- 52 minutes ago
Category
🛠️
LifestyleTranscript
00:00ڈل مسلم کو وہ زندہ تمنہ دے یارب ڈل مسلم کو جو قلب کو گرمہ دے جو روح کو تڑپا
00:15دے یارب
00:17الحمدللہ وحدہ والصلاة والسلام علام اللہ نبی عبادہ اما بعد فوض باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:25السلام علیکم ناظرین اے آر وائی کیو ٹی وی لاہو سٹوڈیو سے پروگرام اتحاد امت لے کر ڈاکٹر محمد طاہر
00:33مصطفیٰ آپ کی خدمت میں حاضر
00:36ناظر اکرام اللہ رب العزت پر ایمان ہماری سرشت میں شامل ہے ہمارے خمیر میں شامل ہے ہمارے خون میں
00:44شامل ہے
00:45ہم نے اپنی زبان سے اللہ پر ایمان کا اظہار تو اس وقت کیا تھا جب ہم نے شعور کی
00:53آنکھ کھولی تھی
00:54لیکن ہمارے سینے کے اندر جو دل دھڑکتا ہے اس نے تو اللہ رب العزت پر ایمان کا اظہار اس
01:02وقت کر دیا تھا
01:03جب ہم ماں کی پیٹ کی اندیر گھاٹیوں میں تخلیق پا رہے تھے
01:08جب دل دھڑکا پہلی مرتبہ تو اللہ پر ایمان کا اظہار تھا
01:14ہمارا دل تب ہی دھڑکتا ہے کیونکہ وہ اللہ پر ایمان رکھتا ہے یہ اللہ کی اطاعت سے دھڑکتا ہے
01:21ہم اس کو روک نہیں سکتے ہمارا دل پہ کوئی اختیار نہیں ہے
01:26میں چاہوں بھی تو جب تک اللہ نے اس دل میں دھڑکن رکھی ہے
01:31نہ میں اس کو کم کر سکتا ہوں نہ زیادہ کر سکتا ہوں نہ روک سکتا ہوں نہ چلا سکتا
01:35ہوں
01:36یہ اللہ کے اختیار میں ہے
01:38اس قدر کامل ایمان ہے دل کا اللہ کی ذات پر
01:43اور اس کے بعد ناظرین کرام ہم اپنے جوارح کو دیکھیں
01:46تو آنکھ کا اللہ پر ایمان ہے
01:50تو یہ ہمیں دنیا دکھلاتی ہے
01:53زبان کا اللہ پر ایمان ہے
01:56تو یہ ہمیں ایک دوسرے سے ہم کلام ہونا سکھاتی ہے
02:01سماعتوں کا اللہ پر ایمان ہے
02:03تو یہ ہمیں کائنات کی آوازیں سماعت کرواتی ہے
02:07لیکن ناظرین کرام ایمان کے بعد جو دوسرا درجہ ہے وہ عبادت کا ہے
02:15عبادت کیا چیز ہے
02:16ہم عبادت کہتے ہیں نماز روزہ حجر زکاة کو
02:20لیکن ناظرین کرام عبادت کا جو مصدر ہے وہ عبادہ ہے
02:26اور عبادہ کے معنی کیا ہے غلامی کرنا
02:29اپنے آپ کو سممٹ کر دینا
02:31اور غلام جو ہوتا ہے اپنے مالک کا جو رزق کھاتا ہے
02:36وہ تو کل وقتی غلام ہوتا ہے
02:38وہ کسی خاص اوقات میں یا خاص دن کے لیے غلام نہیں ہوتا
02:43تو ہم بھی اللہ رب العزت کے غلام ہیں
02:45اس کے بندے ہیں
02:47اس کے سرونٹ ہیں
02:48اس کے سلیو ہیں
02:49لہٰذا زندگی کے ہر لمحے میں
02:52ہم اللہ کے عبد ہیں
02:54اور اس کے غلام ہیں
02:55اور غلامی کے معنی و مفہوم میں یہ بات داخل ہوتی ہے
02:59کہ وہ اپنے مالک کی ہر وقت
03:01جیسے وہ بات کہہ دے
03:03اس طرح کو ماننا
03:04ایک ہے اللہ کو ماننا
03:07یہ اللہ پر ایمان ہے
03:09ایک ہے اللہ کی ماننا
03:11یہ اللہ کی عبادت ہے
03:13ناظر کرام یہ جو نواز روزہ حج اور زکاة
03:16ہم ادا کرتے ہیں
03:17یہ عبادت کے طریقے ہیں
03:19اور اللہ رب العزت نے
03:21اپنی عبادات کے طریقوں کا نقشہ بھی ایسا بنایا ہے
03:25کہ اس میں بھی
03:27اس راستے پر چل کر بھی
03:29جو ہمیں منزل ملتی ہے
03:31وہ اتفاق کی ملتی ہے
03:33محبت کی ملتی ہے
03:34یگانگت کی ملتی ہے
03:36احساس کی ملتی ہے
03:37سب کا دائرہ کار
03:39اتحاد اور محبت اور اتفاق ہے
03:41ناظر کرام آج ہمارے پروگرام کا موضوع بھی یہی ہے
03:44کہ اللہ رب العزت نے
03:46جو اپنی عبادات کا نقشہ بنایا ہے
03:48اس میں ہم کس طرح سے
03:50اتحاد کے کونسپٹ کو اچیو کر سکتے ہیں
03:53اتحاد کی منزل کو ہم اچیو کر سکتے ہیں
03:56اس پر آج ہم گفتگو کرنے والے ہیں
03:58اور گفتگو کرنے کے لیے
04:00میری دائیں جانب تشریف رکھتے ہیں
04:01جنابِ ڈاکٹر مفتی محمد عمیر اسلم
04:04ماشاءاللہ
04:05ملائیہ یونیورسٹی ملائشیا سے آپ پیشدی ہیں
04:07عالم دین ہیں
04:08بہت خوبصورت گفتگو کرتے ہیں
04:10آج مارے پروگرام کی زینت ہیں
04:11السلام علیکم ورحمت اللہ
04:12علیکم السلام
04:19جنابِ علامہ مفتی سید محمد فاروق شاہ صاحب
04:23سیفی
04:24عالم دین ہیں
04:26پی ایش ڈی سکولر ہیں
04:27بہت خوبصورت گفتگو کرتے ہیں
04:29آج مارے پروگرام کی زینت ہیں
04:30السلام علیکم ورحمت اللہ
04:33جزاک اللہ
04:33ناظرین اکرام ان کے ساتھ تشریف رکھتے ہیں
04:36جنابِ پروفیسر وحید الزما
04:38آپ سپیریئر یونیورسٹی میں
04:40شبہ علومِ اسلامیہ کے استاز ہیں
04:43اور پی ایش ڈی سکولر ہیں
04:45بہت خوبصورت گفتگو کرتے ہیں
04:46ہمارے پروگرام میں پہلے بھی تشریف لاتے ہیں
04:48آج بھی زینت ہیں
04:49السلام علیکم
04:50علیکم
04:51کیسے محضات ہیں
04:52الحمدللہ
04:53ڈاکٹر مفتی عمیر صاحب
04:54آپ سے گفتگو کا آغاز کرتے ہیں
04:56جیسے میں نے عرص کیا ہے
04:57کہ
04:59اللہ کی عبادات کا جو نقشہ ہے
05:01وہ بھی ہمیں منزل جو دکھاتا ہے
05:04انسانوں کے درمیان
05:06اتحاد کی
05:07اتفاق کی
