#bordertalks #iftikharfirdous #induswaterstreaty #pakistan #india #pakvsind #arynews
Follow the ARY News channel on WhatsApp: https://bit.ly/46e5HzY
Subscribe to our channel and press the bell icon for latest news updates: http://bit.ly/3e0SwKP
ARY News is a leading Pakistani news channel that promises to bring you factual and timely international stories and stories about Pakistan, sports, entertainment, and business, amid others.
Follow the ARY News channel on WhatsApp: https://bit.ly/46e5HzY
Subscribe to our channel and press the bell icon for latest news updates: http://bit.ly/3e0SwKP
ARY News is a leading Pakistani news channel that promises to bring you factual and timely international stories and stories about Pakistan, sports, entertainment, and business, amid others.
Category
🗞
NewsTranscript
00:00. . . . . .
00:30. . . .
01:00. . . . .
01:00. . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
01:04. . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
01:07. . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
01:12. . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
01:15. . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
01:17. . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
01:17. . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
01:18. . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
01:21. . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
01:22. . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
01:23. . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
01:24. . .
01:24So if you understand that the water is directly in India from Pakistan, then the water is wrong, because the
01:32water is basically China from India to India and Pakistan.
01:37And this is a suggestion that if 18 countries are affected, a new understanding should be.
01:44That 18 countries will make a structure and then 3 countries will make this treaty to hold so that future
01:53can be no such situation in Pakistan.
01:57So for all these, we have joined by the international law,
02:09so that expert Ehrmer Wilal Sofi صاحب and program will be joined by the expert.
02:16We will have a perspective that the PANY ROKA is, the PANY ROKA is, the PANY ROKA is, the PANY
02:20ROKA is, the PANY ROKA is.
02:22So very much, that the PANY ROKA is, the PANY ROKA is, the PANY ROKA is, the PANY ROKA is.
02:39This is a global degree from the Exactwar.
02:43Now what do you want to be aware of the PANY ROKA, it can be recognized by the other one
03:09who's affected this issue.
03:09principle سے ہم آنگ ہے اور یہ موقع جو ہے یہ بالکل جائز اور درست
03:13ہے کیونکہ international water law کی jurisprudence یہی کہتی ہے کہ low
03:17riparian کی جو entitlement ہے upper riparian اس کو نہیں رکے گا دوسری ایک
