49اور براہی سے روکتے ہو
31:51یعنی پتہ چلا کہ یہی اس امت کا
31:53سب سے عالی وصف ہے
31:55تو اگر یہ امت اس وصف کو چھوڑ دے گی
31:58تو اس امت کے وجود پر
32:00سوالیاں نشان قائم ہو جائے گا
32:01تو اس کا جو مقصد وجود ہے
32:03اس میں ایک یہ بھی ہے
32:05کہ یہ امت عمر بالمعروف و نحیر المنکر
32:08کا فریضہ سرانجام دے
32:09یہ امت دعوت و تبلیغ کا فریضہ سرانجام دے
32:13اور ہر دور میں امت نے
32:14اس فریضے کو سرانجام دیا ہے
32:16ہر سطح پر دیا اور ہر سطح پر دینا چاہیے
32:19اللہ کے مہو علیہ السلام نے
32:21یہ بات سب سے رشاد فرمائی تھی
32:23بلگو عنی ولو آیا
32:25پہنچا دو میری طرف سے
32:27اگرچہ ایک ہی آیت ہو
32:29تو یہ خطاب کسی مخصوص
32:31فرد کو نہیں ہے
32:32ایک عام آدمی کو نہیں ہے
32:35یا دو بندوں کو یا تین بندوں کو نہیں ہے
32:37بلکہ یہ حکم جو ہے وہ عام ہے
32:39یہ سب کو آپ نے ارشاد فرمایا
32:41کہ میری طرف سے تمہیں ایک آیت بھی پہنچے
32:44اس کو آگے پہنچاؤ
32:45اور ویسے بھی دیکھیں دیئے سے دیا جلتا ہے
32:48دیئے سے دیا جلتا ہے
32:49تو معاشرے کے اندر روشنی پھیلتی ہے
32:51تو یہ عمر بالمعروف یہ نہیں ہے
32:53اس کا حکم دیا گیا
32:54یہی اس امت کا مقصد وجود ہے
32:57اور کیا پیاری اوی میں یہ بات کر رہا تھا
32:58میرے ذہن میں بات آگئی
33:00وہ امام مقہول شامی راہی مولا کی
33:01بڑے امام تھے جل قدر تابع ہیں
33:04دعوت و تبلیغ اور عمل بالمعروف
33:06کا انداز ان کا دیکھئے
33:07کہ وہ ایک مرتبہ ان کی علمی مجلسی
33:09درس دے رہے تھے
33:10تو اس دوران خلیفہ عبد الملک بن مروان
33:13کا بیٹا یزید بن عبد الملک
33:15وہ آ گیا
33:15وہ آیا تو لوگوں نے دیکھا
33:17کہ بھئی بادشاہ کا بیٹا ہے
33:18خلیفہ کا بیٹا ہے
33:19تو لوگ ذرا پیشے ہونا شروع ہے
33:20ہٹنا شروع ہے
33:21جگہ کوشادہ کرنے لگے
33:22جگہ رسپیکٹ دیتے ہوئے
33:24رگارٹ دیتے ہوئے
33:24کوشادہ کرنے لگے
33:25تو امام مقہول نے وہیں فرمایا
33:26مکان اکم
33:27اپنی اپنی جگہ رکو
33:30دعوہم
33:30دعوہو
33:31اسے چھوڑ دو
33:33حتی یجلس
33:34حیسو عراق
33:36کہ وہ
33:36جہاں اسے جگہ ملے
33:38وہ وہاں بیٹھ جائے
33:38کیوں فرمایا
33:40لیت علمت توادو
33:41تاکہ وہ توازو سیکھے
33:44اب آپ یہ انداز دیکھئے
33:46اس کے اندر ایک
33:46ان کا جو تولیغ کا
33:48اور دعوت کا انداز
33:49دونوں سطحوں کو
33:50جو ان کے پاس لوگ بیٹھے ہیں
33:51ان کو بھی تولیغ ہو رہی ہے یہ
33:53اور وہ جو آیا ہے
33:54اس کو بھی تولیغ ہو رہی ہے
33:55یہ تربیت وہ کیسے کر رہے ہیں
33:57تربیت دونوں سطح پر ہو رہی ہے
33:59اس کی بھی تربیت کر رہے ہیں
34:00کہ دیکھو کہ
34:00توازو سیکھنی
34:01اللہ نے تمہیں اگر
34:02دنیاوی طور پر کوئی منصب دیا ہے
34:04تو تم نے خود سے آگے نہیں
34:05بڑھنا لوگوں کے سامنے جائے
34:07اپنا بڑا بننے کی کوشش نہیں کرنی
34:09جہاں جگہ ملے مجلس میں
34:10تم بیٹھ جاؤ
34:11آجزی انکساری سیکھو
34:12توازو سیکھو
34:13اور ان کو بھی تربیت ہے
34:14کہ بھائی کسی کی توازو
34:16یا انکسار میں
34:17رکاوٹ نہ بنو
34:18ایسا کام نہیں کرو
34:19کہ اگلہ اس سے
34:20شروع سے ہی جائے