05:08محبت کی
05:09مبدت کی
05:10احساس کی
05:10منزل دکھاتا ہے
05:13جب ہم عبادات کے طریقوں کی طرف آتے ہیں
05:15میں طریقے کا لفظ
05:17بہت ہی
05:19یوں سمجھیں کہ
05:22جان بوجھ کر بول رہا ہوں
05:24تاکہ یہ واضح ہو
05:25کہ عبادت تو زندگی کے ہر لمحے میں
05:28ہمارے اوپر فائز ہے
05:29اور عائد ہے
05:30یہ جو نماز پڑھتے ہیں
05:32ہم دن میں پانچ مرتبہ
05:33یہ اس کے سامنے
05:35اللہ کی عبادت کا طریقہ ہے
05:36اللہ نے ہمیں بتایا
05:37کہ اس طرح میرے سامنے غلامانہ
05:39انداز میں حاضر ہونا ہے
05:40اس کے بارے میں
05:41جو قلام اللہ ہمیں درست دیتا ہے
05:43وہ ہے
05:44ورقعو مر راکعین
05:47عقیم الصلاة وعات الزکاة
05:49ورقعو مر راکعین
05:51کہ نماز قائم کرو
05:52زکاة دیا کرو
05:53اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ
05:54رکوع کیا کرو
05:55یہ جو رکوع کرنے والوں کے ساتھ
05:57رکوع کیا کرو
05:58تمام مفسرین کا اتفاق ہے
05:59کہ باجمات نماز کی طرف
06:02ایک درست ہے
06:03ایک رہنمائی ہے
06:04کیا حکمت ہے
06:05کیوں یہ حکم آیا
06:06ورقعو مر راکعین
06:08الحمدللہ رب العالمین
06:10والصلاة والسلام علیہ
06:11سید الانبیاء والمرسلین
06:13وعلى علیہ وصحابی اجمائن
06:15بہت شکریہ ڈاکس آپ
06:16آپ کا
06:17ای آر وائی کیو ٹی وی کا
06:18پوری منجمنٹ کا
06:19ماشاءاللہ
06:19آپ ہر پروگرام میں
06:21انتہائی فکر انگیز
06:23حوالات کو لے کر
06:24اور جو
06:25جن چیزوں کی طرف
06:26ہمارے معاشر کو
06:27توجہ دلانے کی ضرورت ہے
06:28آپ اس عظیم کاوش
06:29کو اثر انجام دے رہے ہیں
06:30اللہ آپ کے المفضل میں
06:32برکتیں اطاف فرمائے
06:34حضرت علامہ اکبار
06:35رحمت اللہ علیہ نے
06:36آپ نے ارشاد فرمایا تھا
06:38کہ فلسفہ تو رہ گیا
06:50اگر ہم دیکھیں تو
06:52جتنی بھی عبادات ہیں
06:53چاہے وہ نماز ہے
06:55روزہ ہے
06:56زکاة ہے
06:56حج ہے
06:57ایک ہے
06:58کسی بھی عبادت کی
06:59ظاہری صورت
07:00اور ایک ہے
07:01اصل اس کی روح
07:02کہ اصل اس کی روح کیا ہے
07:04اللہ تعالیٰ ہمیں
07:04اس سے کیا پیغام دینا چاہتا ہے
07:06اس سے ہمیں
07:07معاشرے میں کیا فوائد
07:08پہنچانا چاہتا ہے
07:09میں لفظ
07:10جو ارز کر رہا ہوں
07:12ذکر کر رہا ہوں
07:13کہ ہمیں کیا فوائد
07:14پہنچانا چاہتا ہے
07:15اگر ہم دیکھیں
07:16تو نماز کا بھی
07:17بنیادی طور پہ
07:17بہت سارے اس کے
07:19مقاسد ہیں
07:20جو کہ اللہ تعالیٰ نے
07:21اس عظیم عبادت میں رکھے
07:22ان میں سے جیسا کہ
07:23فرمایا کہ
07:24وَرْقَعُوا مَعَرْرَاقِين
07:25کہ تم رکوع کرنے والوں کے ساتھ
07:28رکوع کرو
07:28یعنی باجما جو ہے
07:29وہ نماز ادا کرو
07:30حضور نبی اکرم
07:32صلی اللہ علیہ وسلم
07:33آپ کی
07:33احادیث کو دیکھیں
07:34قرآن پاک کی
07:35دیگر آیات کو دیکھیں
07:36صف بندی کے حوالے سے
07:38جماعت کی
07:39اہمیت کے حوالے سے
07:40بہت سارے ہمیں
07:40فرامین قرآن پاک میں
07:42اور احادیث مبارکہ میں
07:43ہمیں ملتے ہیں
07:44جس سے ہمیں
07:45معلوم ہوتا ہے
07:46کہ دین اسلام میں
07:47جماعت کی
07:47بہت زیادہ اہمیت ہے
07:48میں یہاں پر
07:49صحیح بخاری شریف کی
07:50وہ حدیث لینا چاہوں گا
07:51جس کے متعلق
07:53معروف حدیث ہے
07:53حضور نشاہ فرمایا
07:54کہ
07:55میرا
07:55مجھے کبھی کبھی
07:57میرا یہ دل کرتا ہے
07:58کہ میں
07:58نماز کا حکم دوں
07:59جماعت کھڑی ہو جائے
08:00اور پھر میں
08:01اپنے ساتھ
08:03کچھ ساتھیوں کو لے کر
08:03گروں میں چلا جاؤں
08:04اور جو لوگ
08:05اپنے گروں میں
08:06نماز ادا کر رہے ہیں
08:07ان کے گروں کو
08:07آگ لگا دوں
08:08اگر مجھے
08:09خواتین کا
08:09اور بچوں کا
08:10اندیشہ نہ ہو
08:11وہ وہاں پر
08:11موجود نہ ہو
08:12ڈاکس اب
08:13اس سے اگلے جو
08:14حضور نبی اکرم
08:15صلی اللہ علیہ وسلم
08:15کے الفاظ مبارک ہیں
08:16وہ یہ ہے
08:17حضور نشاہ فرما ہے
08:18کہ جب تک
08:18تم اپنے نبی کی
08:19سنت پر قائم رہو گے
08:21تو ہدایت کے رستے پر
08:22ثابت قدم رہو گے
08:23یعنی
08:24کریم آقا صلی اللہ علیہ وسلم
08:25آپ
08:25اس سنت سے خاص طور پر
08:27جماعت کا
08:28حضور ذکر فرما رہے ہیں
08:30اس کے جانب
08:30اشارہ فرما رہے ہیں
08:31جس سے معلوم ہوتا ہے
08:33کہ جماعت کی
08:34پبندی جو ہے
08:34وہ امت کے
08:35ہدایت کے اوپر
08:36ثابت قدم رہنے کی
08:37دلیل ہے
08:38تو یہ ایک تو ہمیں
08:40ایک
08:41اس پہلو سے ہمیں
08:42جماعت کی اہمیت
08:43کا اندازہ ہوتا ہے
08:44کہ جماعت اس قدر
08:45اہم ہے
08:46کہ امت اس وقت تک
08:47ثابت قدم رہ گی
08:48ہدایت پر
08:48جب تک وہ جماعت
08:50کو مستحکم پکڑے گی
08:51اور اتحاد
08:52کا درس بھی
08:53ہمیں جماعت سے ہی
09:00اور دوسرے کے ساتھ
09:01محبت اور مودد پیدا ہوگی
09:03اور اتحاد کی
09:04فضاء قائم ہوگی
