- 3 weeks ago
- #meripehchan
- #syedazainabalam
- #aryqtv
Meri Pehchan - Female Talk Show
Topic: Riyakari
Watch All the Episodes || https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8Xiedg5tvI1FXydZNRmEFrO8J
Host: Syeda Zainab
Guest: Dr. Imtiyaz Javed Khakvi, Zarmina Nasir
#MeriPehchan #SyedaZainabAlam #ARYQtv
A female talk show having discussion over the persisting customs and norms of the society. Female scholars and experts from different fields of life will talk about the origins where those customs, rites and ritual come from or how they evolve with time, how they affect and influence our society, their pros and cons, and what does Islam has to say about them. We'll see what criteria Islam provides to decide over adapting or rejecting to the emerging global changes, say social, technological etc. of today.
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Topic: Riyakari
Watch All the Episodes || https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8Xiedg5tvI1FXydZNRmEFrO8J
Host: Syeda Zainab
Guest: Dr. Imtiyaz Javed Khakvi, Zarmina Nasir
#MeriPehchan #SyedaZainabAlam #ARYQtv
A female talk show having discussion over the persisting customs and norms of the society. Female scholars and experts from different fields of life will talk about the origins where those customs, rites and ritual come from or how they evolve with time, how they affect and influence our society, their pros and cons, and what does Islam has to say about them. We'll see what criteria Islam provides to decide over adapting or rejecting to the emerging global changes, say social, technological etc. of today.
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Category
🛠️
LifestyleTranscript
00:02ڈیوزی بللہ حمد شیطان وعظیم بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:06اِنَّا صلاتی ونسوکی ومحیائیہ ومماتی للہ رب العالمین
00:12السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہو
00:15آپ دیکھ رہے ہیں پروگرام میری پہچان اور میری پہچان کی ایک نئے اپیسوٹ کے ساتھ
00:21ایک نئے عنوان کے ساتھ آپ کی میزبان سیدہ زینب حاضرِ قدمت ہیں
00:27آج جو عنوان خاص ہم لے کر آئے ہیں آپ کی خدمت میں
00:31اور جس طرح سے ہم بارہا مختلف عنوانات پہ بات کرتے ہیں
00:36کلام کرتے ہیں ہماری سکولرز
00:38فی زمانہ اس عنوان کی اس موضوع کی بہت زیادہ ضرورت ہے
00:43تاکہ ہم اپنی اصلاح کر سکیں
00:45اپنی آئندہ زندگی کو بہتر بنا سکیں
00:47جو غلطیاں پیچھے ہو گئیں ان کو چھوڑ کر پسے پشت ڈال کر آگے زندگی کو بہتر بنا سکیں
00:53بہت سارے روحانی امراض میں انسان مبتلا ہے
00:57اور ان میں سے ایک ہے ریاکاری
01:00ریاکاری ایک ایسا مرض ہے جو اگر کسی کے اندر آ جائے
01:04تو شاید بہت مشکل سے جان چھوڑاتا ہے انسان
01:07لیکن جب ہم کوشش کرتے ہیں
01:09اللہ کے راستے پر چلتے ہیں
01:11اللہ کے بتائے ہوئے راستے پر چلتے ہیں
01:13تو ہم انشاءاللہ تعالی ان تمام مسائل پر جو روحانی بیماریاں ہیں
01:17جیسا کہ دیگر بھی ہیں
01:19حسد ہے چغلی ہے غیبت ہے
01:20لیکن آج ہم بنیادی طور پر ریاکاری کے حوالے سے بات کریں گے
01:25یعنی ہم دکھاتے کچھ ہیں
01:28اگر ہم اللہ کی عبادت بھی کر رہے ہیں
01:30کہیں کہیں
01:30تو ہمارے دل میں ہوتا ہے
01:32کہ لوگ ہمیں عبادت گزار کہیں
01:34تو وہ چیز جو ہے وہ ریا میں آتی ہے
01:36یعنی آپ کوئی بھی عمل کرے
01:38چاہے وہ معاملات میں ہو
01:40پھر اخلاقیات میں ہو
01:41آپ کی زندگی کی گزارنے کے دوسرے معاملات ہیں
01:44یا پھر عبادت میں ہو
01:46وہ ریا کہلاتی ہے
01:47اور اس کا بہت زیادہ اس کی جو ہے وہ ممانعت بتائی گئی ہے
01:51نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی
01:53اس سے منع فرمایا ہے
01:55اور قرآن مجید فرقان حمید میں
01:58اس پروردگار عالم نے کیا اشارت فرمایا
02:01فرمایا کہ تباہی ہے ان نمازیوں کے لیے
02:04جو اپنی نماز سے غفلت برتے ہیں
02:06اور جو دکھاوا کرتے ہیں
02:08یعنی نماز بھی پڑھے تو وہ دکھاوے کے لیے نماز پڑھے
02:11اللہ رب العزت مجھے آپ کو ہم سب کو محفوظ فرمائے
02:16تو آج اس حوالے سے
02:18اپنی آپ کی ہم سب ایک دوسرے کی اصلاح کریں گے
02:21کاش کہ ہم اپنی اپنی اصلاح کریں
02:23تو سب کی اصلاح ہو جائے گی
02:25اور معاشرہ بہتر ہو جائے گا
02:27ہماری رہنمائی کے لیے
02:28معزز مہمان شخصیات
02:30جو آج کے پینل میں موجود ہیں
02:32ما شاء اللہ
02:33اے آر وائی کیو ٹی وی کا مستند نام ہیں
02:35گفتگو کرتی ہیں
02:36تو پھول جھڑتے ہیں
02:37ما شاء اللہ
02:38اور میں اب ان کے لیے کیا کہوں
02:40ہمارے ساتھ موجود ہیں
02:41پروفیسر ڈاکٹر امتیاز جعوید خاکوی صاحبہ
02:44ڈاکٹر ہے ما شاء اللہ
02:45تو بہت اچھا لگتا ہے ان سے بات کر کے
02:47ڈاکٹر امتیاز جعوید خاکوی صاحبہ
02:49السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
02:51والیکم السلام ورحمت اللہ وبرکاتہ
02:54کیسے ہیں ڈاک صاحبہ
02:55الحمدللہ
02:55اور ان کے ساتھ اگلی نشست پر
02:58جو شخصیت رانا کفروز ہے
02:59ما شاء اللہ
03:00جم کر بولتی ہیں
03:01جب بھی آتی ہیں
03:02مکمل تیاری سے آتی ہیں
03:04زرمینہ ناصر خاکوی صاحبہ موجود ہیں
03:06السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
03:08والیکم السلام ورحمت اللہ
03:10کیسے ہیں زرمینہ آپ خیریت سے ہیں
03:13آغاز کر لیتے ہیں ڈاکٹر صاحبہ
03:14اور بات کر لیتے ہیں
03:16ریاکاری کے حوالے سے
03:18ریاکاری کسے کہتے ہیں
03:19سب سے پہلے تو آپ یہ ارشاد فرمائیے گا
03:21پھر قرآن مجید میں
03:22ریاکاری کے مطالق جو ارشادات ہیں
03:25اس کے مطالق آپ ارشاد فرمائیے گا
03:27شکریہ زیند
03:28بسم اللہ الرحمن الرحیم
03:30اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا
03:32سورہ بکرہ میں
03:33کہ
03:47ریا کیا ہے
03:48اس کے لغوی معنی دیکھیں
03:50تو دکھاوے کہاتے ہیں
03:52ظاہرداری کہاتے ہیں
03:53کہ جب بھی آپ کوئی عمل ایسا کریں
03:55کہ جس میں اللہ کی رضا کے علاوہ
03:57کوئی نیت آپ کی ہو
03:59یعنی کوئی نیت کیا ہو سکتی ہے
04:01کہیں آپ تعریف چاہتے ہیں
04:02کہیں آپ سرانہ چاہتے ہیں
04:04کہیں آپ لوگوں میں اپنا نام بنانا چاہتے ہیں
04:06تو جب بھی
04:07اللہ کی رضا کے سوا
04:09کوئی اور نیت آئی
04:10کوئی اور خیال آ گیا
04:12اور اس خیال اور اس ارادے سے
04:14آپ نے عمل کیا
04:15تو وہ ریا کہلایا
04:16وہ دکھلاوہ کہلایا
04:18He has been doing so much.
04:21He has been doing so much and has been doing so much.
04:24In this verse, I ordered the message,
04:26that Allah Rabbi Al-Hazd has been saying that,
04:28that his name of Allah is today,
04:32that he has been doing so much.
04:34So, he has been asking,
04:39and that he has been saying that,
04:39that he has been doing so much.