03:22بات جس پر تمام ماہرین متفق نظر آئے وہ یہ تھی کہ اگر آپ
03:27نے کوئی treaty commitment کی ہے کسی بھی ملک کے ساتھ کسی بھی حوالے
03:31سے کسی convention کو ratify کی ہے تو اسے uphold کرنا ایک responsibility
03:36inherent ہے نہ صرف اس ملک کی بلکہ اس civilization کی جس کو وہ
03:41represent کر رہا ہے اور اسی لیے انہوں نے اس نتیجی پہ پہنچے کہ
03:44پاکستان کا جو یہ ایک grievance ہے کہ holding in a base کا استعمال
03:49کر کے اس سے اپنی responsibility سے withdraw کر رہا ہے انڈیا یہ
03:53درست ہے ہمہ سو در حقیقت پاکستان کے موقف کو انہوں نے
03:57بین الاقوامی قانون کے principle سے ہم آنگ پایا ہم آچھا دو
04:03چیزیں اس میں سے جو میں پوچھنا چاہتا تھا ایک تو جو
04:07architecture انڈیا نے design کیا ہے 2029 2030 تک اس کو ذرا اگر آپ
04:13elaborate کریں کہ جو water tunnel ستلج پر جو ہے وہ بنانا چاہ رہے
04:18تھے جو water divert کر رہے تھے اور جو various projects ہیں اگر تو
04:22یہ continue رہتے ہیں تو پھر موقف کیا ہوگا اور آگے طریقہ
04:27جو ہے اس کا کیا ہوگا دیکھئے پاکستان کی جانب سے جو بات کہی
04:32گئی اور کئی مقررین نے اس کی طرف اشارہ کیا بشمول میرے تو
04:36موقف یہی تھا کہ اگر یہ projects آگے بڑھتے ہیں because اس وقت
04:40جو projects under construction تھے دو مئی دو ہزار پچیس سے پہلے
04:45جن کا ارادہ ہوا تھا اور جن کی drawings پاکستان کو submit کی گئی
04:49تھیں وہ بھی exposed ہیں وہ بھی vulnerable پاکستان ان کے حوالے سے
04:53vulnerable ہے because پاکستان نے ان کی اجازت اس contingency پر
04:58دی تھی کہ پانی کو flow cut نے دیا جائے گا یعنی کہ پانی
05:02جو flow ہے اس کو it will be allowed to let flow اور run of the river کا
05:07مطلب بھی یہ ہوتا ہے جو بھی آپ project بناتے ہیں اس کے
05:09اوپر سے گزرتے ہوئے پانی کو آپ روک نہیں سکتے اور نہ
05:11روکنا چاہیے یہ presumption یہ contingency کی بنیاد پر پاکستان
05:16یہ permission دیتا آیا تو ایک تو وہ set of projects ہے ان کو دیکھنا
05:20ہوگا دوسرا جو وہ اعلان کر رہے ہیں چناب کی اوپر
05:23خاص طور پر بنانا اور diversion channel جس کا آپ نے ذکر کیا
05:26یہ دونوں جو ہیں یہ بڑے alarming developments ہیں کیونکہ ان
05:30developments کو کوئی treaty monitor نہیں کری کہ ان کا eventual
05:34purpose کیا ہے نہ ان کے engineering drawings کو monitor کیا جا
05:38سکتا ہے نہ ہی ان کے purpose کو ascertain کیا جا سکتا ہے مگر
05:43اب اس کی بھی ضرورت کم ہو گئی ہے کیونکہ ان کی جانب سے خود
05:46ایک belligerent intent کا اعلان سامنے آ گیا ہے کہ ہمارا
05:49مقصد اس پانی کو divert کرنا ہے پاکستان کے لوگوں کو deny
05:53کرنا ہے سو یہ جب آپ ساری development دیکھتے ہیں اور پھر نہ
05:58صرف یہ retric پیک زمانے میں retric تھا ایک دو سال پہلے اب یہ
06:02official position بنا اس کے بعد on grounds اب تبدیلی آ رہی یعنی
06:06land acquisition کر کے land کو acquire کیا جا رہا ہے اس کے ساتھ ساتھ
06:11tendering process شروع ہو گیا ہے بے شمال international اور indian firms
06:15consultants construction engineers interest show کر رہے ہیں سو یہ تو