09:04اکیلے میں
09:05تو اتحاد نہیں ہوتا
09:07اب جب جماعت کی
09:09اہمیت کو
09:09پیاری آقا صلی اللہ علیہ وسلم
09:11نے ارشاد فرمایا
09:12اور اہمیت کو
09:13واضح کر دیا
09:13پھر اس کے بعد
09:14حضور نے ارشاد فرمایا
09:15کہ جب تم
09:16صف بندی کرو
09:17تو اپنی صفوں کے اندر
09:18کسی بھی قسم کا
09:19خلا نہ رکھو
09:19اگر تم خلا رکھو گے
09:21جس طرح سے
09:22ظاہری طور پر خلا ہوگا
09:23اسی طرح
09:24تمہارے دلوں کے اندر
09:25بھی ایک دوسرے کے لیے
09:26نفاق پیدا ہو جائے گا
09:27کریم آقا صلی اللہ علیہ وسلم
09:28نے آپ نے
09:29صف بندی کو
09:30ایک دوسرے کے ساتھ
09:31متحد ہونے
09:32کو حضور نے
09:32دلوں کی محبت کے ساتھ
09:33تعبیر کیا
09:34اور جو خلا ہے
09:35اس کو دلوں کے
09:36نفاق کے ساتھ
09:36تعبیر کیا
09:37یعنی جب ہم
09:38جماعت کے اندر
09:39کھڑے ہوتے ہیں
09:39تو اللہ اس کے
09:40رسول صلی اللہ علیہ وسلم
09:41کی تعلیمات کی روشنی میں
09:42ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے
09:43کہ جماعت کے ذریعے سے
09:44دلوں کے اندر
09:45محبت پیدا ہوتی ہے
09:46اگر جماعت کے اندر
09:47صف بندی کے اندر
09:48ہمارے اندر خلا ہوگا
09:49تو اس سے دلوں کے اندر
09:50نفاق کے پیدا ہونے
09:51کا اندیشہ ہے
09:52جس طرح سے
09:53حدیثیں بارکہ میں
09:53ذکر کیا گیا
09:54لہٰذا میں نے پہلے
09:55جماعت کی اہمیت کو بیان کیا
09:57جماعت کی اہمیت کے بعد
09:58ہمیں معلوم ہوتا ہے
10:00کہ اس کی اہمیت
10:00اس کے فائد کیا ہے
10:01کہ اس سے دلوں کے اندر
10:03انصیت پیدا ہوتی ہے
10:04دلوں کے اندر
10:04محبت پیدا ہوتی ہے
10:05جماعت کے لیے
10:06جب مسلمان
10:08مسجد کے اندر
10:09کسی بھی جنگہ
10:09اکٹھے ہوتے ہیں
10:10دن میں پانچ دفعہ
10:11تو اس سے ایک تو
10:12مسلمانوں کی
10:13اجتماعیت کا اظہار ہوتا ہے
10:15اصل تو
10:16جو تارگٹ ہے
10:17جو حدف ہے
10:18وہ اس کو اچیف کرنا ہے
10:19کہ مسلمانوں کو
10:20اجتماعیت قائم ہو
10:21اور اجتماعیت سے
10:22اتحاد امت کا
10:24ایک مظہر سامنے آئے
10:25جب اجتماعیت ہوگی
10:27تو اتحاد امت ہوگا
10:28جب اتحاد امت کو
10:30پیدا کرنے کے لیے
10:30جب اتحاد امت ہوگا
10:32تو انصیت پیدا ہوگی
10:33محبت پیدا ہوگی
10:34ایک دوسرے کی
10:35خبرگیری کا جذبہ پیدا ہوگا
10:36ایک دوسرے کے
10:37مسائل کے حوالے سے
10:38ہمیں اگاہی ہوگی
10:39اور ایک دوسرے کے
10:40into it that we have poisoned the forces of all of us.
10:43In that way, Islam has
10:45नमाज की अहमेट, जमाज की हमेट के वियान करकर
10:59मुपती उमेर साम ने बहुत खबस्वरत आगास किया
11:02जमायत की हम्यत का जमाद के हमानी मज़र के इसका नाज़री मज़र इसका नाज़र भी आता है
11:33Thank you very much.
12:10that we will date each of them in one of the forces.
12:13Then they will be speaking to people.
12:16If they will be speaking to people,
12:19Wenn we hear that they do not speak to them,
12:24They will be speaking to them.
12:26Leadership is in läBICE.
12:29These are the only ones here are the reasons.
12:34The other one,
12:35when the Turkish government
12:38and every person made a refuge in a while,
12:40he said those who started to get there,
12:41has ya al-salah, has ya al-falah,
12:43and go to the no longer.
12:46So every woman who comes to the right,
12:49every woman who comes to the right is,
12:51every woman who comes to the right,
12:54there's a relationship between the two sides that are going through
12:56and the right and other people who come.
12:58This is a man who comes to a relationship.
13:00Very good to know about this.
13:01This is your youth,
13:01this is your youth,
13:02but with you guys,
13:03this is our youth,
13:06programتحادِ
13:07امت ہے وقفہ
13:08ہے
13:08اور وقفے
13:09میں
13:09ہم
13:09جائے کرتے
13:10ہیں
13:10دربار
13:10رسالت
13:11میں اور اپنے
13:11نبی
13:12کریم کی
13:13ذات
13:13اکدس
13:13پر والحانہ
13:14انداز
13:15میں درود
13:15کریم
13:16کا نظرانہ
13:16پیش کرتے
13:17ہیں وقفے
13:18کے بعد ناظرین
13:19کریم
13:19دوبارہ
13:19آپ
13:19As many people who are at the same time of work, I think a need of authority.
13:22And today we have our subject to the Minnumun and Madame of the Rights of the Rights of the Rights
13:29of the Rights of the Rights of the States.
13:33Sir Professor Vahid Uzzaman, I am on the way of being.
13:39I have the question from the Jumaj of the Council of the Rights of the Rights of the Rights of
13:44the� and the labor movement.