04:40He has given me, he has given me a chance to do with me.
04:45He has given me what I'm going to do with you.
04:48So I'm not going to do that.
04:51I will have given you a chance to do that.
04:53So I can get my attention to Allah and Allah has given me that's done.
04:56foreign
05:05foreign
05:06foreign
05:06foreign
05:06قبول نہیں ہوتا اور وہ
05:08خیر کا عمل نہیں کہلاتا وہ عبادت
05:10نہیں کہلاتی وہ نیکی نہیں
05:12رہتی اسی طرح جس طرح
05:14سورة المعون کا بھی آپ نے حوالہ دیا
05:16فَوَيْلُ لِلْمُسَلِّينَ
05:18اللَّذِينَهُمْ أَنصَرَاتِ اِمْسَاهُونَ
05:20بے شک
05:21پھر فرمایا اللَّذِينَهُمْ يُرَاهُونَ
05:23کہ بربادی ہے ان نمازیوں کے لئے
05:26علاقت ہے جو نمازوں کو بلائے
05:28ہوئے ہیں گویا وہ اللہ کی
05:30بندگی خالص ہو کے نہیں کر رہے
05:32ظاہری نمازی تو ہم
05:34اسے کہتے ہیں جو پانچ وقت اللہ کی بارگاہ
05:36میں حاضر ہو رہا ہے جو ایک دو
05:38پڑتا ہے اسے تو نمازی کوئی نہیں کہتا
05:40اس کی تو چھوٹ رہی ہے
05:42مگر یہ نمازی بھی ہے ایمان والا
05:44بھی ہے ظاہران وہ عمل
05:46بھی کر رہا ہے مگر کیا ہے
05:48کہ ریاہ کاری کی وجہ سے
05:50اس کی نمازیں اور ریاہ کاری
05:52کیسے اس کی ہو رہی ہے
05:53کہ وہ ظاہران اللہ کی بندگی کر رہا ہے
05:56محروموں کو بلا رہا ہے متاجوں کو
05:58یتیموں کو اور نمازیں پھر
06:00ایسی اللہ کی بارگاہ میں قبول
06:02نہیں ہو رہی گویا وہ جو
06:04فرمان مبارکہ ہے کہ
06:10اے ایمان والو
06:11اسلام میں
06:12پورے کہ پورے داخل ہو جاؤ
06:14یہ دو رنگی چھوڑ دو
06:16یہ دو چہرے چھوڑ دو
06:18ایک طرف سجدے کرتے ہو اور ایک طرف
06:20حرام مال کھاتے ہو یہ
06:22منافقت ہے یہ ظاہر اور باطن میں
06:24اتضاد ہے ایمان کی
06:26کمزوری ہے یہ اور گویا
06:28کہ وہاں بھی جیسے فرمایا کہ
06:29کہ جو اللہ پر ایمان
06:34رکھتا ہے وہ تو اللہ کی رضا کیلئے کرتا ہے
06:36اس کا مطلب ہے کہ تمہارا
06:37ایمان بہت کمزور ہے تم اللہ پر ایمان
06:40نہیں رکھتے ہو تمہیں یوم آخرت کا
06:42ڈر نہیں ہے کہ تمہیں اللہ کی بارگاہ میں
06:44آزر ہونا ہے تب ہی تمہیں استنی ریاک
06:46آرہی ہے اور اتنا سب کچھ دکھلاوا کر رہے ہو
06:49پھر صورہ کاف
06:50میں ارشاد فرمایا ہے اس کی آخری آیت مبارکہ
06:52ہے کہ جو کوئی اللہ سے
06:54ملاقات کی امید رکھتا ہے
06:57فَمَنْ كَانَ يَرْجُ لِكَا رَبِّ
07:00فَلْيَحْمَلْ عَمَلًا
07:02صَلِقًا
07:03پھر عمل صَلِقًا کرو
07:05وَلَا يُشْرِكْ بِعْبَادَتِ رَبِّ
07:07پھر اللہ کی عبادت میں
07:09کسی کو شریک نہ ٹھہرہو
07:12تو اس دیا کو
07:13نیت کا پوشیدہ مرز کہاں گیا
07:16اور اس کی زد اخلاص ہے
07:17جہاں اخلاص آ جاتا ہے
07:19اخلاص ایک ایسا نور ہے
07:21ایک ایسا خالص سابن یا صرف ہے
07:24جو آپ کو دھو دیتا ہے اندر سے
07:25صاف کر دیتا ہے
07:27یہ جو اخلاص ہے
07:29وہ جب آتا ہے تو ریاں ختم ہو جاتا ہے
07:32بندہ پیور ہو جاتا ہے
07:33اللہ کے لیے اور اللہ نے کئی جگہ
07:36اپنے مخلص بندوں کا ذکر کیا
07:38کہ شیطان کے دعو سے بچنے والے
07:40وہی ہوں گے جن کے اندر
07:42اخلاص کی دولت ہوگی
07:43تو جن میں ریاں ہیں وہ منافقت کر رہے ہیں
07:46ظاہر کچھ ہے باطن کچھ ہے
07:48ان کی عمل قبول نہیں ہوں گے
07:50کاش کہ ہم دھو دیں
07:52اپنے آپ کو سترا کر لیں
07:53اور صاف کر لیں
07:56اور جس طرح سے اللہ جاتا ہے
07:58ویسا بندہ بن جائیں
07:59کاش کہ ہمیں اللہ رب العزت
08:01ہمیں اتنی توفیق عطا فرمائے
08:03زرمینہ آپ اشارت فرمائے گا
08:05جیسے ہم نے قرآن پاک
08:06قرآن مجید فرقان حمید سے
08:09رہنمائی حاصل کی
08:10حدیث مبارکہ بہترین رہنمائی ہے
08:13اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم
08:15کی جو حدیث مبارکہ ہیں
08:16ریاقاری کے تعلق سے آپ فرمائے گا
08:19بہت شکریہ بسم اللہ الرحمن الرحیم
08:21آج کا ٹاپک
08:22ریاقاری بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے
08:24یہ عربی لفظ رویت سے نکلا ہے
08:26جس کا مطلب ہے دکھلاوا کرنا
08:27شہرت چانا دنیاوی قدر و منزلت چانا
08:30اپنا مقام و مرتبہ چانا
08:32اپٹیسیشن چانا
08:33لوگوں کی واہ واہ چانا
08:34یعنی اللہ کی رضا اور کشنودی
08:36ہمارا مقصود نہ ہونا
08:37غیر اللہ کی کشنودی مقصود ہونا
08:39تو ریاقاری اتنا محلق
08:42باطنی مرض ہے
08:43کہ اس کو ڈائیگنوز کرنا
08:45اس کی تشخیص کرنا
08:46یہ بہت زیادہ ضروری ہے
08:47دیکھئے تشخیص کریں گے
08:49علامات نظر آئیں گے
08:50تو دور کرنے کی کوشش کریں گے
08:51ہم سب کو چاہیے
08:52کہ ہم اپنا محاسبہ کریں
08:53کہ پاسٹ میں
08:54اگر ہم سے خدا نہ خواستہ
08:56کوئی ایسا عمل سرزد ہوا تھا
08:57جس میں ہمارا مقصد
08:59فقط اللہ کی رضا نہیں تھا
09:00تو ہم اس کو چینج کرنے کی کوشش کریں
09:02اللہ کے حضور معافی کے خواستگاروں
09:04تاکہ اللہ تعالیٰ کرم فرمائے
09:05ہمارا حال بھی بہتر ہو
09:07اور مستقبل بھی روشن ہو سکے
09:08نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی
09:11احادیث مبارکہ
09:11ہماری بہت کامل رہنمائی کرتی ہیں
09:14کمپلیٹ کوڈ آف لائف ہیں
09:15آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی
09:17حدیث کا مفہوم ہے
09:18ایک شخص نے دریافت کیا
09:19کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
09:21قیامت کے روز
09:22کیا چیز نجات کا سبب نہیں ہوگی
09:25تو آقا علیہ السلام نے فرمایا
09:27اپنے رب کے ساتھ بددیانت ہی کرنا
09:29تو اس شخص نے دریافت کیا
09:30کوئی ایسا کیسے کر سکتا ہے
09:32تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