06:19بہت tangible اقدامات ہیں اور کیونکہ یہ treaty کی violation ہے
06:23بین الاقبامی قانون کی violation ہے اور یہ treaty کا breach ہے
06:26تو پاکستان یہ حق رکھتا ہے کہ state responsibility کے
06:30principles کے framework میں وہ counter measures جاہے coercive یا
06:34non coercive دونوں کا استعمال کا حق رکھتا ہے
06:38اچھا ایک جو دوسری ایک suggestion قسم کیا جو ہے مجھے
06:42لگا جو chinese speaker تھے وکٹر گاؤ انہوں نے جس طرف جو
06:46ہے وہ reference جو ہے وہ دیا کہ یہ جو architecture ہے جس میں
06:50india جو ہے اپنے آپ کو upper riparian ظاہر کرنے کی کوشش
06:53جو ہے وہ کر رہا ہے it's basically middle riparian اور یہ
06:56پانی جو ہے اوپر سے چائنہ سے جو ہے وہ آ رہا ہے اور انہوں نے
07:00کہا کہ یہ تین ممالک نہیں ہے اٹھارہ ممالک اسے جو ہے وہ
07:03affected جو ہے وہ ہوں گے اگر اس قسم کی کوئی escalation
07:06further water کے issue کو weaponize کیا جاتا ہے آپ کی نظر میں جو
07:10چائنہ کا role ہے اور جو باقی tributaries جو نکل کے آتی ہیں
07:15جس سے باقی ممالک کو تو اس میں کوئی architecture نظر آتا ہے
07:19کہ future کے اندر indus water treaty کو expand کر کے اس کو چائنہ
07:23کو بھی include کر کے ایک ایسا mechanism جو ہے وہ بنایا جائے
07:26جس کی guarantee ہو کہ سب ایک دوسرے پر انحصار کریں اور
07:30free water floor ہے دیکھیں وکٹر گاؤ صاحب کو جو موقف ہے کہ چائنہ
07:34کا اس میں ایک relationship بنتا ہے وہ بالکل درست ہے کیونکہ
07:37یہ originate کر رہا ہے چائنہ سے انڈس river خاص طور پہ اور پھر
07:42یہ گزرتا ہے انڈیا سے اور پھر اس کے بعد پاکستان بلکہ انڈیا
07:46کی بھی وہ territory بھی disputed ہے سو یہ ایک الگ debate ہے اس پر
07:49ہم کسی اور وقت جائیں گے لیکن سرے دست اگر انڈیا اور
07:52پاکستان کے مابین treaties ہوئی ہیں تو یہ treaty در حقیقت تین ملکوں کے
07:56مابین ہونی چاہیی تھی جس میں چائنہ کو بھی include ہونا چاہیے تھا اور
08:00یہ اس لیے میں کہہ رہا ہوں کیونکہ جتنی بھی دریاں ہیں مختلف ممالک
08:04سے گزرتے ہیں ان کے جو legal arrangements ہیں ان کی nature ایسی ہے کہ ان
08:08تمام ممالک کو party بنایا جاتا ہے کیونکہ ان سب کا حقوق tied
08:12up ہوتے ہیں ان کے ساتھ تو اسی لیے جو suggestion آئی ہے وہ useful suggestion
08:17ہے اور اس حوالے سے میں نے دو تین مہینے پہلے ایک article لکھا تھا
08:20جس میں additional protocol کی جب discussion پاکستان میں ہو رہی تھی
08:24تو میں نے کہا تھا اگر additional protocol کی طرف پاکستان جاتا ہے
08:28discussions ہوتی ہیں تو پاکستان کو چاہیے کہ چائنہ کو بھی اس میں
08:32party بنایا ہے additional protocol میں because چائنہ کا locust and die
08:35legal interest بھی ہے اور territorial interest بھی ہے تو یہ میں سمجھتا ہوں
08:39کی useful suggestion ہے اور اس debate کو اس جانب آگے بڑھانے میں کوئی
08:43حرج نہیں ہے بہت شکریہ ہے منبرات سبزی صاحب آپ کا
08:46ناظرین گفتو آپ نے سنی پروگرام کے پہلے حصے میں obviously
08:49آج ایک بہت بڑا convention تھا پاکستان کا موقف جو ہے وہ
