Skip to playerSkip to main content
MAJLIS KHAWATEEN | 10th Muharram | Roz e Ashoor | ARY Digital

Bayaan By Zakira Syeda Kanwal Arif.

#muharram #muharram2025 #arydigital
Transcript
00:06Surah Al-Fatihah
00:36Surah Al-Fatihah
01:27Surah Al-Fatihah
01:29Surah Al-Fatihah
01:29Now I am sorry about you, but not even though I have left in new verses.
01:35In the comes of the verse of surah-i- frente which is the second letter of surah,
01:44it became the first letter of verse number 154 by the verse.
01:49Which is the verse number 2 which is the second letter of surah which is the second letter of surah.
01:54اور اس کا ترجمہ یہ ہے
01:57کہ پروردگار عالم ارشاد فرما رہا ہے
02:00کہ جو لوگ خدا کی راہ میں مارے جائیں
02:04ان کو مردہ نہ کہو
02:06بلکہ وہ زندہ ہیں
02:08لیکن تم ان کی زندگی کی حقیقت کا شعور نہیں رکھتے
02:15یعنی پروردگار عالم یہ ارشاد فرما رہا ہے
02:18کہ جو لوگ اس کی راہ میں اپنی جانوں کو قربان کر رہے ہیں
02:22وہ زندہ ہیں
02:24اور ہم جو لوگ اس دنیا میں ہیں
02:28وہ اس کے بارے میں شعور نہیں رکھتے
02:30تو اب اس سرنامہ کلام کی آیت کے تناظر میں
02:34آپ سے گفتگو کے لیے
02:36آج میں نے جس موضوع کا انتخاب کیا
02:39وہ ہے حسین شناسی
02:41اب شناسی کا لفظ نکلا ہے شناس سے
02:45اور شناس کا مطلب ہے جاننا
02:48کسی کو پہچاننا
02:49اور حسین شناسی کا مطلب ہے
02:51یعنی ذات مبارکہ امام حسین کے مطالق جاننا
02:56تو آج ہماری گفتگو
02:59امام حسین علیہ السلام کی ذات مبارکہ سے مطالق ہے
03:03اور امام حسین کی ذات مبارکہ کوئی عام ذات نہیں ہے
03:07وہ اتنی عظیم مرتبے والی
03:10اتنی گرہ قدر ہستی ہیں
03:12جن کے لیے پروردگار عالم نے قرآن پاک میں
03:16کئی مقامات پر اور پروردگار کے محبوب ترین نبی نے
03:21اپنی کئی آحادیثوں میں
03:23ان کے لیے ان کی منزلت جو رسول کی اور اللہ کی نظر میں
03:28پروردگار عالم کی اپنی نظر میں
03:30اور اللہ کے رسول کی نظر میں
03:32جو امام حسین کی منزلت ہے
03:34اس کو بیان کیا ہے
03:37اور جیسا کہ
03:38میں نے سرنامہ کلام کی آیت
03:40میں آپ کے سامنے پیش کیا
03:42کہ پروردگار نے ارشاد فرمایا
03:44کہ جو لوگ خدا کی راہ میں مارے جائیں
03:46یعنی جو اپنی جانوں کو
03:48اللہ کی راہ میں قربان کر دیں
03:50تو ایسا کون ہوگا
03:51کہ جو امام حسین سے زیادہ
03:53اپنی جان کو اللہ کی راہ میں قربان کر
03:56جس نے
03:58حسین وہ ہستی ہیں
03:59کہ جنہوں نے
04:00اللہ کی راہ میں
04:01اپنی جان
04:02اپنا گھر
04:03اور اپنے بچوں کی قربانی کو پیش کیا
04:07تو پروردگار علم کی یہ بات
04:09کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں
04:11انہیں مردہ نہ کہو
04:13وہ زندہ ہیں
04:13تو اسی طرح پوری ہوتی ہے
04:16کہ آج ہم دیکھتے ہیں
04:17دنیا میں
04:18جگہ جگہ
04:19امام حسین کا نام لینے والے موجود ہیں
04:21آج ہم جس مجلس میں موجود ہیں
04:24یہ بے شک
04:25امام کی ذات کا اجازہ
04:26اور پروردگار علم کا وعدہ سچا ہے
04:29کہ جو لوگ
04:30اللہ کی راہ میں مارے جائیں
04:32ان کو
04:33مردہ نہ کہو
04:34وہ زندہ ہیں
04:34اسی صورت میں زندہ ہیں
04:36کہ آج ان کے نام پر
04:38جگہ جگہ پر مجالس ہیں
04:39جگہ جگہ پر لوگ بیٹھے ہیں
04:41موجود ہیں
04:41سبیلیں لگ رہی ہیں
04:43لوگ ان کے نام پر
04:44نیازیں بات رہے ہیں
04:45یہ ان کے نام کا اجازہ ہے
04:48تو اب
04:49پروردگار علم نے یہ فرمایا
04:51کہ جن لوگوں نے
04:52قربانی پیش کی
04:53ان کی منزلت