09:33کہ جب اللہ نے اس کو جو
09:35احکامات دی ہوں
09:36کہ میری رضا اور کشنودی کے لئے کرنے ہیں
09:38تو اس میں اس کا مقصد غیر
09:39اللہ کی رضا اور کشنودی ہو جائے
09:41تو ایسے میں گویا
09:42اس نے شرک کیا
09:43ریا کوئی شرک سے تعبیر کیا گیا
09:45پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
09:47کہ آمد کے روز ریاقار
09:48کو کچھ ایسے ناموں سے پکارا جائے گا
09:49اے بدکار
09:50اے کافر
09:51اے دھوکہ دینے والے
09:52اے خسارہ پانے والے
09:54آج اپنے جو آمال ہیں
09:56جو ان کے لئے تم نے کیے تھے
09:57ان سے جا کر سواب طلب کر
09:59اور تمہارے آمال اور عجر
10:00سبزایا ہو گیا
10:01پھر مسلم کی حدیث ہے
10:02بڑی معروف ہے
10:03ہم اکثر پڑھتے ہیں
10:04سنتے بھی ہیں
10:04کہ ایک مجاہد کا ذکر ہے
10:06سخی کا
10:06اور ایک عالم یا کاری کا ذکر
10:08ملتا ہے
10:08کہ وہ آئیں گے
10:09قیامت کے روز
10:10اور ان کو بتایا جائے گا
10:11کہ تمہارے آمال میں
10:13ریاقاری کی آمیزش تھی
10:15کیونکہ اللہ تبارک و تعالی
10:16تو دلوں کے حال سے
10:17واقع فینا
10:18انہم الامال و بنیات
10:19اور ان کو بتایا جائے گا
10:20کہ تمہارے مال
10:21تمہارے صدقہ کرنا
10:23سخی کہلانا
10:24اور تمہارا کاری ہونا
10:25یہ صرف اس لیے تھا
10:26کہ لوگ تمہیں کاری کہیں
10:27لوگ تمہیں عالم کہیں
10:28لوگ تمہیں بہادر کہیں
10:29لوگ تمہیں سخی کہیں
10:30تو یا اللہ کیا مقبول نہیں ہے
10:32اس سے ہم نے اخلاص کی
10:33امپورٹنس کو بھی جانا
10:34کہ بظاہر آمال کا بڑا ہونا
10:36that doesn't make a difference
10:38آپ کے جو آمال ہیں
10:39اس میں اخلاص سے نیت ہونا
10:40یہ موقوف ہے
10:42امال کی قبولیت کی شرط بھی ہے
10:43کہ اخلاص ہونا چاہیے
10:44پھر ایک اور حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے
10:46کہ روز قیامت
10:47ان ریاکاروں کو
10:49جہنم میں داخل کیا جائے گا
10:50جو اللہ کے لیے
10:51صدقہ نہیں کرتے تھے
10:53بلکہ دکھلاوے کے خواہش بند تھے
10:54اور ان کو تعبیر کیا
10:56جیسے قرآن پاکی آیت کا ذکر بھی ہوا
10:58کہ اپنے مال کو
10:59باطل مت کرو
11:01ضائع کر کے
11:01یا پھر احسان جتا کے
11:03یا عیزہ کسی کو تک
11:04علیف پہنچا کے
11:05اس کو چٹان سے تعبیر کیا گیا
11:07کہ چٹان پر جو مٹی ہوتی ہے
11:08بارش کے بعد وہ دھل جاتی ہے
11:10اور صرف خالی پتھر رہ جاتا ہے
11:11حضرت نئی مدین مراد عبادی
11:13اس آیت کے بابت بیان کرتے ہیں
11:15کہ یہ منافقین کا خاصہ ہے
11:16کہ وہ اللہ کی رضا کے لیے نہیں
11:18بلکہ لوگوں کی خوشنودی کے لیے
11:20اپنا مال
11:21اللہ کی رامحہ خرج کرتے ہیں
11:22اور جب الہزن جہنم کی
11:24ایک ایسی وادی
11:33بنادِ الہی مجھے خلوص کا پیکر
11:35کبھی قریب آئے نہ میرے
11:37ریا یارب
11:38آمین
11:39الہی آمین
11:40ایک وققہ لیتے ہیں
11:41حاضر ہوتے ہیں
11:42اس مقتصر سے
11:43وقفے کے بعد
11:44السلام علیکم
11:45ورحمت اللہ وبرکاتہ
11:47ایک مرتبہ پھر آپ سب کا خیر مقدم ہیں
11:49آپ دیکھ رہے پرگرام میری پہچان
11:51اور ہمارے ساتھ موجود ہیں
11:53اسکولرز بھی
11:54وہ بہت اندگی سے گفتگو فرما رہی ہیں
11:56ریاکاری کے تعلق سے
11:58اور ہم بارہا
11:59اس بات کو
12:01بیان بھی کرتے ہیں
12:02اللہ کی بارگاہ میں دعا بھی کرتے ہیں
12:04کہ پروردگارِ عالم
12:05ہمیں ریاکاری سے بچائے
12:07یعنی کہ
12:08اگر ہم کچھ ایسا عمل کر رہے ہیں
12:11جو ہمارے دل کی کسی کونے میں بھی
12:13اگر یہ شبہ بھی آ جاتا ہے
12:15کہ یہ ہم لوگوں کے دکھانے کے لیے
12:16وہ نیک عمال کر رہے ہیں
12:18تو اللہ تعالی ہمیں اس عمل سے
12:20اس بات سے
12:20دور فرمائے
12:22اور ہمارے عمال کو خالص کریں
12:23کیونکہ ہمیں کام کرنا ہے
12:26عبادت کرنی ہے
12:27لوگوں کے ساتھ
12:28محبت سے پیش آنا ہے
12:29حسن اخلاق سے پیش آنا ہے
12:31خالص نیت کے ساتھ
12:33خالص دل کی پاکیزگی کے ساتھ
12:35خالص محبت کے ساتھ
12:36یہ جو خالص کا لفظ ہے
12:38جو اخلاص کے ساتھ کام کیا جاتا ہے
12:41وہی
12:41اللہ کی بارگاہ میں
12:43مقبول ہوتا ہے
12:44ڈاکٹر صاحبہ آپ ارشاد فرمائیے گا
12:47کہ ریاکاری کی اقسام کے تعلق سے
12:49فرمائیے گا
12:51شکریہ زینب
12:52دیکھیں ہمیں کام کوئی بھی کر رہے ہوں
12:55تو ہم اپنی ایک دفعہ نیت پر ضرور دھیان دے لیں
12:57کہ ہر کام کے لیے دو شرائط
12:59جو ہیں وہ اسے نیکی کا عمل بنا دیتی ہیں
13:02ایک تو وہ خیر کا عمل
13:03اللہ کے لیے ہو
13:05اور دوسرا شریعت کے معروف طریقوں کے
13:07اس روح کے این مطابق
13:09سنتِ متحرہ کے این مطابق
13:11جب یہ دونوں شرطیں نہیں پائی جاتی ہیں
13:13تو اس کا مطلب ہے کہ خیر کا عمل
13:15نہیں ہے
13:16تو یہ بڑا سادہ سا طریقہ ہے
13:18کہ جب بھی آپ کسی سے اچھے سے مل رہے ہیں
13:20یہ آپ کی صلح رحمی ہے
13:21آپ کے رشتہ داروں سے اچھا ملنا
13:24اگر کیا ہے ایک نیت آپ نے کر لی
13:26کہ اللہ کے لیے
13:27اللہ کی رضا کے لیے
13:28اللہ حکم دیتا ہے
13:29رشتہ داروں سے اچھے سے پیش ہو
13:31تو آپ کا وہ عمل خالص ہو گیا
13:33لیکن اگر آپ رشتہ داروں سے اس لیے اچھے پیش آ رہے ہیں
13:36کہ میں اچھے سے ملوں گی
13:38تو جواب میں مجھے توفہ ملے گا
13:46تو اس طرح یہ دو اقسام بن جاتی ہیں
13:48ایک وہ ہے جو ہے یہ دنیا کے لیے
13:50دنیا داری کے کاموں میں
13:52اور ایک ہے جو دین داری کے معاملات میں
13:55دو میجر اقسام اس کی ہو گئیں
13:57اب دنیا داری والی کونسی ہیں
13:58جن میں آپ معاشرتی سطح پر
14:01آپ کسی سے ملتے ملاتے ہیں
14:03اور آپ منافقت کر رہے ہیں
14:04آپ ظاہری ان سے اخلاص سے مل رہے ہیں
14:07مگر آپ کے اندر بامبر جل رہے ہیں
14:09حسد کے جلن کے