08:53سامنے آیا کافی زیادہ experts بھی تھے پروگرام کے اگلے حصے
08:57میں ہمیں ایک expert جو ہے وہ join کریں گے جو خصوصی طور پر ان
09:02سارے issues پر جو ہے وہ نظر رکھتے ہیں ہمارے ساتھ رہے ہیں
09:09welcome back ناظرین پروگرام کے اس حصے میں ہمیں join کر رہے ہیں
09:13حسن عباس صاحب جو ماہر ہے ابھی عمور کے بہت شکریہ حسن
09:17صاحب ہمیں time دینے کے لیے ایک سوال ہے جو انڈیا اس time پر
09:22کر رہا ہے اور جو اس کے ایک neferis designs ہیں جس میں ہمیں نظر آ
09:26رہا ہے کہ اب وہ further construction کرنے کے لیے جا رہا ہے if it goes
09:30ahead جس طرح نظر آ رہا ہے انڈیا کے designs impact assessment کیا ہے
09:34پاکستان کے لیے دیکھئے پاکستان کے ساتھ اس کا زیادہ برا impact
09:40تو انڈیا پر خود پڑھنے والا ہے پہلی بات تو یہ کہ جو وہ جس
09:45قسم کی وہ ہمیں ایک طرح کی وہیں میں کہوں گا جی گیدر بھکیاں
09:48دے رہے ہیں کہ پانی روک دیں گے کبھی کہتے ہیں سندھ کا پانی
09:53روک دیں گے لداخ میں جا کے ڈیم بنا دیں گے کبھی کہتے ہیں وہ
09:57چناب میں سے ٹرنل نکال لیں گے لیکن یہ ساری سیاسی
10:01statements ہیں کیونکہ ہمارے جو western rivers ہیں ان کو
10:06geography protect کرتی ہے treaty نہیں protect کرتی ہے اور آپ یہ
10:11دیکھیں کہ انہوں نے پہلے وہ کہا تھا کہ ہم لداخ میں انڈس
10:16کو روکنے کے لیے ایک skate of dam بنائیں گے پھر quietly وہ اسے
10:20withdraw کر گئے پھر انہوں نے announce کیا کہ ہم یہ چناب بیاس
10:24link tunnel بنانے لگے ہیں جے اس کا tender sender کر کے پھر اس کو
10:28withdraw کر لیا ہے انہوں نے تو وہ basically اپنی
10:31سیاسی دکان چمکانے کے لیے اس قسم کی ڈر بھگیاں میں دے رہے ہیں
10:34کہ بس وہ کچھ کرنے لگ گئیں کر کچھ نہیں سکتے جو کچھ وہ
10:39کر سکتے تھے انہوں نے 1960 میں کر لیا انہوں نے ہم سے جو کچھ
10:45لینا تھا لے لیا ہمارے پاس اب ان کے اس action کے خلاف بہت
10:49بڑی opportunity ہے پہلی opportunity تو ہماری یہ ہے جس کے اوپر ہم
10:53قدرے کام کر بھی رہے ہیں وہ یہ کہ ہم international court of
10:56arbitration میں گئے ہیں اور وہاں پہ ہم نے یہ ثابت کیا ہے
10:59international community میں legally کہ یہ ایک international
11:03معاہدے کی خلاف ورزی کر رہے ہیں وہ کام ایک ہو گیا اس کے
11:07بعد جس قسم کے یہ statements ان کی طرف سے آ رہی ہیں کہ ہم ایک
11:10بونٹ پانی کی نہیں جانے دیں گے ہم پاکستان کو سبق سکھائیں
11:14گے punitive action ہم لے رہے ہیں پورے پاکستان کی عبادی کو ہم
11:20پیاسا کریں گے یہ statements اب ان کے جو ہے نا وہ ministers کی طرف سے
11:24responsible لوگوں کی طرف سے آ رہی ہیں یہ تمام statements جو ہیں یہ war
11:29crime کرنے کا اندیا دے رہی ہیں تو یہ جس جس شخص نے یہ statement
11:33دیا اس کے خلاف ہم international criminal court میں war crime کا اندیا
11:39دینے کا یا اس کی intention کا مقدمہ بھی کر سکتے ہیں یہ جو وہ کہتے ہیں
11:44کہ ہم پاکستان میں ایک بونٹ پانے کی نہیں جانے دیں گے تو یہ human
11:47rights violation ہے ہم HRC میں جا کے international human rights commission
11:52میں جا کے ہم ان کے خلاف human rights violation کا مقدمہ بھی کر دیتے ہیں