13:45ڈیسٹ میں ہونی چاہیے مصطب یہ ہے پسندیدہ یہ ہے حکمی یہ ہے میں ہمسایہ
13:52ملک میں گیا وہاں ایک ہی دار و حکومت میں صرف ایک مسجد میں ہو جمعہ میں نے
13:57observe کیا اور کسی مسجد میں نہیں تمام لوگ ایک ہی مسجد میں سینٹرل
14:02موسک میں آ کے جمعہ کی نماز ادا کر رہے تھے اس کی حکمت کیا ہے پہلے
14:08پانچ نمازوں کے لیے کہا کہ اپنے اپنے محلے کی مسجد میں جمعہ کے لیے
14:12کہا کہ ایک ہی مسجد میں جائیں پھر عید کے لیے کہا کہ کھلے میدان میں
14:17جائیں کیا حکمت ہے بسم اللہ الرحمن الرحیم رب شرح لی صدری ویسلی
14:24امری وحلل اقضتا من لسانی افقا ہو قولی بہت بہت شکریہ کہ بلا
14:29ساتھ محترم آپ نے ایک مرتبہ پھر مجھے مدو کیا اور میں بڑا اس حوالے
14:34سے خوش نصیب ہوں کہ یہ موضوع میرے حصے میں آیا دین اسلام کی عبادات
14:41کا جس رہا آپ نے شروع میں تعرف کروایا ایک بڑا ہی خوبصورت منظر
14:45یہ نظر آتا ہے کہ کچھ چیزیں سمبولک ہیں گویا کہ وہ اگر آپ کسی
14:51کو نہ بتائیں تو پرفارم کر رہے ہونا تو وہ جو ہمارے ایکشنز ہیں
14:55وہ بتا دیتے ہیں کہ در حقیقت اس وقت انسان کس کیفیت میں ہے جس رہاں
15:01صلاح کی ابتدا کرتے ہیں نماز کی ابتدا کرتے ہیں دونوں ہاتھوں کو بلند کر لیتے ہیں
15:05مقصد یہ ہے کہ میں اپنے خدا سے اللہ العالمین میں نے دنیا سے ہاتھ
15:10اٹھا لیے اب آپ کے دربار میں آگئے میں اب آپ کے دربار میں آگئے ہوں
15:14اور اس عبادت کا یہ سمبولک جو ہے سب سے بہترین جو آپ نے وائے
15:19مبارکہ تلاوت فرمائی ورکعو مار راکعین جھک جانا یہ سب سے بڑی آجزی
15:25اور انکساری کے علامت ہے اور اس سے بڑی آجزی اور انکسارے کی اور اپنے آپ
15:30کی سمیشن کا جو ایک ایکٹ ہے وہ سجدہ ہے یعنی کہ سب سے خوبصورت رکن
15:35جو ہے نماز کے اندر وہ سجدہ ہے کہ یہاں پر انسان ہر چیز سے
15:39کٹ آف ہو گیا ہے اور اپنے پروردگار وحدہو لا شریک سے اس کا جو
15:43کنیکشن ہے وہ براہ راست کنیکٹ ہو جاتا ہے سب سے پہلے تو حکمت
15:47عملی یہ ہے دوسرا جو پیغام ہے جسنا آپ نے فرمایا کہ یہ اب کیا
15:54سنسلہ ہے کہ پہلے محلوں میں محلوں سے پھر شہروں میں پھر جامع
15:57مساجد میں یہ سنسلہ بڑھتا چلا جاتا ہے اگر ہم تاریخ کا
16:00مطالق کریں نا تو میں محسوس ہوتا ہے کہ پہلے جو جمعہ تھا
16:03نا وہ ریاست کے امیر یا امین پڑھائے کر دیتے جو ریاست کی جانے
16:08تھے منتخب بلکل آپ بلکل ضرورت فرما رہے ہیں اب بھی ہونا ہی
16:12ایسا چاہیے اور میں آنا بھی ادھر ہی چاہ رہا تھا اصل میں پہلے جو
16:17خطبہ جمعہ ہوتا تھا وہ ریاست کا امیر امین یا اس وقت کا جو
16:22منتخب وزیر یا جو بھی اس وقت ہوتے ہوتے تھے وہ شخص پڑھاتا تھا
16:26پہلے پیغام ہوتا تھا معاشرتی سطح کے اوپر بلکل بنیادی سطح پر
16:31ایک محلے کا پیغام دینا ہے اس کے لیے تمام لوگ مسجد میں رہا کر
16:35جمع ہوں گے تاکہ یہ پتہ لگ سکے کہ محلے کے اندر کیا مسائل ہیں
16:40کن کو سولف کرنا ہے کس کے ہاں کیا مسائلہ ہے اس کو دیکھا جائے اور اس کے
16:47ساری ریپورٹنگ اکٹھی کرتا تھا امام ریپورٹ اکٹھی کر کے جمعہ والے دن یا
16:52جمرات والے دن جو ہے وہ امیر کو جا کے پہنچاتا تھا امیر ان تمام
16:56معاشرتی مسائل کو دیکھتا تھا کہ کہاں پر گیپ آ رہا ہے اور اس گیپ کو
17:00ختم کرنے کے لیے اس خطبے کے اندر وہ ان چیزوں کو بیان کرتا تھا
17:04اگر آپ خطبہ حجت الویدہ کو دیکھیں اس میں کیا معاملات ہیں کیا اس میں وہ
17:09معاملات ڈسکس کیے گئے ہیں جو پہلے ڈسکس ہو چکے نہیں بلکہ ان روایات
17:13اور رسومات کو توڑا گیا اور آپ نے وہ جمعہ غفیر سے فرمایا کہ آج کے
17:18دن کسی گھورے کو کسی کالے یا کسی کالے کسی گھورے امیر غریب یہ
17:22سارا قطبہ پڑھیں گویا آپ نے سوسائٹی کے ایشوز کو اٹھایا ہمارا
17:27مسئلہ آج یہ ہے کہ پنجگانہ نماز بھی ہو رہی ہے لیکن جمعہ کے اندر جو
17:31میں سے جانا چاہیے ہونا تو یہ چاہیے تھا جسنا آپ نے فرمایا کہ میں نے
17:36دیکھا کہ ایک جامعہ مسجد ہے میں نے جہاں پر تعلیم حاصل کی ہے وہاں
17:39پر سولہ مساجد تھی کہ بلاؤ سازے مطرم ان سولہ مساجد میں سے صرف
17:44ایک میں جمعہ ہوا کرتا تھا بلکل پورا گاؤں کٹھا ہوتا تھا اس جامعہ
17:48مسجد کے اندر اور میں نے کبھی بھی اس مسجد کے اندر جسنا ہم روزے کے
17:53فضائل یہ میں سمجھتا ہوں کہ دین اسلام کی طرف سے بلدیاتی نظام
17:56تھا یہ ایک ایسا سفتم تھا ایک دلی محلے کے لوگ ایک بسجد میں کٹھے
18:01ہوں پانچ مرتبہ اپنے دکھ درد بانٹیں ایک دوسرے کے ساتھ
18:05تعروف حاصل ہو پھر اس تعروف کے دائرے کو ایکسپنس کیا جمعہ
18:09کی ذریعے سے کہ جو دوسرے محلوں کے لوگ ہیں وہ بھی سنٹرل
18:13موسک میں آ جائیں اور صرف جمعہ تک نہیں اس میں جو امیر ہوتا تھا