14:11اور آپ مل بھی اس لیے رہے ہیں
14:12تاکہ اس کی کمزوریوں کو ڈونڈیں
14:14اس کے نقص ڈونڈیں
14:16اور پھر انہیں دوسری جگہ آپ بیان کریں
14:18اور یہ آپ گھٹیا قسم کی
14:20ایک لذت لینے کے لیے
14:21تو لگانا جی سب تو لگانے کے لیے
14:24بلکل ایسے ہی ہے جیسے آج کل
14:26وہ معاشرے میں ہوتا ہے
14:27لگائی بجائی ایک بات پتا چلی
14:29فون کر کے دس کو جب تک بتایا نہیں
14:32پیٹ ہلکا نہیں ہوتا
14:34پھیلانا بات کو
14:35تو یہ اس گھٹیا قسم کی لذت ہے
14:38یہ دنیا کے آپ کسی بھی معاملے میں آپ لیں
14:41وہ معاشرتی سطح پر بھی
14:43معاشی سطح پر بھی
14:44کسی کو آپ نے حقیق جانا
14:46سمجھا آپ نے
14:47کہ وہ معاشی طور پر ہم سے کم تر ہے
14:50اور پھر اس کا ذکر کیا
14:51اور آپ نے اپنے اندر فخر اور غرور کیا
14:54یہ سب ریاہ دنیا داریاں ہیں
14:57اور دنیا کے لیے آپ کر رہے ہیں
14:58جو اللہ کی اہاں قبول نہیں ہوگا
15:02ایبن آپ ظاہری اس کی مدد بھی کر رہے ہیں
15:04مگر نیت چونکہ اس کو عقیر جاننے سمجھتے ہیں
15:07تو شرمندہ کرنے کی ہے
15:09تو اس لیے آپ کا وہ عمل
15:11اللہ کی بارگاہ میں قبول نہیں ہو رہا
15:13اسی طرح آپ شادی بیعہ پر اتنا خرچ کرتے ہیں
15:16ایک ریاہ کر رہی ہیں
15:17نمود و نمائش کے لیے
15:19دوسروں کو دکھانے کے لیے
15:20تو وہ عمل تو خالص
15:22وہ رہ گیا
15:23زائع ہو گیا
15:24اللہ کے لیے نہ ہوا
15:25نہ شریعت کی روح کے مطابق ہوا
15:27تو جس سے عمال زائع ہو جاتے ہیں
15:30تو جو دینداری میں ہیں
15:33عبادت میں ہیں
15:33وہ تین اقسام بیان ہوتی ہیں
15:35ایک ہے بدن کی
15:36بدن کا ریاہ
15:37اب میں دینداری پہ بات کریں
15:39عبادت پہ بات کریں
15:40اب وہ بدن کی ریاہ کیا ہے
15:41کہ آپ نے دیکھا
15:42آپ لوگوں میں نماز پڑھ رہے ہیں
15:44قیام لمبا ہو گیا
15:45رکو لمبا ہو گیا
15:47سجدہ لمبا ہو گیا
15:48لوگ مجھے دیکھ رہے ہیں
15:50لوگوں کو یہ پتہ چلے
15:51میں بڑی کچھ کو خضو سے
15:53عبادت کرتی ہوں
15:53نماز پڑھتی ہوں
15:54میں نے رکو
15:55اتنا لمبا کیا
15:56اب یہ کیا ہے
15:58سرہ سرد
15:59وہ دنیا کا کام رہ گیا
16:01دنیا کے لیے رہ گیا
16:03اور اللہ کی بارگاہ میں
16:04قبول نہ ہوا
16:05عمل یقصہ ہونا چاہیے
16:07جیسے آپ کی تنہائی کی
16:09نماز تھی
16:09ویسی ہی آپ پڑھتے
16:11اور آپ کا دھیان
16:12اللہ کی طرف ہوتا
16:13کہ اللہ کی رضا کے لیے
16:15ادا کر رہی ہوں
16:15ایک شخص مسجد میں
16:17نماز پڑھ رہا تھا
16:18رات کے وقت
16:19اپنے آپ کو
16:20بڑا نیک سمجھتا تھا
16:21تو اس
16:21نماز میں لطف نہیں آرہا
16:23تو اتنی دیر میں
16:24دروازہ ہلکا سا کھلا
16:25کوئی اندر آیا
16:26اب اسے لگا
16:27کوئی اندر آیا
16:28اور اس کی نماز میں
16:29بڑا خوشو آ گیا
16:31کہ کوئی آیا ہے
16:32کوئی مجھے دیکھ رہا
16:33اور جب وہ نماز
16:34صرف آرہی ہو
16:34سلام پھیر رہا
16:35تو اس نے دیکھا
16:36تو ایک جانور آیا
16:36اللہ اکبر
16:37استخداللہ
16:38کیا اس کی نماز
16:39رات کی تنائی بھی ہے
16:40سب کچھ ہے
16:41مگر نماز
16:42ضائع ہو گئی
16:43لا تبتلو
16:45سوڈا قاتکم
16:46لا تبتلو
16:47ضائع مت کرو
16:48برباد مت کرو
16:49یہ تھی بدن
16:50میرے ہاں
16:51کہ آپ نے
16:52بدن سے
16:52اس کا اظہار کیا
16:53جو حقیقت میں
16:54نہیں تھا
16:55پھر ہے لباس کے
16:56ذریعے
16:57لباس کے ذریعے
16:58کیسے کہ آپ
16:59بڑا سادہ لباس
17:00پہن کر گئے
17:00اگردن اکڑا کر
17:02ایک مذہبی
17:02وہ آپ نے
17:03لبادہ اڑا
17:04خصوصی طور پر
17:05جبکہ نہ آپ
17:06حقیقت میں
17:07ایسے ہیں
17:07نہ آپ
17:08عام روٹین میں
17:09ایسے کرتے ہیں
17:09پھر اس
17:11لباس کے ذریعے
17:12آپ کے ایک
17:13ریاہ کا اجار ہو رہا ہے
17:14پھر کچھ لوگ
17:15خصوصی طور پر
17:16کوشش کرتے ہیں
17:16کہ پیشانی پر
17:17محراب کا
17:18نشان پڑے
17:19اور وہ نشان نظر آ
17:20تو کوئی بھی
17:21ایسی علامت
17:22جو آپ
17:23دنیا داری کے لیے
17:24دنیا والوں کو
17:25دکھانے کے لیے
17:26کر رہے ہیں
17:26تو وہ
17:27ریاہ ہے
17:28وہ عبادت
17:29نہیں ہے
17:29وہ خیر کا عمل
17:30نہیں ہے
17:31اسی طرح گفتگو
17:32میں ریاں
17:32گفتگو میں
17:33کیسے کہ آپ
17:34نے بلند آواز
17:35سے ذکر شروع کر دیا
17:36دنیا کو
17:36دکھانے کے لیے
17:37کہ باہر کوئی ہے
17:39اسے آواز جائے
17:40اور اسے پتہ چلے
17:40میں تو ذکر کر رہا ہوں
17:42یا آپ نے
17:43علمی روب جھاڑنا
17:44شروع کر دیا
17:44کہیں بیٹھے
17:45کہ میں بڑا عالم ہوں
17:46مجھے بہت علم ہے
17:48مجھے بہت
17:48میں جانتا ہوں
17:49جس سے کیا ہوتا ہے
17:50کہ دنیا
17:51بھاگنے لگ جاتی ہے
17:52ایسے لوگوں سے
17:53وہ اس کو
17:54نصیت کر دی
17:55مگر کیا ہوا
17:56کہ اخلاص نہیں تھا
17:57آپ علم کے حوالے سے
17:59روب دینا چاہ رہے تھے
18:00تو یہ
18:01گفتگو کا ریاہ ہے
18:03تو اللہ ہمیں
18:04ہر ریاہ سے بچائے
18:06دنیا داری کا ہو
18:07یا دین داری کے پردے میں ہو
18:09صحیح بات
18:10آپ
18:10یہ تو وہ بات ہو گئی
18:11کہ اللہ نے ہمیں
18:13ایک نعمت بھی عطا کی
18:14ایک صلاحیت بھی عطا کی
18:16اور عطا کرنے کے باوجود
18:17ہم نے اسے زائع کر دیا
18:19میں ابھی
18:20گفتگو سن کر
18:21یہ سوچ رہی تھی
18:22کہ اگر ہم
18:23یہ تصور کر لیتے ہیں
18:24کبھی کبھی ہم نماز پڑھے
18:25اور ہمارے پیچھے آ کے
18:26کوئی بیٹھ جاتا ہے
18:27تو ہمیں احساس ہو جاتا ہے
18:29آپ سوچیں
18:30جو پروردگار
18:31جو ہما وقت
18:32ہمیں دیکھ رہا ہے
18:33جب ہم اس کے حضور
18:34حاضر ہوں
18:35کھڑے ہوں
18:35تو بس یہ سوچ لیں
18:37کہ وہ رب تو دیکھ رہا ہے
18:38تو کیسا خشو خضو
18:39ہماری نمازوں میں آئے گا
18:40تو یہ اپنی نیت