11:56کیونکہ وہ یہ statement دے رہے ہیں اور یہ اپنے بیان کر رہے ہیں اس
11:58طرح سے پھر تیسری چیز کہ کوئی treaty ہو یا نہ ہو آپ بغیر دوسرے
12:06ملک کی اجازت کے اس کے اوپر کسی قسم کا بھی کوئی structure نہیں
12:09بنا سکتے یہ international norms میں آتا ہے اور ابھی 1997 کا UN convention
12:17on water ہے وہ بھی اس چیز کو منع کرتا ہے Berlin rules ہیں 2024 کے وہ
12:24بھی اس چیز کو منع کرتے ہیں IHL ہے international human rights laws ہیں وہ
12:30بھی اس چیز سے منع کرتے ہیں تو یہ تمام چیزیں جو ہیں یہ اس چیز سے
12:34منع کرتے ہیں Indus water treaty میں بھی یہ چیز اس طرح سے allow نہیں ہے جس
12:38طرح سے وہ کر رہے ہیں جے تو اگر وہ treaty نہیں بھی مانتے تو
12:41international rules تو لاغو ہوتے ہیں اچھا گھر international rules کے
12:44اوپر جو ہے انڈیا کا یہ موقف ہے and they still managed to go ahead of
12:47it یہ تو پھر larger conflict نظر آتا ہے پھر تو جس کی جہاں پر
12:51مرضی ہے جہاں سے جو پانی گزر رہا ہے دنیا میں وہ اس کو جو ہے
12:54وہ روک سکتا ہے so it means کے پھر international law کی کوئی value
12:57نہیں ہے نہیں جی دیکھیں value تو international law کی اس وقت ہوگی نا
13:02جس وقت international law کو ہم highlight کریں کہ بھئی یہ
13:05international law ہے اور آپ کو اس law کو ماننا ہوگا کیونکہ
13:10دیکھئے اس کی repercussion جو ہے نا پہلی بات ہی میں نے آپ کو
13:13بتایا کہ جو وہ گیدر بھگیاں دے رہے ہیں کہ ہمارا پانی روک
13:16لیں گے وہ ہمارا پانی روک نہیں سکتے قدرت نے اس کو
13:19اپنی جیوگرفی جیولوجی کی وجہ سے پروٹیکٹ کیا ہوا ہے جتنا
13:22وہ لے سکتے تھے وہ نائنٹین سکسٹی میں لے گئے اب اس سے زیادہ
13:26وہ لے کے جا نہیں سکتے بلکہ نائنٹین سکسٹی میں جو ان کو
13:30provisions دی گئے تھیں جتنا پانی لے رہے ہیں کہ وہ پورا بھی
13:32نہیں لے سکے پینسٹ ساتھ میں اتنا پانی نہیں نکال سکے
13:36پھر وہ جو کہتے ہیں کہ ہم نے treaty کو ہیلنڈ بینس کر دی ہے
13:39ہم کہتے ہیں ٹھیک ہے آپ نے کر دیا اب ہم بھی آپ کی treaty
13:43کو نہیں مانتے کیونکہ treaty میں ہم نے آپ کو بہت زیادہ
13:46leverage دے دی ہم نے تین دریاء آپ کو دے دی ہے جو کہ ہمارا
13:49right تھا ان دریاؤں میں 70% پانی ہم پہلے سے use کر رہے تھے
13:54international conventions کی حساب سے وہ 70% پانی جو ہم پہلے سے
13:57use کر رہے تھے وہ ہمارا تھا ہم نے وہ بھی دے دیا اس کے
14:00بدلے میں ہم نے treaty میں چار گندے نالے بھی لکھوا لیے جو
14:03اب انڈیا سے ہمارے پاس آتے ہیں جن کا نام treaty سے لکھا
14:06ہوئے ہم کہتے ہیں ٹھیک ہے آپ بھی ہرڈین بینس ہے آپ بھی
14:09نہیں مانتے ہم بھی نہیں مانتے آج ہیں انٹرنیشنل میدان میں
14:12ہم ان کے اوپر counter claim کر دیتے ہیں کہ ہمارے دریاء
14:15واپس کرو اور وہ جو گند پھینک رہے ہمارے اوپر جو
14:19pollution کر رہے ہو جو کہ دنیا کا کوئی قانون آپ کو
14:21pollution پھینک کی نہیں اجازت دیتا سوائے انڈرس water
14:24treaty کے تو ہم اس pollution کو بھی روگنے کا مقدمہ کریں
14:27اس سے ہمارا environment خراب ہوا ہے پچھلے 65 سال میں جو
14:31ہمارے لوگ بیمار ہوئے ہیں جو ہمارے باقی نقصانات ہوئے ہیں