18:18اس کو پتا ہوتا تھا یہ فلا محلے سے شخص آیا اور اس کا یہ
18:21مسئلہ ہے اس کے پاس پہلے سے ریپورٹنگ ہوتی تھی اور پھر وہ
18:24حضرت امی عطیہ کی وہ جو روایت ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ
18:27شاہ فرمایا جب عید کی نماز کے لیے آپ جا رہے تھے آپ نے
18:30فرمایا خواتین کو بھی لے کر آؤ بچوں کو بھی لے کر آؤ گویا
18:33یہ ایک تو اسلام میں اجتماعیت کا جو کونسپٹ ہے ان سب کو وہاں
18:37پر جمع کرنا تھا اس کا مقصد یہ تھا کہ سارے وہاں پر جمع
18:40ہوں اور ایک حاکم کے ماں تحتی ہوں آج ہمارا یہ تھوڑا سا
18:44گہ پا گیا ہے کہ ہمارے اہمہ اکرام مساجد کے محلے سے بچارے
18:48ناشنا ہیں وہ اس طرح ان چیزوں کو معاملات کو کٹھانی پر پارے
18:53اور نہ ہی ریاست کی طرف سے کوئی ایسا کام کیا جا رہا ہے کہ
18:56مساجد کے خطبے یا ان کے اندر اپنے نمائندوں کو وہ بھیج کر
18:59ان تمام معاملات کو یہ میں نے ہاں جی اس پہ آنا تھا کہ ہمارے
19:02جمعے کے خطبات جو ہیں وہ اس میں کیا مضمون ہونا چاہیے
19:06وضو اور غسل کے مسائل ایشو نہیں ہیں جمعے کے خطبے کا یہ تو
19:12ایشوز سوسائیٹی کے ڈسکس ہونے چاہیے ان میں کہاں گیپ ہے جیسے آپ نے
19:15بلکل شاہد سنا تھا مجھ سب چونکہ عبادات کے طریقوں میں یا عبادات
19:20میں ہم نے نماز سے بات شروع کی آگے بڑھتے ہیں روزہ کی طرف
19:25روزہ بھی بہت ہی خوبصورت عبادت ہے بلکہ روزہ کے بارے میں
19:29اللہ رب العزت کا جو ارشاد ہے کہ روزہ صرف میرے لیے ہے اور
19:36میں ہی اس کی جزا دوں گا کیونکہ انسان کسی کو نہیں بتاتا وہ
19:41صرف یا مجھے پتا ہوتا ہے اللہ کی ذات ارشاد فرماتی ہے یا میرے
19:44بندے کو پتا ہوتا ہے کہ اس بادت میں ہے ایک ہے رمضان کے روزے
19:48ایک ہے نفری روزے یہ جو اللہ رب العزت نے آیت کیے ہیں اس کا
19:54کلام اللہ میں جو مقصد بیان کی ہے اللہ اللہ کم تتکون
19:58تاکہ تم متقی بن جاؤ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اس تقوے کے
20:03اندر بھی between the lines جو حدف ہے وہ یہ ہے کہ کہیں
20:08یاد رکھنا جب تم بھوکے ہو گئے نا تو تمہیں احساس ہونا
20:13چاہیے کہ تمہارے افطار کے وقت تو بارہ کھانے تمہارے
20:17سامنے ہوں گے لیکن تمہاری سوسائیٹی میں ایسے لوگ بھی ہیں جن کے
20:21گھر میں بارہ مہین افاقہ رہتا ہے وہ ایک طبقہ بن گیا ہے اس
20:26طبقے کو ہم نے اوپر لانا ہے دوبارہ اتحاد کی طرف تمام بنیادی
20:31حقوق کے اتبار سے مصابعت اللہ رب العزت نے قائم کی ہے روزہ اور
20:35روزے کی عبادت ہمیں کس طرح سے احساس انسانیت کا اور اتحاد انسانیت
20:41کا درس دیتی ہے ڈاکٹر صاحب قبلہ حضور نبی اکرم صلی اللہ
20:47صلی اللہ علیہ وسلم کا معروف فرمان ہے کہ یہ جو مہینہ ہے شہر
20:51المواسط ہے یہ ہمدردی کا مہینہ ہے حضرت سلمان فارسی سے معروف یہ
20:56تفصیلی خطبہ ہے جو کریم آقا صلی اللہ علیہ وسلم آپ ماہ
20:59رمضان کی آمد سے قبل ارشاد فرماتے تھے ماہ رمضان کی اہمیت کے
21:03والے سے اور اس میں جو بنیادی جملہ ہے کہ یہ مہینہ ہمدردی کا
21:07مہینہ ہے احساس کا مہینہ ہے ہم ماہ رمضان میں دیکھتے ہیں کہ
21:11پوری جو امت ہے وہ متحد ہو جاتی ہے وہ کس طرح سے ایک تو ہے
21:16کہ جب ہم کھانا کھائیں گے اس وقت اکٹھے وہ احساس وہ بالکل
21:21ایسا ہے لیکن جب ہم دیکھتے ہیں کہ امیر کے پاس ہر طرح کے وسائل
21:26ہیں مختلف انواع اقسام کے اس کے پاس کھانے موجود ہیں دیگر ایامے
21:30دیگر مہینوں میں جب اس کا دل کرتا ہے وہ کھانا کھاتا ہے جب اس کا
21:34دل کرتا ہے وہ پی لیتا ہے دیگر مشروبات کو استعمال کرتا ہے لیکن
21:37جو غریب ہوتا ہے وہ ایک وقت کا کھانا کھاتا ہے پھر اس کا دوسرا
21:41وقت رات کو اس نے کھانا کھانا ہوتا ہے تو جب ماہ رمضان دیکھتے ہیں
21:45ماہ رمضان کے اندر امت ایک پلیٹ فارم پہ ہوتی ہے یعنی چاہے
21:50کوئی امیر ہے چاہے وہ غریب ہے سب کا ڈیوریشن سب کی جو
21:54ٹائمنگ ہے وہ کھانے پینے کی وہ ایک ہوتی ہے کہ آپ نے سہری کے
21:57وقت کھانا ہے سہری سے پہلے اور آپ نے پھر بوقت افطار جو
22:00ہے وہ روزہ افطار کرنا ہے اس میں امیر غریب سارے کے سارے وہ
22:04ایک ہی ٹائم میں ہمیں مظہر یہ نظر آتا ہے اتحاد امت کا ایک
22:08تو اس میں اتحاد امت یہ تو ہے جو ظاہری طور پر نظر آتا ہے جو
22:13باطنی طور پر اس کا حدف ہے جو مقصد ہے وہ تو مفسی صاحب یہ
22:17ہے نا کہ طبقات نہ پیدا ہو جائیں ایک غریب اور امیر طبقہ نہ
22:21پیدا ہو جائے جی اس تفریق کو مٹانے کے لیے اللہ رب العزت نے یہ
22:24عبادت رکھی ہے کہ بھوک سے تمہیں اس طبقے کی بھوک کا اندازہ
22:28ہونا چاہیے جو بارہ مہینے بھوک ہے بالکل ایسے میں کیونکہ ہمارا
22:33پروگرام اتحاد امت ہے جیسے آپ نے سوال میں فرمایا جہاں ورق