18:41کو ٹٹولنا ہے
18:42بیسیکلی
18:43ہم کسی اور پر نہیں کہہ سکتے
18:44اپنے آپ کو کہہ سکتے
18:45کہ ہمارے اندر کیا چل رہا ہے
18:47سرمینا
18:48آپ یہ اشارت فرمائیے گا
18:50کہ تحدیس نعمت
18:51اور ریاکاری
18:52کیا فرق ہے
18:53کس طرح فرق بیان کریں گے آپ
18:55اچھا تحدیس نعمت
18:56اور ریاکاری
18:56بظاہر سیم ہی لگ رہے ہوتے ہیں
18:58بہت دیوز
18:58ایک ہیوچ ڈیفرنس
18:59اس میں نیت کا بہت زیادہ فرق ہے
19:01جب ہم تحدیس نعمت کی بات کرتے ہیں
19:03تو اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ
19:04نعمتوں کا شکر ادا کرنا
19:06کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے
19:07صحت عطا فرمائی ہے
19:08مجھے رزق عطا فرمائی ہے
19:09مجھے اولاد عطا فرمائی ہے
19:11مجھے علم کے نور سے
19:12میرے قلب کو روشن کیا ہے
19:14ایمان کے نور سے مزین کیا ہے
19:15اس کو تو تحدیس نعمت کہتے ہیں
19:17جو فقط اللہ کی رضا و خوشنودی کے لیے ہی
19:19ہم کر رہے ہوتے ہیں
19:21اور ہمیں کرنا بھی چاہیے
19:22On the other hand
19:23اس کے ہم جب ریاکاری کی بات کرتے ہیں
19:25تو لوگوں سے appreciation چاہنا
19:27لوگوں کی نظروں میں
19:28اپنی بڑائی جتانا
19:29اور خالصاً
19:30لبج ہلا وہ کام نہ کرنا
19:32لوگوں کو دکھانے کے لیے
19:33بس وہ انسان کام کر رہے
19:34تو یہ اس میں huge difference ہے
19:36اگر تحدیس نعمت کی بات کریں
19:38تو جیسے قرآن پاک مسئول عبد دعا
19:39میں فرمایا گیا
19:40فَأَمَّا بِنِ عِمَتِ رَبِّكَ فَحَدِ
19:41کہ اپنے رب کی نعمتوں کا خوب تذکرہ کرو
19:44ان کو بیان کرو
19:46ان کا چرچہ کرو
19:46کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ نعمتیں عطا کی
19:48ہم اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے
19:50اس کے فضل کے تمنائی اور شکر گزار ہوتے ہوئے
19:53تحدیس نعمت کا اظہار کرتے ہیں
19:55اچھا ریاقاری میں کیا مقصود ہوتا ہے
19:57کہ کسی کے دل میں حسد کے جذبات ہوں
20:00کسی کے دل کو میں تکلیف دوں
20:01کہ مجھے تو اللہ نے یہ چیزیں اور یہ نعمتیں عطا فرمائی
20:04تو اس سے باز رہنا چاہیے
20:05بکر علماء کرام یہ کہتے ہیں
20:07کہ ہم اپنی نیت کو کامل طور سے تو نہیں جج کر سکتے
20:10اس لیے جب نعمت کا تذکرہ بھی کرے
20:12کوئی آپ کی تعریف بھی کرے
20:13تو آپ اللہ کا شکر ادا کریں
20:15کہ یا اللہ تیری ہی طاقت ہے
20:16تیری ہی کمانڈ ہے
20:17تیری طرف سے سب کچھ عطا کرتا ہے
20:19میں کمزور ناتوا ہوں
20:20اور میں نے یہ پڑھا تو مجھے بہت اچھا لگا
20:22کیونکہ دیکھیں ہم سب ہیں کیا
20:24خاک ہیں اور انسان سوچے
20:26جو سائنس کے سپیشلی سٹوڈنس ہیں
20:27کہ ہمارے اندر ایک سکیلٹن ہی تو ہے
20:30تو انسان ایک دم لرز جاتا ہے
20:31کہ میں کچھ بھی نہیں ہوں
20:33تو ایسے میں اس کو اپنی نیت کو جج بھی کرنا ہے
20:36اچھے طریقے سے کوشش کرنا ہے
20:38کہ میرا عمل اللہ کی رضا اور خوشنودی کے لیے ہی ہو
20:41اور کسی کو تکلیف نہیں دینی
20:42اور ریاقاری کو اپنی زندگی سے دور کرتے چلے جانا ہے
20:45حضرت جندب بن عبداللہ بن سفیان فرماتے ہیں
20:47حدیث کا مفہوم ہے
20:48کہ قیامت کے روز جو ریاقار ہے
20:50اللہ تبارک و تعالی اس کے عیوب کو آیاں کر دے گا
20:53اس کو رسوہ کیا جائے گا
20:54اب دیکھیں کہ ایک انسان نے ساری زندگی
20:57اپنی نیکیاں اس لیے کیوں اچھے عمال
20:59کہ میرے لئے توشہ آخر ہے
21:01وہ کس قدر ندامت ستا ہوگا
21:02کس قدر حسرت و یاس کی کیفیت میں ہوگا
21:05اور حضرت صوبان بن عوص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں
21:08کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
21:09فرمایا کہ مجھے امت سے
21:11جس شرک کا خوف ہے وہ ریاقاری ہے
21:15اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ
21:17نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ
21:19کو ایک بار رونے کی کا سبب پوچھا
21:21اور وجہ دریافت کی تو انہوں نے فرمایا
21:23کہ میرے رونے کا سبب وہ حدیث مبارکہ ہے
21:25جس کا مفہوم ہے کہ ادنا ریا بھی شرک ہے
21:28تو آپ سوچیں کہ ہم سب کو
21:29اپنی سیلف اکاؤنٹی بلیٹی کرنے کی
21:31اپنا محاسبہ کرنے کی
21:33نیت کی محافظت کرنے کی بہت ضرورت ہے
21:35شروع میں بھی عمل کے
21:36اور ایڈ دا میڈل میں بھی اور اینڈ پہ بھی
21:40اس کی ریزن یہ کہ خدا نہ خاستہ
21:41خدا نہ خاستہ شیطان وسوسہ ڈال دے
21:43بعد میں ہماری نیت وہ غائب ہو جائے
21:45اور یہ ہم کسی فرد واحد کی بات نہیں کرے
21:49ہم تو اپنے
21:50میں اپنے آپ
21:51اپنے ہم سب سیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں
21:53اپنے اصلاحی پرسپیکٹیف کے تعلق سے بات کر رہے ہیں
21:56اور بعض وقت جب لوگ
21:57اپنی تحجد گزاری کا ذکر کرتے ہیں
21:59نیند پوری نہیں ہوئی رات کو دیر تک
22:01میں نے وافل ادا کرتا رہا
22:02میں نے لوگوں کی جوب دل لگوا دی
22:04میں نے کسی کو زکاة دی
22:06تو وہ بھی آیا ہو جاتا ہے
22:08آپ دیکھیں نا
22:09سمبلز پتہ چل جاتے ہیں
22:10کہ یہ شخص اپنے کارناموں کا تذکرہ کر رہا ہے
22:13اللہ کی رضا اس کو مقصود نہیں ہے
22:15لیکن میں سمجھتی ہوں
22:16اور ایسا ہونا بھی چاہیے
22:17کہ ہمیں دوسروں سے
22:18اس نے ذن قائم رکھنا چاہیے
22:20اور ہم کیا کرتے ہیں
22:21ہم اپنے سے اس نے ذن قائم رکھیں گے
22:22اور دوسروں کو جج کریں گے
22:24اس نے یہ کہا
22:24اس نے خود کو ذرہ اینا چیز
22:26کہا تو پتہ نہیں
22:27آپ دیکھیں
22:27انا مل آمال و بینیات
22:29اللہ تبارک و تعالی اس سے واقع ہے
22:30اچھا میں تھوڑا سا تحدیث نعمت کا
22:32اس طرح ضرور ذکر کرنا چاہوں گی
22:34کہ ہم دیکھیں کہ
22:35کائنات کا ذرہ ذرہ