04:54ہم بہت بڑھا دیں گے
04:55ان کو
04:56ایک خاص مقام
04:57عطا کریں گے
04:58رتبے عطا کریں گے
05:00تو اب
05:01ایسی شخصیت
05:02جو اللہ کی راہ میں
05:03اپنی جان کو
05:04قربان کر گئی
05:05اور جس نے
05:06اتنی قربانی پیش کی
05:08کہ اپنے
05:09جوانوں کو
05:10اپنے گھرانے کی
05:11خواتین کی
05:13پردے کی
05:14اور اپنے بچوں کی
05:15قربانیوں کو پیش کیا
05:16پروردگار علم
05:17انہیں وعدہ کیا
05:19کہ رہتی دنیا تک
05:20ان کا نام
05:21اس دنیا میں لیا جاتا رہے گا
05:23اور پھر
05:24رسول خدا
05:25نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
05:40نبی مکرم
05:41ارشاد فرماتے ہیں
05:42اور نبی مکرم کی یہ حدیث
05:44مستنت ترین روایات کے ساتھ
05:47تمام شیعہ
05:48اور سنی علمہ نے
05:50اپنی کتابوں میں نقل کی ہے
05:52اور رسول مکرم کی یہ حدیث
05:54بخاری
05:55ترمزی
05:56ابن ماجا
05:57اور دیگر
05:58مستنت کتابوں میں موجود ہیں
05:59کہ نبی مکرم
06:01یہ ارشاد فرماتے ہیں
06:02کہ حسین و منی
06:04وآنا من الحسین
06:05یعنی
06:07میں حسین سے ہوں
06:08اور حسین مجھ سے
06:10اب اتنی منزلت
06:12کوئی اتنی خاص ہستی ہے
06:15کہ جس کے لیے
06:16اللہ کا
06:17محبوب ترین نبی
06:19یہ بات کہہ رہا ہے
06:20اور اللہ تعالیٰ
06:23اپنے اس نبی کے لیے
06:24یہ ارشاد فرما چکا ہے
06:26کہ میرا نبی
06:28کچھ نہیں کہتا
06:29بجز اس کے جو وحی ہو
06:32یعنی
06:33یہ پروردگار کی طرف سے
06:34بتایا گیا
06:35کہ نبی مکرم کی یہ حدیث ہے
06:37کہ نبی مکرم کو یہ بتایا گیا
06:39کہ حسین کی اتنی منزلت ہے
06:41نبی فرما رہے ہیں
06:43کہ حسین مجھ سے ہے
06:45اور میں حسین سے ہوں
06:46تو اتنا مرتبہ
06:48اتنی منزلت
06:49اتنی نجابت
06:50اتنی طہارت
06:51پروردگار عالم
06:52اور نبی مکرم
06:53بیان فرما رہے ہیں
06:54کوئی معمولی بات نہیں ہے
06:56یہ وہ شخصیت ہیں
06:58کہ جن کی
06:59طہارت
07:00نجابت
07:01عظمت
07:01اور بزرگی کو
07:02قرآن کریم میں
07:04جگہ جگہ بیان کیا گیا
07:05اور رسول مکرم
07:07جگہ جگہ
07:08اپنی حدیثوں میں
07:09ان کی
07:09بزرگی کو
07:10اور ان کی منزلت
07:12کو بیان کرتے ہیں
07:13درود بھیجے گا
07:15امام حسین کی ذاتیں
07:27اور پھر
07:29جب ایک مختبہ
07:30یہ وقت آیا
07:31کہ رسول کریم کی
07:33وفات ہو گئی
07:34اور تقریباً
07:35رسول کی وفات کے
07:36پچاس برس کے بعد
07:38امت مسلمہ پر
07:40وہ وقت آیا
07:41کہ اس وقت
07:42کیا ہوا
07:43کہ مسنت پہ
07:45یزید جیسا
07:46فاسق مرا جمان ہوا
07:47اسلام کے اوپر
07:49کالی گھٹائیں
07:51چھانے لگیں
07:52اور جورو استبداد کی
07:54ان گھٹاؤں نے
07:55اسلام کو
07:56منتشر کرنا شروع کیا
07:58ایک ننگے انسانیت
08:00جو تھا
08:01اس نے رسول کریم کی
08:03کمائی کو
08:04تہو بالا کرنا چاہا
08:07ناؤزو باللہ
08:08یہ کوشش چاہی
08:09یہ کوشش کرنا چاہی
08:10کہ کس طرح سے
08:11وہ اللہ کے
08:13نبی کی
08:14اتنی محنتوں
08:15اور اتنی ریاضتوں
08:16کے بعد
08:17اس دین مکمل
08:19جو دین اسلام
08:20نبی مکرم
08:21اس دنیا میں
08:22پھیلا کر گئے ہیں
08:23اس میں کیا کرے
08:24رد و بدل کر دے
08:26اور کیا کرے
08:28کہ حرام خدا
08:29اور حلال خدا
08:30جو چیز
08:31پروردگار عالم
08:32نے حرام قرار دی
08:33اور جو چیز
08:34حلال قرار دی
08:35ان کو مکس کر دے
08:36ان کو
08:37آپس میں ملا دے
08:38نبی کی شریعت میں
08:40اپنی مرضی کی
08:41چیزوں کو
08:42ڈال دیں
08:42اس نے ان کوششوں
08:44کو شروع کیا
08:45ایسے وقت میں
08:46ایک ہستی
08:47ایسی تھی
08:48جو استقامت سے
08:50اللہ کے نبی کے دین