22:37امار راکین ہے اور وہاں ہم روزہ بھی دوسرے روزہ داروں کے ساتھ
22:42رکھ رہے ہوتے ہیں تو یعنی یہ روزہ بھی اتحاد امت کا ایک عظیم
22:46مظہر ہے اب ہم حمدردی کے حوالے سے جب دیکھتے ہیں تو جیسے نماز
22:51کا بنیادی جو مقصد بیان کیا گیا وہ امت کو ایک پلیٹ فارم پہ لانا
22:55ہے اکٹھا کر کے مصد میں جامع مصد میں ایک یونٹی کے صورت میں ہمیں
23:01متحد کر کے ایک دوسرے کے احوال سے باخبر کرنا ہے اور روزہ کے
23:05اندر بھی اس احساس کو پیدا کرنا ہے کہ جس رہاں سے امیر وہ جب بھوک
23:10اور پیاس کے اندر سے گزریں گے ان کو جب وہ تکلیف ہوگی وہ احساس
23:14دلانا مقصود ہے کہ یہ مہینہ حمدردی کا مہینہ ہے اس میں جو
23:17غریب ہے جن کے پاس کھانا پینا میسر نہیں ہے ان کے لئے کیا تم
23:20نے کرنا ہے کہ تم نے اپنے اندر یہ احساس پیدا کرنا ہے کہ ہم
23:23نے ان کی مدد کرنی ہے اور ڈاک سب کی بلا پھر ماہ رمضان جب ختم
23:27ہوتا ہے پھر عید کا موقع آ جائے تو جس کو ہم صدقہ الفطر
23:30کہتے ہیں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشاءہ فرمایا ایک
23:34قدیس میں حضور نے فرمایا کہ یہ تمہارے جو روزے کے اندر جو
23:37عمال جو کمیاں کتا ہی ہیں ان کا کفارہ ہے اور ایک قدیس میں
23:40حضور نے اشاءہ فرمایا یہ غرابہ مساکین کو اپنے ساتھ خوشیوں میں
23:44شریع کرنے کا ذریعہ ہے وہاں بھی اتحاد ہے وہاں بھی اتحاد ہے
23:47یعنی ہم دین اسلام کی عبادات کا حسن یہ ہے کہ وہ پوری امت
23:52کو امت کے اندر سے تفریق کو ختم کر کے پوری امت کو ایک
23:55پلئر فارم پہ لے کے آتا ہے یہ بہت خوبصورت آپ نے
23:58صدقہ فطر کا بھی اشارہ ہے یہ بھی اسی طرف لے کے
24:01ناظرین کرام بہت خوبصورت گفتگو ہو رہی ہے کہ ہماری
24:04عبادات کی جو اصل روح ہے وہ بھی احساس انسانیت کی ہے اور
24:08اتحاد انسانیت کی ہے وقفہ ہے ایک مرتبہ پھر پروگرام
24:12اتحاد امت میں چلتے ہیں دربارے رسالت میں اور اپنے
24:15نبیہ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس پر والیہانہ
24:17انداز میں درود کریم کا نظرانہ پیش کر کے واپس آتے ہیں
24:21وقفے کے بعد ناظرین کرام دوبارہ آپ کی خدمت میں حاضر ہیں
24:23اے آر وائی کیو ٹی بھی لاہور سٹوڈیوز ہے اور ہمارا
24:26پروگرام ہے اتحاد امت جناب فاروق شاہ صاحب نماز کی بات
24:31بھی ہو گئی مختصرا روزے کی بات بھی ہو گئی کہ اس کی بھی
24:36اصل روح اتحاد انسانیت احساس انسانیت ہے میں سمجھتا ہوں
24:41زکاة کا تو بنیادی طور پر اول و آخر مقصد ہی یہ ہے
24:45کہ طبقات کو ختم کرنا امیر غریب نہ رہے غربت پہ دین
24:50اسلام کا کمپرومائز نہیں ہے بنیادی حقوق ہر انسان کو
24:53ملنے چاہیے تو ارشاد فرمائیے زکاة کی جو عبادت ہے یہ
24:58کس طرح سے غریب اور امیر طبقے کو بیلنس کرتی ہے انفاق اور
25:03زکاة یہ دو راستے اللہ رب العزت نے کیا خوبصورتی ہیں
25:08رکھ صاحب اس طرح ہے کہ اس وقت جو انحتاط ہے کمزوریاں ہیں اور
25:19امت بٹ گئی ہے ہمدردی ختم ہو گئی ہے انسانیت برائے نام باقی ہے
25:27یا نہ ہونے کے برائے اس کی اصل ایک وجہ لاعلمی بھی ہے جہالت بھی ہے
25:37جب ہم معاشرے کو علم کی طرف لائیں گے علم پھیلائیں گے علم دیں گے
25:43تو ہمیں پتہ ہوگا کہ بھئی ہم نے کھا لیا پی لیا اور اس کے بعد
25:50جو غریب نہ کھا سکے نہ پہن سکے اور جن کے پاس رہنے کو نہیں چھت نہیں
25:56وہ کس تکلیف میں ہیں بلکل اب وہ اگر ان کے پاس وہ سرکار کا مبارک
26:02اسوہ نہیں ہے لقد کانا لکم فی رسول اللہی اسوہ تنہا سلام
26:08اس سرکار کا جب اسوہ ان کے پاس نہیں ہے تو اس لیے وہ زکاة کو
26:13اپنے اوپر بوجھ سمجھتے حساب نہیں لگاتے غریبوں کا حق دیتے
26:19نہیں ہے اور یہاں اگر کچھ وقت دیا جائے تو میں پیچھے ایک
26:25حدیث کی طرف جاؤں گا حضرت سرکار دوالم علیہ السلام نے
26:33عشری قبیلے کو بلایا اور ان کو بلا کر کہا کہ جو لیول آپ لوگوں
26:39کا ہے علم کا جو آپ کی سطح ہے جس علاقے میں آپ رہ رہے ہیں لوگوں
26:45کا علمی لیول وہ نہیں ہے اب جب علمی لیول وہ نہیں ہے تو حدیث
26:53کے لفظ ہیں لا يفقہونا جرانہم ولا یعلمونہم آپ نے ان کو نہ
27:00پڑھایا نہ ان کو اپنے لیول پر لے کر آیا اپنے ہمسائیگی میں
27:04ہمسائے میں جتنے آپ کے ساتھی رہتے ہیں ان کو تو اس وجہ سے میں آپ
27:11کو سزا دوں گا بالعقوبتی فیداری دنیا دنیا میں ابھی ابھی سزا
27:16دوں گا کہ آپ نے خود پڑے ہیں خود زکاہ دیتے خود عمل والے ہیں خود
27:24چلتے ہیں ان میں جہالت ہے اور وہ لوگ اس طرف آنی رہے تو اس پر
27:29سزا بنتی آپ لوگ آپ اہل علمی آپ پر سزا بنتی تو انہوں نے حضور
27:34سے محلت مانگی ہمیں ایک سال محلت دے دیں ایک سال کے بعد یہ جو
27:39فرق ہے ہم ختم کر دیں گے جب اگلا سال آیا اس سال انہوں نے اپنے