22:36اللہ تبارک و تعالی کی نعمتوں کے
22:38امبار تلے دبا ہوا ہے
22:39انسان اپنے وجود پر غور کرتا ہے
22:41کہ اللہ نے مجھے آنکھیں لی
22:42ورنہ دنیا میں مجھے
22:44اندھیرہ میرا مقدر ہوتا
22:46پھر اللہ نے مجھے
22:47ہواس خمسہ اتا کی ہے
22:48میرے قلب کو ایمان کے نور سے روشن کیا
22:50پیارے آقا علیہ السلام کا امت ہی بنایا
22:52ان کے صدقے میں بے شمار نعمتیں اتا کی
22:54مجھے اکلو شعور بکشا
22:56اور اللہ نے فرمایا
22:57کلی لمحہ تشکرون
22:58بہت کلیل ہیں جو میرا شکر دار کرنے والے ہیں
23:00اللہ اور بہت
23:02ہم نے اخلاص کے نور سے آراستہ ہو کر
23:05تحدیث نعمت کا اظہار کرنا ہے
23:06لیکن اللہ کی رضا اور اس کی خوشنودی کے لیے
23:09اس عمل کو اختیار کرنا ہے
23:12اگر کسی میں دنیا کے لیے ہی
23:14وہ عمل کیا ہوگا
23:15کہ خالصاً اس میں اللہ کی رضا شامل نہیں ہوگی
23:18تو دنیا میں تو اس کو ریوارڈ مل جائے گا
23:20لیکن آخرت میں وہ عجر سے محروم ہو جائے گا
23:22جیسا کہ ہم جانتے ہیں
23:23سلعقاف کی آیت کا مفہوم ہے
23:24کہ جو اللہ تعالیٰ سے ملاقات پر امید یا یقین رکھتا ہو
23:28وہ اپنے آمال کو ریاکاری سے پاک و صاف رکھے گا
23:31اور حضرت مالک بن دینار ایک مرتبہ
23:34مسجد میں تشریف فرمائے تقاف کی حالت میں
23:36اور آپ کے ذہن میں آتا ہے
23:37کہ کئی ایسا ہو کبھی
23:39کہ مجھے مسجد کا متولی بنا دیا جائے
23:41سارے معاملات اور اختیارات میرے سپورٹ کر دیا جائے
23:43پھر عبادت میں مشہول ہو جاتے ہیں
23:45اور مصروف عمل ہو جاتے ہیں
23:47غیب سے ندا آتی ہے
23:48کہ اپنے عمال کو ریاکاری سے محفوظ کریں
23:52آپ فوراں تائب ہوتے ہیں
23:53جب لوگ ان کے پاس لیٹرون آتے ہیں
23:54اور ان کو کہا جاتا ہے
23:55کہ سارے اختیارات آپ کے سپورٹ کر دیا جائیں
23:58تو وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر دیا
24:00اور فرماتے ہیں
24:01کہ اللہ میرا ہر عمل خالصاً آپ کے لئے ہے
24:03تو انسان کا ظاہر و باطن یقصہ ہونا چاہیے
24:06میں کوشش کرنی چاہیے
24:07کیونکہ ہر انسان کی جو چالاکیاں ہیں
24:09جو فطرت ہے نا
24:10اس سے سب بھی واقف ہوتے ہیں
24:11تو اس کا بڑا چڑھا کر بیان کرنا
24:14اس سے اجتناہ بھی کیا جائے تو بہتر ہے
24:16اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ نو سے
24:17ایک حقائط منسلک کی منصوب کی جاتی ہے
24:19جس کا مفہوم ہے
24:21کہ جب ہم کسی کو دکھانے کے لئے
24:23اپنے عمل کو
24:24ریاکار جو اس کا سمبل یہ بھی بتایا گیا
24:25کہ وہ مستعد ہو جائے گا
24:27اور جب تنہائی میں ہوگا
24:29تو وہ سستی کا شکار ہو جائے گا
24:31ان عامال کو بھی ریا سے تعبیر کیا گیا ہے
24:34تو اللہ تعالیٰ ہمیں محفوظ کرمائے
24:36کل انہ صلاتی و نسکی و مہیایا
24:38و مماتی للہ رب العالمین
24:40کے لئے شک میری نماز قربانی
24:42اور میری زندگی کا ہر عمل
24:43فقط اللہ کے لئے ہے
24:45جو تمام عالمین کا رب ہے
24:47یہ کہنا بہت ہی آسان ہے
24:49لیکن اگر ہم اس کے پیچھے
24:51اپنے ہر عمل کو دیکھیں
24:53ہم اپنے آپ کو پرکھیں
24:54اپنے آپ کو جانیں
24:56اور سیدھے راستے پر چلنے کی کوشش کریں
24:59اور ہر ہر عمل کے پیچھے
25:00اپنی نیت کو پرکھیں
25:02تو یقینی طور پر
25:03ہم اپنے عمال میں صدار پیدا کریں گے
25:05وقفہ لیتے ہیں حاضر ہوتے ہیں
25:07السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
25:09ہم بات کر رہے ہیں جناب
25:11ریاکاری کے تعلق سے
25:13اور جس طرح ابھی کچھ دیر پہلے بات ہوئی
25:16تحدی سے نعمت کی
25:17یعنی بس مکمل شکر گزاری ہے
25:20کہ پروردگار جو کچھ عطا کیا ہے
25:23وہ تیرا ہی دیا ہوا ہے
25:24تو پھر تکبر کیسا
25:26پھر دکھاوا کیسا
25:27پھر جتلانا کیسا
25:28پھر کسی پر احسان کرنا کیسا
25:31تو یعنی جو جو کام
25:32جو جو عمل
25:33جو حسن زن کے طور پر
25:35ہم دوسرے کے لیے استعمال کریں
25:37کہ نہیں یہ کام اس نے کیا ہے
25:39تو اچھے ہی احساس کے ساتھ
25:40اچھی فیلنگ کے ساتھ
25:42اچھے ہی جذبے کے ساتھ کیا ہوگا
25:44بس اپنی نیت کو
25:45ہم محفوظ رکھیں
25:47اور درست رکھیں
25:48کہ اپنے آپ کو ہم بہترین عمال والا بنائیں
25:50تو یہ زیادہ بہتر بات ہے
25:52نہ کہ ہم دوسرے عمل کو
25:58اتخاکوی صاحبہ
25:59اور زرمینہ صاحبہ بھی
26:01ہمارے ساتھ موجود ہیں
26:02ریاکاری کے تعلق سے بات ہو رہی ہے
26:04ڈاکٹر صاحبہ
26:05اب مزید بات کر لیتے ہیں
26:07اور اس کے اسباب کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں
26:09کہ آخر ریاکاری کے اسباب کیا ہیں
26:11کیوں انسان اس میں مبتلا ہو جاتا ہے
26:14یہ جو روحانی بیماری ہے
26:15اور پھر اس کے نقصانات کے تعلق سے بھی آپ بتائیے گا
26:19کیونکہ میں بار بار یہ بات کہتی ہوں
26:21کہ جب ہم نقصانات سنتے ہیں
26:23تو اس سے خوف کھاتے ہیں
26:24ڈرتے ہیں
26:24بچتے ہیں
26:25کیا کہیں گے
26:27شکریہ زینب
26:28دیکھیں
26:31انسان کی اندر ہی اچھائی بھی ہے
26:33اور برائی بھی ہے
26:34تو جب وہ برائی اس پر غالب آ جاتی ہے
26:36تو جیسے ہم کہتے ہیں
26:38کہ نفس جو ہے اس پر غالب آ گیا
26:40اور اس سے برے کام سرزاد ہونے لگ گئے
26:43اب وہ ظاہراً
26:44اس نے اپنے ایک ایسے جگہ پہ آنکھ کھولیا جانے کی
26:47کی بڑی عزت ہے
26:48اور نیک لوگوں کی
26:49وہ چاہتا ہے کہ میری بھی عزت ہو
26:52مجھے بھی لوگ نیک سمجھے
26:53اب اس میں رہا آتا چلا جاتا ہے
26:56کیونکہ حقیقت میں تو نفس غالب ہے
26:58اس پر
26:59اس نے نفس کے تذکیئے کی تو کوشش نہیں کی
27:01اور اس کے برعکس وہ چلا گیا
27:03دنیا داری کے لیے
27:05کہ لوگ مجھے نیک سمجھے
27:07یعنی ایک روہ میں بہتا چلا گیا
27:08اور اس میں اس کی سبب کیا بنا