34:21وہ سرکش بننا شروع ہو جائے
34:22اور آگے چل کے
34:22اور سرکش اور خود پسندی
34:24اس کی انتہا پہ چلی جائے
34:25تو اس کے مطابق بھی ہے
34:27اگلوں کو ٹریٹ کرو
34:27تو یہ ہمارے اسلاف کا انداز تھا
34:29تربیت کا
34:30تبلیغ کا
34:31دعوت کا
34:32کہ کیا وہ حکیمانہ انداز کے اندر
34:34جہاں وہ تربیت فرمایا کرتے تھے
34:35تو بارہل جائے وہ
34:36امت کو جہاں وہ
34:38دعوت اور تبلیغ سے
34:39جڑے رہنے کی ضرورت ہے
34:41دعوت اور تبلیغ سے
34:42امت جڑی رہے گی
34:43تو امت جہاں وہ ترقی کرے گی
34:45فود و فلا پائے گی
34:46اور اگر دعوت اور تبلیغ سے
34:47امت ہٹے گی
34:48جیسا کہ
34:49بدقسمتی سے
34:49بہت سی حصتوں پر
34:50ہم ہٹے ہوئے ہیں
34:51تو اس کے جو نقصانات
34:53سامنے آرہے ہیں
34:53وہ بھی سامنے آرہے ہیں
34:54ہم پچھڑے ہوئے ہیں
34:55سب کے سامنے
34:55بلکل ایسا ہی ہے
34:56ورنہ ہم تو
34:57امامت کا فریدہ
34:58سرانجام دینے کے لیے
34:59دنیا میں آئے تھے
35:00تو آج اگر ہم
35:01امامت کے فریدے کو
35:02سرانجام نہیں دے رہے
35:03اور ہم پیچھے ہیں
35:03تو اس کے جو
35:04وجہیں ان وجہوں میں
35:05ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے
35:07کہ ہم معروف
35:08اور نہیں منکر کا
35:08جو میکینزم ہے
35:09جس انداز پر ہونا چاہیے
35:11تو اس انداز میں
35:11بارے اندر نہیں ہیں
35:13بہت اچھے انداز میں
35:14اپنے جواب نایت فرمائے
35:15آخری سوال ہے
35:16اور وقت بھی مختصر ہے
35:18کسی دعائی کے لیے
35:19یا مبلغ کے لیے
35:20علم دین کا ہونا
35:22ضروری ہے
35:22یا اس کے بغیر بھی
35:24یہ کام کیا جا سکتا ہے
35:25کچھ فرمائیے
35:25بسم اللہ الرحمن الرحیم
35:27یقینی سی بات ہے
35:28کہ ظاہرہ
35:29اس نے کر دعوت و تبلیغ
35:30کا فریضہ سے انجام دینا ہے
35:31تو اس کے پاس
35:32علم تو ہونا چاہیے
35:33اور علم ہوگا
35:34تو ظاہرہ
35:35اسی علم کی بنیاد پر
35:36وہ آگے اپنی بات کو
35:37پھیلا سکے گا
35:38اور رکھ سکے گا
35:39اگر علم ہی نہیں ہوگا
35:40تو بات کیسے کر سکے گا
35:41تو علم تو ضروری ہے
35:43لیکن ہم یہ دیکھیں گے
35:44کہ اس کے پاس
35:45کتنا علم ہونا چاہیے
35:46یہ اصل سوال ہے
35:47کہ ایک دعائی کے پاس
35:48کتنا علم ہونا چاہیے
35:49تو دیکھیں اس میں
35:50کٹیگریز ہیں
35:52اگر ایک عام شخص ہے
35:53داہرہ وہ عالم تو نہیں ہے
35:55وہ مفتی تو نہیں ہے
35:56تو اس کے پاس
35:57بہت زیادہ علم تو نہیں ہے
35:58لیکن اسے بنیادی
35:59عقیدوں کا علم ہے
36:00اسے بنیادی فرائض
36:01اور واجبات کا علم ہے
36:02تو اس کی جو دعوت
36:04و تبلیغ کا جو دائرہ کار ہے
36:05وہ یہی تک محدود ہے
36:06یعنی وہ نماز کی دعوت دے گا
36:08وہ اگر دیکھے کہ
36:16اسی طرح بے حیائی کا کام ہو رہا ہے
36:18تو وہ اس پر ظاہر ہے
36:19وہ نقیر کرے گا
36:20وہ روکے گا
36:21تو جو اس لیول کا کام ہے
36:23اس کے لئے تو ظاہر ہے
36:24اتنا علم ضروری
36:25اور یہ ان تو فرض این ہیں
36:26یہ ان تو بندے کو
36:27ویسے ہی آنا چاہیے
36:28اور پھر ظاہر ہے
36:29کہ جو علماء ہیں
36:30وہ بڑے لیول پر ہوتے ہیں
36:32تو ان کی جو ذمہ داری ہے
36:33وہ دوسری ہے
36:34اب مثال کے طور پر