14:35جو ہمارے آبی زخائر جو ہیں وہ آلودہ ہوئے ہیں
14:38ground water میں ہمارے pollution گئی ہے اس سب کی ہم
14:41compensation بھی مانگے یہ مقدمہ بھی ہم کلا رہے ہیں تو ان
14:45کو ہم بہت بری طرح سے جکڑ سکتے ہیں ایک legal
14:48encirclement میں اور وہ سارے کام اب ہمیں کرنے چاہیے اب
14:52مزید ہمارے پاس بیٹھنے کا ٹائم نہیں ہے ہمیں تو اب
14:55counter مقدمہ یہ کرنا چاہیے کہ جو دریاء تم نے یہ کہہ
14:58کے لیے تھے کہ ہم راجستان کو green کریں گے راجستان تو آج
15:02بھی desert کا desert ہے three point eight million acres of
15:05راجستان desert وہ one percent بھی green نہیں کر سکے جے لو
15:10باوجود اس کے کہ انہوں نے وہاں پہ دس ہزار کلومیٹر
15:13سے زیادہ کی lined canals بنائی ہیں لیکن وہ desert
15:18environment میں نہ ادھر canals چلتی ہے نہ وہ green ہوتا ہے
15:21اس کو قدرت نے desert آئے قدرت اس کو desert ہی رکھے گی
15:24تو اب وہ 65 سال کے بعد بالکل ground کے اوپر وہ چیز
15:28نظر آ رہی ہے satellite images ہیں ground پہ جا کے
15:31verification ہو سکتی ہے ہم ان کے خلاف مقدمہ کریں گے جی جو
15:35کہہ کے آپ نے دریاء لیے تھے وہ کام تو آپ سے 65 سال میں ہوا نہیں
15:38لہٰذا یہ دریاء واپس کرو ہمارا کام ہے کہ اب ہم بجائے
15:42کہ صرف اس چیز کو کہنا کہ جی نہ نہ نہ نہ ٹریٹی کیوں
15:44روکتی ہے ٹریٹی پہ واپس آج اور نہیں اب ہم کہتے ہیں کہ
15:47ہم اپنے وہ حقوق واپس لیں جو ہم نے کسی مجبوری کی وجہ سے
15:53کسی معطلب ہے کہ جو بیماری مجبوری تھی اس کی وجہ سے ہم
15:56نے اس وقت دے دیا تھا اب ہم وہ واپس لے رہنے کے مقدمے
15:59کر رہے ہیں ان کے اوپر تو ان کو سمجھ آ جائے گی کہ انڈس
16:01وارٹر ٹریٹی نے ہم سے سب کچھ لے کے ان کو دیا تھا یا ہم نے
16:05ان سے کچھ لیا تھا ہمیں تو ٹریٹی نے کچھ بھی نہیں دیا ٹریٹی
16:08نے ان کو ڈیم بنانے کی اجازت دے دی ٹریٹی نے ان کو جتنے
16:11دریاء موڑ سکتے تھے اس سے زیادہ پانی موڑنے کی اجازت دے
16:14دی اور ٹریٹی نے ان کو پولیوشن بھینگنے کی اجازت دے دی
16:17پیچھے رہ کیا جاتا ہمارے پاس تو کچھ بھی نہیں رہ جاتا
16:20اس لئے ٹریٹی ختم کریں ہم واپس آج جاتے ہیں ہم ان سے
16:23وہ ساری چیزیں واپس مانتے ہیں ان کو تو لینے کے دینے پڑ جائیں
16:26گے جی بہت شکریہ آپ کے ٹائم کا حسن صاحب ناظرین
16:30دگو آپ نے دونوں مہمانوں کی جو ہے وہ سنی یہ
16:33پرابلم اب انٹینسیفائی ہوتا ہوا جا رہا ہے اور اب ٹائم ہے
16:37کہ اب اس کا سلوشن جو ہے وہ نکلنا چاہیے
16:40obviously kinetics جو ہے یا escalation جو ہے وہ اس بات کا حل نہیں
16:46ہے اس لئے دنیا کو بھی اپنا کردار جو ہے وہ ادا کرنا
16:49پڑے گا اور خصوصی طور پر ہم ایک ایسی ایرہ میں جو ہے وہ
16:53رہ رہے ہیں جہاں پر new social contracts بھی بن رہے ہیں اور
16:57نئی realignment بھی ہو رہی ہے ایسے environment کے اندر
17:00انڈیس water treaty کو جو ہے انہ بے انس رکھنا نہ صرف
17:03international law کی violation ہے humanitarian law کی بھی
17:07violation ہے لیکن خطے کو مزید جو ہے وہ جنگ میں
17:10دکلنے کی بھی ایک بہت بڑی سازش ہے پروگرام میں گفتگو
17:13کا سلسلہ آگے کی جاری رہے گا دیکھتے رہیے گا
17:16border talks
Comments