27:12اس نے شہرت طلب کی
27:13اس نے ظاہری ایک نیکوکاری کو طلب کیا
27:16کہ جسے لوگ مجھے عزت دیں
27:18تو عزت کی طلب آئی
27:20لوگ میرے ہاتھ چومیں
27:21مجھے مسند پر بٹائیں
27:22میری عزت کریں
27:23میرے آگے جھکیں
27:24میری تعظیم کریں
27:26تو ان سب چیزوں نے اس کے عمل کو خراب کر دیا
27:28چونکہ اللہ کی رضا کے لیے نہ رہا
27:30پھر آپ دیکھیں تو ہمارے ہاں
27:32چاپلوسی خوش آمد
27:34یہ کیوں کی جاتی ہے
27:35ترقی پانے کے لیے
27:36کامیابی لانے کے لیے
27:38جو دنیا کا یہ خالص عمل ہے
27:40ایون گھروں کے اندر
27:42بیٹا باپ کی چاپلوسی کر رہا ہے
27:44بیٹی جو ہے
27:45وہ اپنے طور پر پیسے نکلوانے کی کوشش کر رہی ہے
27:48تو اس سے کیا ہوتا ہے
27:50کہ یہ عمل ریاں میں آ جاتا ہے
27:52اور خود کوئی انسان ریاکار جو ہوتا ہے
27:54بڑا چالاک اور زیرک سمجھ رہا ہوتا ہے
27:57تو دنیاوی مفادات جہاں بھی بابستہ ہیں
28:00یا کسی قسم کی گھٹیا لذت کے لیے
28:03شورت کے لیے
28:04کسی بھی ایسی چیز کے لیے
28:06جو اللہ کی رضا کے سوا کچھ بھی ہے
28:09وہ دنیا داری ہے
28:12وہ نیکی کا عمل نہیں ہے
28:14نہ ہی وہ خیر کا عمل ہے
28:16یہ مختلف چیزیں ہیں
28:17مختلف اسباب ہیں
28:18پھر آپ دیکھیں تو
28:20اللہ رب العزت نے
28:21سلی نسان میں ارشاد فرما ہے
28:26جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں جگہ ہوگی
28:30منافقین کی
28:30اور اتنا کافروں کے لیے نہیں
28:34جتنا منافقوں کے لیے شدید عذاب کی باتیں ہوئی ہیں
28:37قرآن مجید میں
28:38وچہ یہ ہے کہ وہ ظاہری تو لبادہ
28:40انہوں نے نیکی کا عوڑا ہوتا ہے
28:42لیکن در پردہ اندر ان کے منافقت ہوتی ہے
28:45تو نقصان کیا ہوا
28:47کہ عمل ایک ظاہری آپ نے محنت بھی کی
28:49آپ نے عمل بھی کیا
28:51جو ظاہراں بڑا اچھا نظر آ رہا ہے
28:53مگر کیا ہوا
28:54کہ عمل ضائع ہو گیا
28:56عمل برباد ہو گئے
28:58جہنم میں ان کو جگہ ملی
29:01ملہون ان کے لیے کہا گیا ان کو
29:03وہ شیطان کا دوست بن گیا
29:05پھر آپ ظاہری بھی دیکھیں
29:06تو جس کے ظاہر اور باطن میں تضاد ہوتا ہے
29:09اس کو کوئی بھی دل سے پسند نہیں کرتا
29:12دلوں سے اس کی حیبت
29:13اس کی عظمت رہتی ہی نہیں ہے
29:15وہ بظاہر کوئی آ کے
29:17اس کو تعظیم دے بھی رہا ہے
29:18لیکن دل میں عزت نہیں ہوتی
29:20پھر ایسا شخص معاشرتی سطح پر بھی
29:23وہ ظاہر تو اس کو مل بھی رہی ہے
29:25تو لیکن معاشرتی سطح پر
29:27اس کو ظلیل و رسوات سمجھا جاتا ہے
29:29کہ کوئی بھی فرد اس کو
29:31اپنا نہیں سمجھ رہا
29:32مخلص ہی نہیں رہا وہ
29:33تو مخلص نہیں ہے
29:35تو کوئی بھی اسے پسند نہیں کر رہا ہوتا
29:38پھر اسی طرح سے
29:39وہ نیکی کر بھی رہا ہے
29:40تو نیکی ضائع ہو رہی ہے
29:42جیسے سخاوت کی بات آئی
29:43اشادت کی بات آئی
29:45علم کی بات آئی
29:46تو جگہ کہاں مل رہی ہے
29:48جہانم کے سب سے نچلے تب کے
29:50کتنا بڑا نقصان ہے
29:53اور قرآن مجید میں ہی آتا ہے
29:54جس کا ابھی حوالہ بھی دیا تھا
29:56زرمینہ نے بھی
29:57کہ اس کا ایسی ضائع ہو جاتا ہے
29:59نیکی کا عمل
30:00جیسی چٹان پر مٹی پڑی ہوئی ہو
30:02اب تیز بارش ہوئی
30:03تو مٹی اوپر سے دھولی
30:05تو نیچے پتھر کا پتھر رہ گیا
30:07تو بینی ریا والے کا عمل
30:10اتنا چلا گیا
30:11کہ وہ پتھر کا پتھر رہا
30:13دل بھی سخت رہا
30:15اور نہ ہی نفس کا تذکیہ وہ کر پایا
30:18اور یاد رکھیں
30:20کہ کامیابی اس کو ملی
30:21جس نے اپنے نفس کو مغلوب کیا
30:24اور تقویٰ کو
30:25اوریجنل نیکی کو
30:26خیر کے عمل کو
30:27اپنے عمال پر غالب کر لیا
30:29تو تب وہ کامیاب ہوا
30:31تب وہ اللہ کی بارگاہ میں
30:33اس کا عمل قبول ہوا
30:34آپ اصل بہادری تو یہی ہے
30:36کہ اپنے نفس کو کنٹرول میں رکھیں
30:38یعنی ہمارا نفس ہمیں اکساتا ہے
30:41بہت سارے ایسے کام کرنے کے لئے اکساتا ہے
30:43لیکن ہمیں اپنے آپ کو کنٹرول کرنا ہے
30:46جو چھپا ہوگا ہے
30:48مغوب ہے
30:49مغوب ہے
30:49تو اس دشترول کا مقابلہ کرنا مشکل ہے
30:53اب اسباب بھی ہم نے جانے
30:55اور جس طرح سے
30:57بھی ریا کے حوالے سے
30:58پوری ڈیٹیل کے ساتھ بات ہوئی
30:59زرمینہ
31:00علاج بتائیے گا
31:01کہ کیسے علاج کرنا
31:02ایک محلک بیماری تو ہے
31:04ظاہرے ہر ظاہری بیماری کا بھی علاج ہے
31:06تو یہ جو اندرونی بیماری ہے
31:08اس کا کیا علاج ہے
31:09بلکل جیسے کہ
31:10امتیاز بازی جان نے بہت خوبی کے ساتھ
31:12ساری علامات کا بھی تذکرہ کیا
31:14سارے حوالوں سے بات ہوئی
31:16اقسام کے تعلق سے کلام ہوا
31:17تو اب ہمیں یہ آسانی ہوگی
31:19کہ ہم اس کو ڈائیگنوز کیسے کر سکتے ہیں
31:20خود میں
31:21دوسروں میں نہیں
31:21اگر ہمیں فیل ہوتا ہے
31:24ویسے کسی کے اندر
31:24تو اسے پیار سے ہم
31:26تنہائی میں
31:26فضائل کے حوالے سے بتا سکتے ہیں
31:28کہ اگر ہم اخلاص نیت کے ساتھ کام کریں گے
31:31تو اس کے یہ فضائل ہیں
31:32اور اگر خدا نہ خاصتہ ریاکاری ہوگی
31:33تو یہ آفات ہیں
31:34تاکہ وہ بھی فکر آخرت کو پیشے نظر رکھے
31:36لیکن ہم نے
31:37اپنی نیت کا محاسبہ کرنا ہے
31:40سیلف اکاؤنٹیبلیٹی کرنی ہے
31:42شروع میں بھی
31:43درمیان میں بھی
31:43اور آخر میں بھی
31:44کہ میرا عمل خالصاً
31:45لوجہ اللہ ہونا چاہیے
31:46میں کیوں بول رہا ہوں
31:48میں کسی کو توفہ کیوں دے رہا ہوں
31:50میں نات کس لیے پڑھ رہا ہوں
31:52کن کے لیے پڑھ رہا ہوں
31:53میں بیان کن کے لیے کر رہا ہوں
31:55مجھے کیا درکار ہے
31:56جب ہم یہ اپریسییشن
31:58صرف اللہ تبارک و تعالی سے چاہیں گے
32:00یعنی اللہ کی رضا
32:00اس کو خوش کرنا چاہیں گے
32:02تو دیفنیٹلی
32:03ہمیں پھر ریاکاری سے نجات ملتی چلی جائے گی