08:51کو
08:51بچانے کے لیے
08:53کھڑی ہوئی تھی
08:54اور یزید
08:56جانتا تھا
08:57کہ یہ شخصیت
08:58مرجع حق ہے
09:00اس شخصیت سے
09:01جب تلک کے
09:03بیعت حاصل نہ کی جائے
09:04اپنے باطل
09:05ارادوں میں
09:06کامیام نہ ہو سکے گا
09:07تو بس
09:08یزید نے
09:09اپنی ان کوششوں
09:10کو تیز کرنا چاہا
09:12کہ وہ
09:12کسی طرح سے
09:13جناب امام حسین
09:15سے
09:15بیعت کو
09:16حاصل کرے
09:18لیکن
09:18آپ
09:19وہ
09:20زیوکار
09:20ہستی ہیں
09:21کہ آپ نے
09:22کسی صورت بھی
09:24اس بیعت پہ
09:25حامی نہیں بھری
09:26آپ نے
09:26یزید کی
09:27بیعت نہیں کی
09:27اور آپ نے
09:28ایک تاریخی جملہ
09:29کہا
09:30جو آج بھی
09:31تاریخ میں
09:31موجود ہے
09:32اور وہ
09:33جملہ کیا ہے
09:34وہ جملہ یہ تھا
09:36کہ آپ نے فرمایا
09:37کہ مجیسا
09:39یزید جیسے کی
09:40بیعت نہیں کر سکتا
09:43یعنی آپ نے
09:44اس فرق کو
09:45واضح کیا
09:46کہ مجیسا
09:47یزید جیسے کی
09:48بیعت نہیں کر سکتا
09:49کہ فرق ہے
09:50کہ میں کون ہوں
09:52ایک نجیب
09:53اترہین
09:53خاندان سے ہوں
09:54اور یزید جیسے
09:55کی بیعت
09:56جو کہ باطل ہے
09:57مجسم باطل ہے
09:59مجسم شر ہے
10:00اس کی بیعت نہیں کروں گا
10:02اور یہ طاقت حسین ابن علی کے پاس
10:05کہاں سے آئی
10:06یہ طاقت اس شجرے سے آئی
10:08ان پاک و طاہر ہستیوں سے آئی
10:10جن کی صحبت
10:11تمام عمر اپنی جن کی صحبت میں گزاری تھی
10:15کیوں
10:16کیونکہ آپ کو
10:17سرداری دی پروردگار میں
10:20سرداری دی
10:21جس وقت اسلام کی تاریخ
10:23ہم اٹھا کر دیکھتے ہیں
10:24تو اسلام کی تاریخ میں
10:26ہمیں دو سید و شہدہ ملتے ہیں
10:29دو سید و شہدہ ملتے ہیں
10:31سید کا مطلب ہے سردار
10:33اور شہدہ کا مطلب
10:35شہیدوں کا سردار
10:37تو اب اسلامی تاریخ میں
10:39جو دو سید و شہدہ ہیں
10:40تو پہلے جو سید و شہدہ ہیں
10:43وہ جناب امیر حمزہ ہیں
10:45جو کہ
10:46حضرت حمزہ وہ شخصیت تھے
10:49جو کہ رسول خدا اور جناب
10:51علی مرتضی کے چچا تھے
10:52پھر کچھ وقت آگے مزید گزرا
10:54جب وقت آزی حضرہ واقعہ کربلا
10:57ظہور پذیر ہوا تو جناب امام حسین
10:59نے ایسی قربانی پیش کی
11:01جو رہتی دنیا تک کے لیے
11:03تا قیامت ایک مثال بن گئی
11:05اور پھر امام حسین
11:08علیہ السلام کو
11:09سید و شہدہ کا لقب دیا گیا
11:21اب امام حسین کی ذات مبارکہ
11:24وہ ہے جو بی بی سیدہ کی
11:26گود میں پل کر جوان
11:27ان کی عظمت اور بزرگی کے لیے
11:30ہم کیا کہتے ہیں زیارت وارثہ میں
11:32ہم ان کو کس طریقے سے سلام کرتے ہیں
11:34ان کی تحارت کی گواہی دیتے ہیں
11:36ہم کہتے ہیں
11:43یعنی
11:44کہتا ہے پڑھنے والا جب یہ زیارت پڑھتا ہے
11:46تو کیا کہتا ہے کہ میں گواہی دیتا ہوں
11:48کہ آپ نور تھے
11:50بزرگ اور قابل احترام اسلاب میں
11:53اور پاکیزہ ارہام میں
11:56گواہی دیتے ہیں مولا کی تحارت کی
11:58تو یہ اسی نجیب چھجرے کی
12:00عظمت اور بزرگی تھی
12:02کہ آپ تمام باطل قوتیں
12:04جو اس زمانے میں
12:06اسلام کو زیر و زبر کرنے پہ
12:08تلی ہوئی تھی
12:08ان کے سامنے ڈڑ گئے
12:10اور آپ نے ہار نہیں مانی
12:12اور آپ کا پھر وہی تاریخی جملہ
12:14کہ مجھ جیسا یزید جیسے کی
12:16بیعت نہیں کر سکتا
12:17اس کو آخری دم تک نبھایا
12:19کہا میں نانا کے دین کو
12:22بچانے کے لیے
12:23ہر طرح کی قربانی دوں گا
12:25کیونکہ جب مولا
12:26مدینہ سے سفر کیا ہے مولا نے
12:29اٹھائیس رجب کو
12:30اپنا قافلہ لے کر چلے ہیں
12:32اٹھائیس رجب کو
12:33مدینہ سے قافلہ لے کر چلے
12:35اور لوگوں نے پوچھا
12:36کہ نواسہ رسول