27:45علم کے ذریعے سے جو لوگ عمل میں سستی دکھا رہے تھے جو لوگ زکاة
27:50کو اپنے اوپر بوجھ سمجھ رہے تھے جو آمال سالحہ کو اپنے اوپر
27:55اس طرح یعنی کمزور تھے وہاں پورے کا پورا معاشرہ ایک جیسا
28:00پورا قبیلہ ایک جیسا ہو گیا وہ تو تھے ہی تھے انہوں نے جو
28:04کمزور تھے ان کو بھی اپنے ساتھ ایک جیسا کر لیا تھا تو یہاں سے
28:08ایک سبق ملتا ہے کہ اگر علم ہمارے پاس موجود ہو اور پھر اس کے
28:14بعد سرکار کا عصوہ موجود ہو تو پھر یہ جتنی بھی کمیاں ہیں درمیان میں
28:19امت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے ہم اپنے جیب سے جب زکاة دینے لگتے ہیں
28:25تو سمجھتے ہیں ٹیکس ہے یہ شریعت نے ہمارے اوپر فرض رکھی ہے اور
28:30ہمارے اوپر ہمارے مال میں غریب کا حق موجود ہے جب نہیں دیں گے
28:35تو ہم غریب کا حق ماریں گے اب ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اس مال سے جب
28:41غریب پر خرچ کریں تاکہ غریب کھائے پیے رہے وہ جو طبقات ہے نا جی
28:47جو طبقات بن گئے ہیں امیر غریب چھوٹا بڑا اور اس کے بعد اس کی
28:53نفی ہو جائے اور ایک وہ ایک ہی ہمپلا ہو جائیں برابر ہو جائیں
28:58پھر ایک اور مسئلہ ہوتا ہے کہ جس وقت کوئی بندہ محروم رہتا ہے
29:03وہاں چوری آتی ہے جی جی محروم رہتے ہیں تو وہ لوگ جو ہے نا جو ہے
29:08ظلم کی طرف جاتے ہیں وہ معاشرہ جو ہے نا پھر بے احتدالی کا شکار
29:13معاشرہ نہیں رہتا جی محتدل اور محبت اور انصیت باقی نہیں
29:17رہتی تو زکاة حق دار تک نہ پہنچ لیں کی وجہ سے یہ یہ جو
29:21ہیں نا رستے بھی کھلتے ہیں بالکل ٹھیک جناب فیسر وحی دزمان صاحب
29:25ہمارے پروگرام کا اختتامی وقت ہے اور ہمارا ایک عبادت جو حج
29:31کی عبادت ہم نے اس پہ محتصرن گفتگو کرنی ہے کہ وہ کس طرح سے
29:35ہمیں اتحاد کی طرف لے کے جاتی ہے میں سمجھتا ہوں کہ حج کا ظاہر
29:40اور باطن ہی اتحاد امت کا درست دیتا ہے کہ پہلے اپنے ملک میں
29:45اپنے شہر میں اپنے گاؤں میں نماز پڑھ لیں پھر شہر میں جمعہ
29:50کی نماز پڑھ لیں پھر عید کی نماز اور ذرا دائرہ ایکسپینڈ کر لیں
29:54اور پھر سال کے بعد اللہ رب العزت نے قوموں کو بلایا آئیں
29:59اب میرے گھر میں اب بین القوامی فضاء پیدا ہونی چاہیے اتحاد
30:03امت کی ایک ہی لباس احرام ایک ہی بیت اللہ جس کا تواف
30:10یہ جو احرام ہے اس میں کیا حکمت ہے
30:13اپنے اپنے لباس میں کیوں نہیں ہم تواف کر سکتے
30:16جو خاص طور پر حج اور عمرے کا نفلی تواف تو ہو جاتا ہے
30:21بلاڈ راکس صاحب یہ بڑا ہی خوبصورت انتظاج ہے
30:24کہ نماز اور حج ان دونوں عبادات کے اندر نیک چیز قومن ہے
30:31نماز میں دیکھیں تو سب لوگ ایک اس حف میں کھڑے ہوتے ہیں
30:34اور انہوں نے جس نے وہ شیر فرمایا تھا کہ ایک اس حف میں کھڑے ہوئے
30:37محمود و آیاز نہ بندہ رہا نہ کو بندہ نوات
30:40ایک تو اس نے وہ سارے فرق ختم کر دیئے
30:43جو طبقاتی نظام میری ذات میرا عہدہ میرے کپڑے وہ سب ختم کر دیئے
30:49یہی چیز جب بارگاہی الہی میں آئیں گے نا
30:51تو وہاں پر نہ کوئی طبقہ دیکھا جائے گا
30:53نہ وہاں پر ذات دیکھی جائے گی
30:55دو صفے چادریں ہیں
30:57ایک تو پہلے یاد آجاتی ہے کفن کی
30:59آخرت کی یاد آجاتی ہے
31:01اس کے بعد اتحاد کی یاد آجاتی ہے
31:04یعنی کہ دو چادروں کے اندر
31:06کیا معلوم کہ یہ جرنیل ہے
31:07کیا معلوم یہ فوجی ہے
31:09کیا معلوم یہ مولوی ہے
31:10کیا معلوم یہ عام شخص ہے
31:12تو اتحاد امت کا سب سے بڑا درس
31:15جو ہے نا ان دو چادروں کے اندر مزمار ہے
31:17اور صرف یہ نہیں
31:18اب آپ دیکھیں کہ ایک ہی دائرے کے اندر سب گھوم رہے ہیں
31:22یہ نہیں کہ یہ عمراء لوگ ہیں
31:24جس رہا ہم آج بھی دیگر مذاہب میں دیکھتے ہیں
31:26کہ جب خاص وہ اپنے عبادت گاہ میں جاتے ہیں
31:29تو وہاں پر دوسرے لوگوں کو ہٹا دیا جاتا ہے
31:31پیچھے کر دیا جاتا ہے
31:33جو چھوٹا طبقہ ہوتا ہے
31:34اور ان کو اچھوٹ سمجھا جاتا ہے
31:36کہ ان کو چھوٹ بھی کوئی نہیں سکتا ہے
31:37دین اسلام نے یہ تمام رسومات
31:40نماز سے لے کر حج تک
31:42کہیں کسی کو پیچھے نہیں کیا
31:44پیچھے نہیں کیا
31:44بالکل برابر کھڑا کیا ہے
31:46میں کہتا ہوں کہ آپ دیکھیں
31:48سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
31:50کا دور مباری یاد کریں
31:52جب دائیں جانب جناب صدیق اکبر ہوں گے
31:55دو چادروں میں
31:56دو چادروں میں جناب رسالت امام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
31:59تشریف فرماؤں گے
31:59اور ساتھ بلال حبشی ہوں گے
32:01یہ وہ اتحادی امت کا درس تھا
32:03کہ جس نے ان دو چادروں کے اندر
32:06ہمیں بیان کیا
32:07مکمل اطاعت
32:08اور اللہ وآلہ وسلم
32:10کی بندگی چھلکتی ہے اس کے اندر
