Skip to playerSkip to main content
  • 20 minutes ago
ترال، پلوامہ، جموں وکشمیر (شبیر بھٹ)بلند قامت پہاڑوں کے درمیان واقع ترال علاقے میں ان دنوں جنگلی جانوروں اور انسانی تصادم کے واقعات بڑھ جانے کی وجہ سے عوام میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ مقامی لوگ کئی دیہاتوں میں اپنے گھروں سے آنے جانے میں ڈر و خوف محسوس کرتے ہیں۔ گزشتہ روز ہی چھترگام ترال کے علاقے میں ریچھوں کے ایک جھنڈ نے دو افراد پر حملہ کرکے شدید زخمی کر دیا جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک بنی ہوئی ہے۔ اسی طرح امیر آباد ترال میں سی سی ٹی وی کیمرے میں گھوم رہے ایک بھاری بھرکم ریچھ کی موجودگی قید ہوئی ہے۔ جب کہ اسی طرح کی شکایات سیموہ، رٹھسونہ، چیوہ اولر، گلشن پورہ، نہر، خاصی پورہ اور دیگر مقامات سے مل رہی ہیں۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ محکمۂ وائلڈ لائف سیمینار تو منعقد کر رہا ہے لیکن بنیادی سطح پر یہ محکمہ اسی وقت نظر آتا ہے جب کسی علاقے میں جنگلی جانور کسی علاقے میں انسانوں کو نقصان پہنچا دیتا ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ محکمے کے پاس جدید ساز و سامان کی عدم دستیابی اور افرادی قوت کی کمی نے محکمے کو اپاہج بنا دیا ہے۔ ساتھ ہی بدقسمتی سے سرکار اس جانب توجہ نہیں دے رہی ہے۔ اس دوران جنوبی کشمیر میں تعینات وائلڈ لائف وارڈن نے ایک تقریب کے دوران شکارگاہ ترال میں اس بات کا اعتراف کیا کہ محکمہ کو افرادی قوت کی کمی کی وجہ سے متعدد چیلنجز کا سامنا ہے اور اب محکمہ کئی مقامات پر رضاکاروں کی خدمات حاصل کر رہا ہے۔ تاہم انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس سیزن کے دوران احتیاط سے کام لیں۔
واضح رہے کہ جموں و کشمیر میں انسان اور جنگلی جانوروں کے درمیان بڑھتا تصادم ماحولیات اور عوامی تحفظ کے لیے بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سال 2020 سے جولائی 2025 تک اس طرح کے 17,200 سے زائد واقعات و حادثات پیش آ چکے ہیں۔ ان واقعات میں 100 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے جب کہ تقریباً 1,100 زخمی ہوئے۔ گزشتہ برسوں کے دوران دیہات و قصبہ جات اور باغات و رہائشی علاقوں میں جنگلی جانوروں کے داخل ہونے کے واقعات میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے۔ 

Category

🗞
News
Comments

Recommended