00:00ماذا جهاز میں کھڑکی والی سیٹ پر بیٹھا تھا
00:02اور میرا دوست پہلی نشست پر بیٹھا تھا
00:04ہمارے درمیان والی سیٹ خالی تھی
00:07میں نے اے روستس سے پوچھا
00:08کہ کیا ہم دونوں ساتھ بیٹھ سکتے ہیں
00:11اس نے مسکرا کر جواب دیا
00:12کہ سر یہ سیٹ بک ہے
00:14جب جهاز اڑ جائے
00:15تو آپ مسافر سے بات کر کے سیٹ بدل لیجئے گا
00:18ہم مسافر کا انتظار کرنے لگے
00:20جهاز چلنے سے بس تھوڑی سی دیر پہلے
00:23ایک بہت موٹا آدمی آ گیا
00:25جو شکل سے بیمار بھی لگ رہا تھا
00:27میں نے اس سے کہا کہ آپ کھڑکی والی سیٹ لے لیں
00:30ہم دو دوست ساتھ بیٹھنا چاہتے ہیں
00:32مگر اس نے انکار کر دیا
00:34اور دھپ سے ہمارے درمیان بیٹھ گیا
00:36وہ اتنا موٹا تھا
00:38کہ دونوں طرف سے سیٹ سے باہر نکل رہا تھا
00:41اس کی وجہ سے میں دیوار کے ساتھ پریس ہو گیا
00:44اور میرا دوست سیٹ سے آدھا باہر لٹک گیا
00:48اس کے جسم سے گندی بو آ رہی تھی
00:51اور موں کھول کر سانس لے رہا تھا
00:53جس سے پورے ماحول میں بو پھیل رہی تھی
00:55ہماری باتیں بند ہو گئیں
00:57میں تسبیح پڑھنے لگا
00:59اور میرا دوست موبائل نکال کر بیٹھ گیا
01:01وہ میرے لیے بہت مشکل سفر تھا
01:04جب ہم لاہور اترے
01:05تو میں نے سکون کا سانس لیا
01:07ائرپورٹ سے باہر آ کر میں نے دوست سے پوچھا
01:09سفر کیسا رہا
01:10وہ انسکر بولا بہت اچھا
01:12میں موبائل پر کتاب پڑھتا رہا
01:14میں نے پوچھا
01:15کیا تم اس موٹے آدمی کی وجہ سے پریشان نہیں ہوئے
01:18وہ بولا کہ شروع کے دو منٹ ہوا تھا
01:21پھر میں نے اپنی کونی اس کے پیٹ میں پھنسائی
01:23اور کتاب میں مگن ہو گیا
01:25میں نے حیرت سے پوچھا
01:26اور کیا تمہیں اس کی بدبو نہیں آئے
01:28وہ انسا
01:29کہنے لگا کہ شروع میں آئی تھی
01:31لیکن جب میں کتاب میں کھو گیا
01:33تو بو آنا بند ہو گئی
01:34میں نے حیران ہو کر کہا
01:36یار لیکن میں تو پورے راستے تڑپتا رہا
01:38اور دعا کرتا رہا
01:40کہ یہ سفر کب ختم ہوگا
01:41دوست نے سمجھایا کہ دیکھو
01:43وہ موٹا آدمی صرف 35 منٹ کا ساتھی تھا
01:46وہ آیا بیٹھا اور اب چلا گیا
01:48ہم اسے نہیں جانتے
01:50اگر تم ان 35 منٹوں کو برداشت کر لیتے
01:53تو تمہیں اتنی تکلیف نہ ہوتی
01:55اس نے مزید کہا
01:56کہ ہماری ہر تکلیف کا ایک وقت ہوتا ہے
01:59اگر ہم اس وقت کا اندازہ کر لیں
02:01تو مشکل آسان ہو جاتی ہے
02:03میں نے سوچ لیا تھا
02:04کہ یہ صرف 35 منٹ کی بات ہے
02:06اس لیے میں نے اپنی توجہ کتاب پر لگا دی
02:09تم بھی ایسا ہی کیا کرو
02:10میں نے پوچھا کہ تم نے یہ طریقہ کہاں سے سکھا
02:13اس نے بتایا کہ میں نے یہ اپنے والد سے سکھا
02:16جب میں چھوٹا تھا
02:17تو ہمارے پڑوس میں ایک جھگڑالو آدمی رہتا تھا
02:21وہ ہمیں گلی میں کرکٹ نہیں کھلنے دیتا تھا
02:23اور ہماری گیند چھین لیتا تھا
02:25میں نے والد سے شکایت کی
02:27تو انہوں نے کہا کہ بیٹا یہ آدمی قرائدار ہے
02:30آج ہے کل چلا جائے گا
02:32اس سے لڑنے کے بجائے اس کے جانے کا انتظار کرو
02:35اگر تم اس سے الجھو گے
02:36تو تمہارا اپنا مزاج خراب ہوگا
02:39اور تم اپنی خوشیوں پر دھیان نہیں دے سکو گے
02:41اور واقعی وہ آدمی دو ماہ بعد چلا گیا
02:44اور ہم پھر سے کھیلنے لگے
02:46میرے دوست نے ایک اور قصہ سنایا
02:48کہ اس کے والد کے چچا نے ان کے ایک مکان پر قبضہ کر لیا تھا
02:52والد نے لڑنے کے بجائے
02:54سبر سے عدالت میں کیس لڑا
02:56آٹھ سال بعد فیصلہ ان کے حق میں آیا
02:59تب تک ان کے چچا وفات پا چکے تھے
03:01اور اس دوران اس علاقے کی قیمتیں اتنی بڑھ گئیں
03:04کہ مکان کی قیمت بیس گنا زیادہ ہو گئی
03:07والد کہتے تھے
03:08کہ اگر میں لڑتا
03:10تو میرا وقت پیسہ اور سکون سب برباد ہو جاتا
03:13دوست نے بات ختم کرتے ہوئے کہا
03:15کہ اب میری یہی روٹین ہے
03:17جب بھی کوئی مجھے تکلیف دیتا ہے
03:19میں سوچتا ہوں کہ یہ تھوڑی دیر کا مسئلہ ہے
03:22کل یہ نہیں ہوگا
03:23زندگی بھی ایک 35 منٹ کی فلائٹ کی طرح ہے
03:26کسی برے ساتھی مسافر کی وجہ سے
03:29اپنا پورا سفر خراب نہ کرو
03:30بس اپنی توجہ کسی اچھے کام پر لگا دو
03:33تکلیف خود بخود محسوس ہونا بند ہو جائے گی
03:36اس دن کے بعد جب بھی مجھے کوئی پریشانی ہوتی ہے
03:40میں خود سے کہتا ہوں
03:41کہ یہ 35 منٹ کی فلائٹ ہے
03:43جلد ختم ہو جائے گی
03:45زندگی کا سفر بہت چھوٹا ہے
03:47اسے شکایتوں میں ضائع کرنے کے بجائے سکون سے گزارنا چاہیے
03:51دوستو اس بارے میں آپ کیا کہتے ہیں
03:53کمنٹس میں ضرور بتائیے گا
Comments