36:34ایک شخص ہے
36:35وہ چاہتا ہے
36:36کہ میں بیان کے ذریعے
36:37یعنی میں مبلغ بن جاؤں
36:38مبلغ بن جاؤں
36:39ایک تو نا عام لیول پر
36:41ایک شخص سے وہ دعوت دے رہے
36:42ایک شخص آتے ہیں
36:43میں بقاعدہ مبلغ بن کر
36:44اب میں دعوت و تبلیغ کا کام
36:45سر انجام دوں
36:46تو اب اسے ظاہر ہے
36:47کہ مزید علم حاصل کرنی کی ضرورت ہے
36:49اب دیکھا جائے گا
36:50کہ وہ مبلغ کی سطح کا بن رہا ہے
36:51اب فور ایسیمپل
36:52وہ جمعہ میں
36:53جوہ وہ خطبہ دینے لگیا ہے
36:54جمعہ کا وہ بیان کرنے لگیا ہے
36:55یا وہ اجتماعہ میں
36:57اگر وہ بیان کرنے لگیا ہے
36:58تو ظاہر ہے
36:58کہ پھر اسے
36:59فقہ کے کچھ مسائل
37:01کا بھی علم ہونا چاہیے
37:01اسے حدیث کی بارے میں
37:03بھی معلومات ہونی چاہیے
37:04کہ کون سی حدیث بیان کرنی چاہیے
37:05کون سی حدیث بیان نہیں کرنی چاہیے
37:07اور ابتداع میں
37:08مفتی صاحب نے
37:09جو ایک بات ذکر کی دینا
37:09کہ بعض لوگ
37:10جو مائل ہوتے ہیں
37:12وہ اقلی دلائے سے مائل ہوتے ہیں
37:13بعض لوگ جب وہ
37:14دل والی باتوں سے مائل ہوتے ہیں
37:15تو اس کو یہ سمجھ بوجھ بھی ہونی چاہیے
37:17کہ اس کے سامنے
37:17آڈینس کیسی ہے
37:18کہاں اسے وہ
37:19انٹیلیکچو لیول پر جا کر بات کرنی ہے
37:21کہاں اسے جب وہ
37:21عشق اور مزاج کی
37:23اور دل لگی کی بات کرنی ہے
37:25کہاں شاعریہ اس کو بس منانی ہے
37:26کہاں واقعات سے
37:27جب وہ
37:27لوگوں کو جب وہ
37:28مائل کر سکتا ہے
37:29تو ظاہر سامعین کا علم
37:31یہ بھی بہت زیادہ ضروری ہے
37:32تو جو دعوت دے رہا ہے
37:34یعنی جو اس کا کلام ہے
37:35اس کا علم
37:36اور جو سامعین ہیں
37:37ان کے بارے میں نالج
37:39یہ بھی جو ہے وہ
37:40اس کو ضروری معلومات
37:41میں بہت شکریہ دہ کروں گا
37:42آپ کی تشریف آوری کا مفضل
37:43آپ کی تشریف آوری کا بہت شکریہ
37:44اجاز رحمانی نے کہا تھا
37:46کہ تبلیغ اسلام کی منزل
37:49آسان بھی دشوار بھی ہے
37:51رحمت کا گہوارہ بھی ہے
37:53طائف کا بازار بھی ہے
37:55ناظرین محترم یہ بہت ہی
37:57اہم ذمہ داری ہے
37:58جو بھی اسے اختیار کرتا ہے
38:00اگر وہ کوئی شوگر کوٹنٹ باتیں کرے
38:02ادھر ادھر کی کہانیاں سنائیں
38:04اور اس سے اگر
38:05کوئی گفتگو پر
38:06کوئی مہارت حاصل ہے
38:07جملے بازی پر
38:08یا اشہار پر
38:09اور وہ سمجھے کہ
38:10میں دعوت دعوت تبلیغ کا کام شروع کر دوں گا
38:13مال بنا لوں گا
38:14یہ الگ چیز ہے
38:15لیکن جو ذمہ داری ہے
38:16جیسے کہ ابھی
38:17بہت اچھے انداز محافظ صاحب نے بیان فرمایا
38:20کہ ان چیزوں کا علم رکھنا بہت ضروری ہے
38:22تاکہ آپ کے علم سے جو ہے
38:24لوگ روشنی حاصل کریں
38:25اور اپنے ظاہر و باطن کو روشن کریں
38:28بہرحال بہت اہم موضوع ہے
38:29اس کنٹینیو کریں گے
38:31انشاءاللہ کل بھی اور پرسو بھی یہ موضوع جاری رہے گا
38:33اس کو ضرور دیکھئے گا
38:34اور کوشش کیجئے گا
38:35اس کے مطابق اپنی زندگی گزارنے کی
38:37اس کے ساتھ ہی اپنے میزبان محمد رئیس احمد کو اجازت دیجئے
38:40اللہ حافظ
38:45روشنی سب کے لیے
38:48روشنی روشنی سب کے لیے
38:53روشنی روشنی سب کے لیے
Comments