32:06پھر ایک عمل یہ بھی ہے
32:08کہ اللہ تبارک و تعالی ہمارا یہ کامل یقین ہونا چاہیے
32:12کہ اللہ ہمارے ساتھ ہے
32:13تو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا
32:15کہ کون ہمارے خلاف ہے
32:16لیکن اگر ہماری نیت خالص ہے
32:19ہماری نیت اچھی ہے
32:20کسی کو ڈی گریٹ کرنا مقصود نہیں ہے
32:21آپ کوئی بھی عمل کرتے ہیں
32:23تو آپ اللہ کے لیے کرتے چلے جائیں
32:25پھر اس کا عجر دیکھیں
32:26پھر اس کا انعام دیکھیں
32:27پھر یہ بھی ہے
32:29کہ ہمیں اپنی کمیوں اور غلطیوں پر نظر بھی رکھنی چاہیے
32:32میں نے کہی پڑھا
32:33کہ جب انسان کو کوئی بھی مقام عطا ہوتا ہے
32:35تو سب سے پہلے جو چیز جو بھولتا ہے
32:38وہ اس کی اوقات ہوتی ہے
32:39تو ہمیں اپنی بیگننگ کو
32:41اپنی اوقات کو
32:42اپنی حیثیت کو
32:43ہمیسا ذہن میں فرش ہتنا چاہیے
32:45جب ہم یہ رکھیں گے
32:46تو یقین کیجئے
32:47ہم ریاکاری سے
32:48ہم لگجری سے
32:49ہم نمود و نمائش سے بچتے چلے جائیں
32:51پھر ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے
32:53کہ کچھ ہمارے عمال
32:53یقیناً ایسے ہونے چاہیے
32:55جن کا اللہ کے سوا تنہائی
32:57میں اچھے عمال کا کوئی گواہ نہ ہو
32:58وہ ہمارے نفلی صدقات ہو سکتے ہیں
33:00ہماری نیکی ہو سکتے ہیں
33:02ہمارا رکوع و قیام و سجود ہو سکتا ہے
33:04ہم کسی کی مدد کریں
33:05تو ایک ہاتھ سے دیں
33:07اور دوسرے کو پتا نہ چلیں
33:08پھر اگر کوئی آپ کی تعریف کر رہا ہے
33:10تو آپ اپنے آپ کو اندر سے یہ سمجھائیں
33:12کہ رب تبارک و تعالی
33:13یہ آپ کا فضل ہے
33:14آپ کا کرم ہے
33:15میں کسی قابل نہیں ہوں
33:17and at the same time
33:18ہمیں اللہ تبارک و تعالی سے دعا بھی کرنی چاہیے
33:20کہ یا اللہ ہمیں چھپی ہوئی ریا سے
33:23یا سامنے
33:24چونکہ باریک بین ہے
33:25اور میں نے یہ بھی پڑھا
33:26کہ جو سیاہ چیونٹی ہے
33:29جیسے سیاہ پتھر پہ چل رہی ہوتی ہے
33:31اندھیری رات میں
33:32ریا کو اس سے بھی مثال دی گئی
33:34کہ سوچیں کتنا باریک بینی والا معاملہ ہے
33:37ہم کیسے جج کریں
33:39تو اپنی نیت کی محافظت
33:41جب ہم کریں گے
33:42اور عامال خالصاً اللہ کی رضا اور کشنودی کے لیے
33:45بار بار اس کا چیک انڈ بیلنس کریں گے
33:47تو ہمارے لیے یہ عمل کرنا آسان ہو جائے گا
33:50سبحان اللہ علیہ وسلم
33:53سچوں کے ساتھ ہو جائے
33:55ہم ان کے ساتھ ہوں گے
33:56تو ہم بھی سچ بولیں گے
33:57وہ لوگ جو اپنی نیت کا محاصبہ کرتے ہیں
33:59ہمارے اندر بھی یہ ویوز آتی ہیں
34:01اور یہ ایکسپیرینس ایک بات ہے
34:03کہ ایسا ہوتا ہے
34:04جو لوگ اچھے ہوتے ہیں
34:06خوش کلامی سے بات کرتے ہیں
34:07ہم بھی ان سے وہ اچھائی سیکھتے ہیں
34:09کیونکہ ریاکار پر جنت حرام کر دی گئی
34:12ہمیں یہ بار بار سوچنا ہے
34:13اور خواجہ حسن بسری نے بھی
34:15اس حوالے سے کچھ علامات کا تذکرہ کیا
34:17اور میں بھی یہاں ضرور بات کرنا چاہوں گے
34:19کہ بعض اوقات
34:20لیکن ہمیں دوسروں سے حسن زن قائم رکھنا
34:22یہ علامات اس لیے
34:23کہ ہم خود میں آ رہی ہیں
34:25خدا نہ خواستہ ہم انسان ہیں
34:27تو خود میں آنے نہ دیں
34:28اس کو دور کریں
34:29کہ یہ عمل خالصاً لیوچ اللہ نہیں ہے
34:31جیسے فار ایکزمپل
34:32میں تو کسی قابل نہیں ہوں
34:33میں تو ناکارہ ہوں
34:34میں تو ذرہ ناچیز ہوں
34:36دعا کے دوران بار بار
34:37اپنے آنسوں کو پوچھنا
34:38کسی سے بائخلاق طریقے سے
34:40اس لیے ملنا کہ لوگ
34:41مجھے سمائلنگ فیس والا کہیں
34:43یہ تو بڑے اچھے طریقے سے بات کرتی ہے
34:44کسی کے سامنے
34:45سنجیدگی اور مطانت
34:46صرف اس لیے اس کا خواہا ہونا
34:48کہ بھئی مجھے لوگ سنجیدہ کہیں
34:50مجھے پروکار کہیں
34:51میں بڑا ڈیسنٹ ہوں
34:52یہ تمام تر چیزیں
34:54ہمیں خود سے دور کرنی ہے
34:55اور یہاں یہ بھی ذکر کرنا چاہوں گی
34:57کہ اولیاء اللہ
34:58جو پیاری نیک پاکیزہ صحبت ہیں
35:00جن کی برکاتی برکات ہے
35:01کسی مرد کامل کی صحبت میں بیٹھیں گے
35:04تو یقیناً
35:05ان کی نظر کامل سے
35:06ہماری باطنی
35:07جو زندگی ہے
35:08وہ بہتر ہوتی ہے
35:09اور ہمارے قلب و روح کی
35:11باطنی زندگی کی تطہیر کا
35:13سامان ہوتا ہے
35:14اور آقا علیہ السلام کی
35:15کعلیمات پر عمل کریں
35:16کیونکہ جو دل و جان سے
35:18ان پر قربان ہوتا ہے
35:19پاتا ہے دل کی چمک
35:21کامل انسان ہوتا ہے
35:22رکھتا نہیں طلب زمانہ
35:24وہ محمود
35:25دراصل وہ زمانے کا
35:27سلطان ہوتا ہے
35:28بے شک
35:29اچھا ہم جو ہے نا
35:31وہ جو روحانی بیماریاں
35:36باریک بینی کی بات ہوئی
35:37تو وہ اللہ ہے
35:38وہ رب ہے
35:39وہ پروردگار ہے
35:41وہ پوری کائنات کا
35:42خالق و مالک ہے
35:43تو وہ اتنا باریک بین ہے
35:45کہ وہ نظر رکھے ہوئے ہیں
35:47ہر ذرے پر نظر رکھے ہوئے ہیں
35:49اس نے ہمیں بنایا
35:50تو کیا ہمارے آمال اور افعال
35:52اس سے چھپ سکتے ہیں
35:53نہیں
35:54وہ پروردگار عالم
35:55سب کچھ جانتا ہے
35:56ہمارے دل میں چھپی ہوئی
35:58کسی بھی بات کو
36:00وہ بہترین انداز سے جانتا ہے
36:02تو ہمیں ریا سے پروردگار پاک رکھے
36:05ڈاکٹر صاحبہ آپ تشریف لائیں
36:06آپ کی آمد کی بہت مشکور ہوں
36:08زرمینہ آپ تشریف لائیں
36:09آپ کی آمد کی بہت مشکور ہیں
36:11ہمیشہ ہر بز میں
36:13اقتطام میں ہم یہی دعا کرتے ہیں
36:15اور آج خاص طور پر یہی دعا کریں گے
36:18کہ اللہ ہمیں اپنے دل کی
36:20اپنے قلبی حالت کو جانچنے کی
36:22سمجھنے کی
36:23اپنے آمال افعال کو جانچنے کی
36:26توفیق اطاف فرمائے
36:27تاکہ ہم ریا سے محفوظ رہ سکیں
36:29السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
Comments