32:12اور اگر آپ پیچھے زکاة کا نظام لے لیں
32:14آپ روزے کا نظام لے لیں
32:16کسی بھی نظام کو اٹھا لیں
32:17تو آپ کو یہ محسوس ہوگا
32:19کہ یہاں پر جو طبقاتی نظام معاشرے کے بنا ہوئے
32:22وہ کلیپس ہوتا وہ نظر آتا ہے
32:24اور یہی عربوں کے اندر
32:25جو ہے ایک چیز موجود تھی
32:26کہ وہ کہتے تھے
32:27ہم سب کچھ ماننے کو تیار ہیں
32:29لیکن ان غلام زادوں کے ساتھ نہیں بیٹھیں گے ہم
32:31ہم بیٹھیں گے تو عمراء کے ساتھ بیٹھیں گے
32:34آپ ہمیں عہدہ دیں
32:35سرداری دیں
32:36ہم ایمان قبول کرتے ہیں
32:37لیکن سرکار دعالن صلی اللہ علیہ وسلم
32:39کو جو حکم تھا
32:40کہ آپ نے سب کو برابر رکھنا ہے
32:43تو حج ہو
32:44نماز ہو
32:45زکاة ہو
32:46یا روزہ ہو
32:47روزے کے حوالے سے اگر ایک منٹ وقت ہو
32:49تو میں وہ واقعہ مجھے یاد آگیا
32:50کہیں نہ کہیں ہمارے اندر گیپ موجود ہے
32:53کہ ہم نے تربیت کا وہ پہلو چھوڑ دیا
32:56بادشاہ نے وزیر سے کہا
32:57کہ میں چاہتا ہوں کہ میرا بیٹا
32:58جب سیٹ پر بیٹھے نا
32:59تو اس کو وہاں پر کھڑا وہ شخص جو غریب ہو
33:02اس کی بھوک احساس ہو
33:04کچھ ایسی تربیت کرو اس کی
33:06اس وزیر نے کیا کیا
33:07اس بادشاہ کے شہزادے کو لیا
33:09اور کچھ دن کے لیے
33:11کڑی مزدوری میں ڈال دیا
33:12اس کے وہ شہزادے والا لباس
33:14اتار کے غریبوں والا لباس دیا
33:16صبح شام بھوک میں رکھا
33:17اور تبتی دھوپ میں
33:19جب وہ چھ مہا بعد بادشاہ ملا
33:20تو اس کی شکل ہی بگڑی ہوئی
33:22کالا سیاہ اور کمزور ترین شکل
33:25اس نے کہا یہ میرے بیٹے کے ساتھ کیا حال کی ہے
33:27اس نے کہا بادشاہ یہ جب تخت میں بیٹھے گا
33:29تو اس کو مزدور کی بھوک آئیڈی ہو جائے گا
33:32تو ہمارا دین تو یہ درس دیتا ہے
33:34اسی لئے یہ روزے کا مقصد ہے
33:40اور آخیم نے فرمایا
33:42تم اس تقویے تک پہنجو
33:44جہاں پر جانا مقصود ہے
33:47مجھ صاحب آپ کی عامت کا بہت شکریہ
33:49بہت خوبصورت گفتگو آپ کی
33:51شاہ صاحب گزران والے سے آپ سے شیف لائے
33:53بہت شکریہ
33:54جناب طفیل صاحب آپ کی عامت کا بہت شکریہ
33:57ناظرین کرام آپ نے دیکھا
33:58کہ دین اسلام کی تمام عبادات کا نقشہ
34:02اور اس کی روح جو ہے
34:03وہ اتحاد امت کا درس دیتی ہے
34:06اتحاد انسانیت کا درس دیتی ہے
34:08احساس انسانیت کا درس دیتی ہے
34:10جہاں سے ہم نے بات شروع کی تھی
34:12کہ اللہ رب العزت کے دین میں
34:13دین اسلام میں
34:15سب سے پہلے انسانوں کو
34:16لوکل باڈی کے طور پر
34:18بلدیاتی نظام جسے ہم کہتے ہیں
34:20اس میں جوڑنا چاہا
34:22ہر مسجد میں
34:24نماز پنجگانا کے ذریعے سے
34:26پھر اسی دائرے کو ایکسپینڈ کیا
34:28پھر جمعہ کی نماز سنٹرل موسک میں
34:30ایک شہر کی سنٹرل موسک میں
34:32سب کو جمع کیا
34:33کہ آپ نے اپنے مسائل لے کر
34:34وہاں آئیں
34:35اور امامیں
34:36جمعہ کی مسجد کے امام کے لیے
34:39یہ تیہ ہے
34:40لازمی ہے
34:41کہ وہ ان کے مسائل کا
34:43نہ صرف
34:44تذکرہ کریں
34:45بلکہ حل پیش کریں
34:47اور اس کے بعد
34:49حج کے موقع پر
34:50اللہ رب العزت نے
34:51ہر ملک سے
34:53ہر رنگ کے
34:54اور ہر لباس کے ساتھ
34:57قوموں کو بلائیا
34:58کہ آج
34:59بیت اللہ کے
35:00اپنے مرکز کے گر جمع ہو کر
35:02تم بین الاقوامی پیغام لے کر جاؤ گے
35:05اور دشمنان اسلام کو دکھاؤ گے
35:08کہ ہم سیسا پلائی ہوئی دیوار ہیں
35:10ہمارا ایک ہی لباس ہے
35:12ہمارا ایک ہی کعبہ ہے
35:13ہمارا ایک ہی نعرہ ہے
35:15لبیق اللہم لبیق
35:17اور اس کے علاوہ کوئی نعرہ نہیں ہے
35:19ہم ایک خدا پر
35:21اور اس کی بہدت پر یقین رکھتے ہیں
35:22اور یہ اتنا مضبوط نعرہ ہے
35:25جس کو سن کر
35:26اور جس کے اثر آفرینی سے
35:29دشمن پاش پاش ہو جائیں گے
35:31ناظرین اکرام
35:32صرف تقاضی اس بات کا ہے
35:34کہ اس میں وہ روح وہ تڑپ ہونی چاہیے
35:37ظاہری دکھاوہ
35:39یا ریاکاری نہیں ہونی چاہیے
35:40یہ عبادات
35:42اسی وقت
35:43اپنی اثر آفرینی دکھائیں گی
35:45جب اس میں خشیت ہونی چاہیے
35:47اللہ کا ڈر اور خوف ہونا چاہیے
35:49اور وہ بنیادی مقصد
35:50ہماری آنکھوں کے سامنے ہونا چاہیے
35:52اسی کے ساتھ
35:53ناظرین اکرام
35:54آج کا پروگرام
35:54اتحاد امت
35:55اپنے اختتام کو پہنچتا ہے
35:56اپنے میزوان
35:57ڈاکٹر محمد طاہر مصطفیٰ کو
35:59اجازت دیجئے
36:00اپنا خیال رکھئے گا
36:01اللہ حافظ
36:02اس دور کی ظلمت میں
36:05ہر قلب پریشاں کو
36:08وہ داغ محب دے
36:12جو چاند کو شرما دے
36:16یا رب
36:17دل مسلم کو
36:20وہ زندہ تمنا دے
36:23یا رب
36:25دل مسلم کو
36:27جو قلب کو گرمہ دے
36:31جو روح کو تڑپا دے
36:35یا رب
36:36دل مسلم کو
36:38وہ زندہ تمنا دے
Comments