12:38آپ کیوں جا رہے ہیں
12:39تو مولا کا جملہ
12:41کہ کیا کہا
12:42کہ میں جنگ و جدل کرنے نہیں جا رہا ہوں
12:45میں کسی اقتدار کی
12:47میں کیوں جا رہا ہوں
12:49بے طلب اصلاح امت جدی
12:51کہ میں اپنے نانا کی
12:53امت کی اصلاح کرنے کے لیے جا رہا ہوں
12:57اور روایات میں دیکھئے
12:58مستند ترین روایات اٹھا کر دیکھئے
13:01کہ اس زمانے میں جب سفر ہوتا تھا
13:03لوگ سفر پر چلے جایا کرتے تھے
13:04آج کی طرح یہ موبائلز
13:06اور یہ سارے رابطے کے ذریعے نہیں تھے
13:08حسین ابن علی نے
13:09اس وقت قاغذ اور قلم منگوایا تھا
13:13قاغذ اور قلم پر لکھ کر گئے تھے
13:15کہ کیوں جا رہا ہوں
13:17تاکہ پیچھے رہ جانے والے لوگ
13:20اور پتہ تھا
13:21کہ اس واقعے کو
13:23لوگ کچھ کا کچھ رنگ دیں گے
13:25باطل قوتیں
13:26اس میں اپنا شر دکھائیں گی
13:28تو لکھ کر گئے
13:29کہ میں نانا کی امت کی اصلاح کے لیے جا رہا ہوں
13:33تاکہ کوئی اس میں رد و بدل نہ کر سکے
13:37یہ نہ کہا جا سکے
13:39کہ حسین ابن علی اقتدار کے لیے چلے گئے
13:42اگر اقتدار کی جنگ کے لیے جاتے
13:44تو کیا چھوٹے سے بچے کو ساتھ لے کر جاتے
13:47کیا اپنے گھر کی خواتین کو ساتھ لے کر جاتے
13:50نہیں
13:52لیکن کیونکہ نانا کے دین کو بچانا تھا
13:55اس لیے پورے گھرانے کو ساتھ لے کر چلے
13:58اور یہ طاقت کہاں سے پائی
14:01یہ طاقت وہاں سے پائی
14:02اس عظیم شجرے سے پائی
14:04اس نجیب شجرے سے پائی
14:06جو پروردگارِ عالم نے
14:08سورہ آلِ عمران
14:09قرآنِ کریم کا تیسرا سورہ
14:11اس کی آیت نمبر 61 میں ارشاد فرمایا
14:14کیا فرما رہا ہے پروردگار
14:16کیا ہے قرآنِ کریم میں
14:18سورہِ مباحلہ
14:19آیتِ مباحلہ
14:20کیا ارشاد ہے
14:21کہ آؤ
14:22ہم اپنے بیٹوں کو لے کر آئیں
14:24تم اپنے بیٹوں کو لے کر آؤ
14:25اور ہم اپنی عورتوں کو لے کر آئیں
14:27اور تم اپنی عورتوں کو لے کر آؤ
14:29اور ہم اپنی جانوں کو لے کر آئیں
14:31اور تم اپنی جانوں کو لے کر آؤ
14:33اور پھر
14:34ہم مل کر خدا کی بارگاہ میں گڑ گڑائیں
14:36اور جھوٹوں پر خدا کی لانت کریں
14:40تو یہ اس تربیت کا اثر تھا
14:43بچپن سے ان پاک ہستیوں کی زیر تربیت رہے تھے
14:48اس تربیت کا اثر تھا
14:50کہ مولا نے کہا
14:51کہ میں اپنے گھرانہ قربان کروں گا
14:53لیکن کسی باطل کی بیعت نہیں کروں گا
14:56کسی باطل شخص کے سامنے
14:59اپنے سر کو نہیں جھکاؤں گا
15:01اور پھر یہاں پر آ کر
15:04میں سرنامہ کلام کی آیت کا حوالہ دوں
15:06کہ جب باطل کے سامنے سر نہیں جھکایا
15:09اللہ کی مرضی سے اپنی مرضی کو مشروط کر دیا
15:13اللہ کی مرضی کے تابع کر دیا
15:15تو پروردگارِ عالم کہہ رہا ہے
15:17کہ جو لوگ ہماری راہ میں مارے جائیں
15:19انہیں مردہ نہ کہوں
15:22جو لوگ ہماری راہ میں جان دے دیں
15:24انہیں مردہ مت کہوں
15:25اور پھر اسی طرح
15:39جو لوگ ہماری راہ میں مارے جائیں
15:41انہیں مردہ نہ کہوں
15:43بلکہ وہ زندہ ہیں
15:45اور ہماری بارگاہ میں ان کی منزلت ہے
15:48اب اس منزلت کو ثابت کرنے کے لیے
15:51کیا کہا گیا
15:52کہ امام حسین کی جو منزلت ہے
15:55وہ ہم جو ان کے ماننے والے ہیں
15:57وہ تو مانتے ہیں
15:58آج آپ دیکھئے
16:00کہ ان کے روزے پر جانے کے لیے
16:02لوگ کتنا بیتاب ہوتے ہیں
16:04اور کچھ عرصے سے تو
16:05اربعین واغ کتنی زیادہ چل گئی ہے
16:08کتنا زیادہ لوگوں کی خواہش ہوتی ہے
16:10لوگ کوشش کرتے ہیں
16:12کہ زیادہ سے زیادہ
16:13اس میں شامل ہو سکیں
16:15زیادہ سے زیادہ اس میں شرکت کریں
16:17اور اس اربعین واغ میں
16:19ایک دو کا نہیں
16:22پورا انٹرنیشنل میڈیا موجود ہوتا ہے
16:24اس کی کوریج کر رہا ہوتا ہے
16:26اب امام حسین کی منزلت بیان کرنے کے لیے
16:29ایک چھوٹا سا واقعہ
16:31جو آج کل کے دور کا ہے
16:33وہ بیان کرو
16:34تاکہ آپ کی منزلت
16:36کی عظمت سے ہم فیضیاب ہو سکیں
16:39اور ایک روایت ہے
16:40روایت ہمیں بتاتی ہیں
16:42ملت تشریعوں کی مستند روایت میں موجود ہے
16:45کہ امام حسین کی
16:47زیارت کے لیے
16:48پیدل جانے کا ثواب بہت زیادہ ہے
16:51مطلب آپ کسی بھی طریقے سے جائیے
16:54یہ ثواب بے شک ہے
16:55لیکن پیدل جانے کا ثواب بہت ہے
16:57تو اس تناظر میں یہ واقعہ ہے
17:00اور یہ موجودہ زمانے کا واقعہ ہے
17:02کہ اربین واغ تھی
17:03بہت مجمع تھا وہاں پر
17:06تو وہاں پر بہت سارا انٹرنیشنل میڈیا موجود تھا
17:09تو ایک مغربی چینل نے
17:11ایک بزرگ کو دیکھا
17:12کہ وہ آہستہ آہستہ
17:14چلتے ہوئے آ رہے ہیں
17:16اور وہ عالم دین تھے
17:17صاحب امامہ شخصیت
17:19تو انہوں نے کسی سے پوچھا
17:21کہ یہ کون ہے
17:22تو انہوں نے بتایا
17:23کہ یہ ایک بہت بڑے عالم ہیں
17:25پھر انہوں نے کہا
17:27کہ یہ کون سی زبان بولتے ہیں
17:28تو انہوں نے کہا
17:29جو بتانے والا تھا
17:30اس نے کہا یہ عربی زبان کو سمجھتے ہیں
17:33تو پھر ایک ٹرانسلیٹر کو بلایا گیا
17:35اور اس کے ذریعے ان سے گفتگو کی گئی
17:37وہ گفتگو کیا کی گئی
17:39وہ گفتگو یہ ہوئی
17:40کہ انہوں نے سب سے پہلا سوال یہ کیا
17:43کہ آپ کہاں سے آ رہے ہیں
17:44so the scholars have answered that I am going to the beach
17:47how much of your age is?
17:51they said 86 years
17:54they said when are you driving?
17:57the channel is asking when are you driving?
17:59they said when are you driving?
18:02the scholars have answered that I have been driving 6 days
18:06and I will reach the 7th day Haram-e-Mutahar
18:11so now the channel has asked
18:14what happened was the last thing that you have so much of your age
18:18and have a difficult time and you are going to go and so much
18:21they said what did they answer?
18:23they said they had to go to the Haram-e-Mutahar
18:24and said that Haram-e-Mutahar
18:28it's a gift that I also brought in this year
18:33then they said they had a question
18:35they said good thing they said
18:38you tell them why are you going to go so much
18:44so the scholars said that I am going to go this way
18:48and I am going to go this way
18:51and I am going to go this way
18:53so now I am going to go this way
19:00and I am going to go this way
19:12so now I am going to go this way
19:36। । ।
20:00was there. So what was the result of those people who wanted to bring everyone to each other?
20:09That I will kill before. When we look at normal in our lives, every person wants to die from death.
20:18Every person wants to die from death. Everyone wants to die from death. Everyone wants to die from death.
20:23So they said what was the result of what was the result of every person who wanted to die from
20:28his soul.
20:32So one of themёй started by our对 scenes. They bombed the judge.
20:38That man in all the world, always says that all people have their eyes when they Đ LEDs will reach
20:44their hands.
20:45They saw their96 mountains, just because everyone had to care for their husbands'm.
20:54سبقت لے جائے اور وہ دوسروں سے پہلے اپنی جان کو امام حسین کی جان
21:00آفری پر قربان کر دے اور پہلے جل سے جل پہنچے اور جنت میں اپنی
21:06منزل کو حاصل کر دے اتنی عظمت ہے پھر میں اپنے سرنامہ کلام کی آیت
21:11کا حوالہ دوں آپ کو کہ پروردگار نے کہا کہ وہ لوگ جو اپنی جانوں
21:17کو ہماری راہ میں قربان کر دیتے ہیں وہ ان کو مردہ نہ کہو وہ زندہ
21:22ہیں لیکن تم ان کی زندگی کی حقیقت کا شعور نہیں رکھتے تو اب
21:29ہم جو اس وقت دنیا میں موجود ہیں ہم نے کیا کیا ہم اتنا اپنے نفس
21:34کے قابو میں آ گئے ہیں کہ ہماری آنکھوں کے آگے پردے پڑ گئے ہم
21:38نہیں جانتے ان منزلاتوں کو ان مقامات کو جو پروردگار عالم اپنے
21:42مقرب بندوں کو دیتا ہے تو اب اس کے لیے کیا کرنا ہوگا اس کے لیے
21:48اپنے نفس کو کچلنا ہوگا اپنے نفس کے سرکش گھوڑے پہ قابو پانا
21:52ہوگا تاکہ جب ہم اپنے نفس پہ قابو پائیں گے تو پھر پروردگار
21:58عالم ہماری آنکھوں کے آگے سے ان پردوں کو ہٹانا شروع کرے گا اور
22:01پھر پتا چلے گا کہ پروردگار عالم نے اپنی مرضی کی اپنے جو لوگ اس
22:07کے حکامات کو مانتے ہیں ان ماننے والوں کے لیے کیا کیا مرتبے
22:11رکھیں جس وقت اس نفس کو کچل دیا جائے گا اس پر قابو پا لیا
22:16جائے گا پھر عبادت میں مزہ آنا شروع ہوگا ایک ہمارے بڑے جیہر
22:23عالم گزرے ہیں ملہ فیض کاشانی اور یہ ملہ فیض کاشانی کا واقعہ
22:29گناہان کبیرہ کی چھتی جلد میں موجود ہے اہل تشعیو کی بڑی مستند کتاب
22:34اور یہ اس وقت محمد حر عاملی محمد باقر مجلسی اور محمد بن
22:40سلاسہ کا زمانہ ہے یہ سب ہمارے بڑے عالم گزرے ہیں ان کا زمانہ
22:44ہے اس وقت میں کیا ہوا کہ ایک مرتبہ ایران میں بہت مضبوط اسلامی
22:50حکومت ہے اور یورپ میں مضبوط عیسائی حکومت تھی یورپ سے راہب آتے
22:56تھے تبلیغ کے لیے ایران میں وہ اپنے مذہب کی تبلیغ کرتے تھے اور ایران
23:01سے لوگ جاتے تھے یورپ میں وہ اپنے مذہب کی تبلیغ کرتے
23:04تھے دونوں جگہ پہ مضبوط حکومت قیم تھی اب ایک مرتبہ کیا ہوا
23:09کہ یورپ سے ایک عیسائی راہب آیا اور اس نے کہا کہ میں نے عیسائی
23:16ابن مریم سے علم حاصل کیا ہے سچا علم حاصل کیا ہے تو مجھ سے جو
23:22چاہو وہ پوچھ لو لوگوں نے مختلف اس سے سوالات کرنے شروع کیے اب
23:27جس شخص نے اس سے جو سوال کیا تو وہ راہب بڑی آسانی کے ساتھ
23:31اس کا جواب دے دیا کرتا تھا تو اس سے کیا ہوا جب یہ سلسلہ
23:35کچھ دن چلا تو کیا ہوا کہ کچھ کمزور عقیدے کے لوگ اپنا ایمان
23:40کھونے لگے اب جب لوگوں کے ایمان پہ بات آنے لگی تو پھر جیسا
23:45کہ ہوتا ہے کہ اس وقت میں پھر علماء کی یاد آتی ہے تو ملہ فیض
23:50کاشانی اس وقت کے ایک بڑے جیہ دعلم تھے اپنے دور کے ان کو
23:54بلایا گیا ان سے رابطہ کیا گیا اور ان کو یہ مسئلہ بتایا گیا
23:57کہ اس طریقے سے لوگ اپنا ایمان کھو رہے ہیں تو انہوں نے بتایا
24:04کہا کہ ٹھیک ہے میں کل آتا ہوں دربار میں اور پھر دیکھتے ہیں
24:07اس راہب کو بھی آپ بلا لیجے گا اب مقررہ وقت پہ جب ملہ فیض
24:13کاشانی دربار میں پہنچے تو تمام بہت سارے لوگ موجود تھے اور یہ
24:18راہب بھی موجود تھے اب جس وقت ملہ فیض کاشانی دربار میں آئے
24:23تو وہ اس عالم میں دربار میں آئے کہ ان کے ایک ہاتھ کی مٹھی
24:27بند تھی اور ایک ہاتھ کھلا ہوا تھا نارمل ہم جاتے ہیں تو دونوں ہاتھ
24:33کھلے ہوتے ہم جاتے ہیں لیکن کیا ہوا کچھ مختلف تھا کہ ایک ہاتھ کی
24:37مٹھی بند تھی اور ایک ہاتھ کھلا ہوا تھا تو اب کیا ہوا کہ جب اس
24:44راہب سے سامنا ہوا سلام دو ہوئی باتچی چروہ ہوئی تو ملہ فیض
24:49کاشانی نے ایک جملہ کہا انہوں نے کہا کہ کس کا مذہب سچا اور
24:55کس کا مذہب جھوٹا اس پر ہم بعد میں بات کریں گے پہلے مجھے یہ
25:00بتاؤ کہ میرے ہاتھ میں کیا ہے اب وہ راہب جو تھا اس نے بڑی حیرانی
25:06کے ساتھ ان کو دیکھا اور پھر وہ نظریں جھکا کر کھڑا ہو گیا
25:10بڑا حیران پریشان نظر آیا لوگ جو موجود ہیں وہ دیکھ رہے ہیں
25:14کہ بھئی اب یہ کوئی جواب دے تو پھر معاملہ کھلے وہ راہب جواب
25:18نہیں دیتا جب کچھ دیر گزر گئی تو پھر لوگوں نے کہا کہ بھئی
25:22بتاؤ تو وہ کہنے لگا کہ میں نے جب دیکھا تھا تو میں اسی وقت
25:27سمجھ گیا تھا لیکن میں بہت حیران ہوں اور میں یہ سمجھ نہیں
25:32پا رہا ہوں کہ یہ جنت کی مٹی اس زمین پر کیسے آگئی
25:39اس نے کہا میں بہت حیران ہوں کہ مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ جنت
25:43کی مٹی زمین پر کیسے آگئی تو اب پھر ایک شور ہوا اور لوگوں
25:47نے ملہ فیض کاشانی سے کہنا شروع کیا کہ آپ نے اس عیسائی
25:52راہب کو تو دکھا دیا اور ہمیں نہیں دکھایا تو ملہ فیض کاشانی
25:56نے یہ جواب دیا انہوں نے کہا کہ دن میں پانچ مرتبہ دیکھتے ہو
26:01انہوں نے کہا دن میں پانچ مرتبہ دیکھتے ہو اور یہ کہہ کے اپنے
26:06ہاتھ کو کھولا تو لوگوں نے کیا دیکھا کہ اس ہاتھ کے اندر خاک
26:11شفا کی تذبیح یا سجدگاہ موجود تھی تو اتنی منزلت اتا کی
26:16پروردگار عالم نے کیوں کیونکہ اللہ کی راہ میں اپنی جان کو قربان
26:21کیا تھا اور کوئی معمولی قربانی نہیں دی تھی اتنی زبردست قربانی
26:26جو رہتی دنیا تک کے لیے حق اور باطل کے درمیان ایک واضح لکیر
26:30کھیج کے چلی گئی تو پوری دنیا تا قیامت تک کے لیے مولا کی
26:35قربانی مشلے راہ ہے کہ لوگ کہتے نا کہ حسین ابن علی کون
26:39تھے تو بقول شائر پوچھتے کیا ہو حسین کیسے تھے پوچھتے کیا ہو
26:45حسین کیسے تھے ارے آج تک جس کا اثر ہے حسین ایسے تھے
26:52تو باطل کو اور حق کو بالکل الگ الگ کر دیا اور اتنی منزلت
26:57اسی وجہ سے اسی قربانی کی اسی جذبے کی وجہ سے پروردگار
27:01عالم نے عطا کی کیوں نہ خداوند مطال اتنا عجر دیتا اتنی
27:06قربانیوں پر پروردگار عالم نے سرداری عطا کر دی تمام شہیدوں
27:11کا سردار بنا دیا جنت کے جوانوں کا سردار بنا دیا کیونکہ کہا
27:16جاتا ہے روایاتیں بتاتی ہیں ہم سنتے ہیں کہ پروردگار عالم
27:21کہتا ہے کہ میری طرف ایک قدم بڑھاؤ میں دس قدم تمہاری طرف
27:24بڑھاؤں گا تو جب اللہ کی راہ میں کوئی ایسی قربانیاں پیش کرے
27:29گا تو پروردگار عالم تو اس کو بدلہ تو دے گا نا کیونکہ
27:34پروردگار عالم اپنی کتاب میں اشارت فرما رہا ہے حل جزاؤ
27:38الاحسان اللہ الاحسان بے شک احسان کا بدلہ احسان کے سوا کچھ
27:43نہیں ہے تم ہمارے دین کو بچانے کے لیے قربانی دوگے ہم تمہیں
27:47سرداری عطا کریں گے تم اپنے گھرانے کو قربان کروگے اپنی
27:51جان کو قربان کروگے ہم تمہیں سرداری عطا کریں گے تمہاری
27:56منزلتوں کو بڑھائیں گے تمہارے حرم کی مٹی کو خاک شفا قرار
28:01دیں گے تو کہا یہ جنت کی مٹی بن گئی لوگ دیکھ کے حیران ہوئے
28:07ملہ فیض کا شانی بتاتے ہیں کہ وہ روزانہ دیکھتے ہو خاک شفا
28:11کی تذبیہ اس کی سجزگا تھی اتنی عظیم منزلت اتنی عظیم منزلت اور
28:17یہ تو ہم جو کہیں کہ ہم ان کے ماننے والے ہیں تو ہم اتنی
28:22ان کو ان کی عظمت کا اقرار کر رہے ہیں ان کی منزلت کا اقرار
28:26کر رہے ہیں غیر مسلم بھی ان کی عظمت اور منزلت کا اقرار کرتے ہیں
28:30غیر مسلم بھی ان کی عظمت منزلت کا اقرار کرتے ہیں مہاراجہ
28:35sir hari kishn parashat ji
28:36referat فرماتے ہیں
28:37بہت بڑے ہندوؤں کے جو راجہ
28:40گزرے ہیں وہ ہیں
28:41کیونکہ آپ دیکھیں
28:43ہندو مسلم سکھ عیسائی
28:45سب موجود ہوتے ہیں
28:46تو ہندوؤں کے ایک مہراجہ
28:48گزرے مہراجہ hari kishn parashat ji
28:51ان کو sir کا خطاب ملاتا
28:53ان کے نام کے ساتھ لگتا ہے
28:54مہراجہ sir hari kishn parashat ji
28:57تو وہ اشارت فرماتے ہیں
28:59کہ دنیا کا
29:00کوئی بھی شہید
29:02یا سلسلہ شہدہ
29:04امام حسین کی عظمت
29:06اور شرافت عمل کے مقابلے میں
29:09کھڑا نہیں ہو سکتا
29:11نہیں کھڑا ہو سکتا
29:13یہ غیر مسلم ہیں
29:15جو ان کے مرتبے کو
29:16ان کی عظمت کو مان رہے ہیں
29:18اور اسی لئے شاعر نے کہا
29:21انسان کو بیدار تو ہو لینے دو
29:23انسان کو بیدار تو ہو لینے دو
29:26ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین
29:29برائے عظمت امام حسین
29:31بلندترین صلوات
29:54تو اب جب پروردگار
30:02قرآن کریم وہ کتاب ہے جو رہتی دنیا تک
30:05قائم رہ گی اس میں کوئی رد و بدل نہیں کر سکتا
30:08کوئی اس کی آیتوں کی تقزیب نہیں کر سکتا
30:10ان میں رد و بدل نہیں کر سکتا
30:12تو پروردگار عالم نے اس میں وعدہ کر لیا
30:15کہ ہم شہیدوں کو اس کا عجر دیں گے
30:18تو اب جیسا کہ پروردگار عالم نے
30:21اپنی کتاب میں بیان فرما دیا
30:22اتنی منزلت دی
30:24تو اب کیا ہوا کہ یہ اتنی عظیم مرتبے والی ہستی ہیں
30:28کہ ان کے خاندان کی نجابت اور طہارت کی گوائی
30:33جیسا کہ میں نے ابھی بتایا
30:34سورہ مباہلہ کی آیت نمبر 61 کا میں نے حوالہ دیا
30:38آیت مباہلہ کا
30:39تو اتنا نجیب شجرہ
30:41تو اب کیا ہوا کہ کتنی آیتیں تھی
30:44جو امام حسین کی ولادت کے بعد نازل ہوں
30:47امام حسین کی اتنی منزلت ہے
30:49آپ دیکھئے
30:50ان آیتوں کے نزول سے پتا چلتا ہے
30:52کتنی آیتیں تھی رکی رہی
30:54سورہ دہر
30:55جب نازل ہوئی جب مولا کی ولادت ہو گئی
30:58کیوں
30:59کیونکہ جب تک حسین ابن علی کی روٹی نہیں ہوگی
31:01تو سورہ دہر پورا نہیں ہوگا
31:04جب حسین ابن علی کی روٹی ہوگی
31:07تو سورہ دہر پورا ہوگا
31:09کہ یتیم کو مسکین کو اور اسیر کو کھانا کھلاو
31:12سورہ مباہلہ پورا نہیں ہوگا
31:14کہ تم اپنے بیٹوں کو لاؤ ہم اپنے بیٹوں کو لے کر آئیں
31:18عظمت ہے حسین ابن علی کی
31:19تو کتنی آیتیں ایسی ہیں
31:21جو پنجتن کی شان میں ہیں
31:23اور وہ
31:24امام حسین کی ولادت کے بعد نازل کی گئیں
31:27کیوں
31:28کیونکہ پنجتن کی شان میں جتنی بھی آیتیں ہیں
31:30وہ امام حسین کی ذات گرامی کے
31:33ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہیں
31:36آی آئی تطہیر میں آپ کا ذکر ہے
31:38آی آئی مباہلہ میں آپ کا ذکر ہے
31:40سورہ نور میں آپ کا ذکر ہے
31:42کاف ہا یا این سواد میں آپ کا ذکر ہے
31:45سورہ دہر میں آپ کا ذکر ہے
31:48آئی مباہلہ میں آپ کا ذکر ہے
31:50سورہ کوسر میں آپ کا ذکر موجود ہے
31:53سورہ نور میں آپ کا ذکر موجود ہے
31:55غرض کتنے سورے ایسے ہیں
31:57جس میں پروردگار عالم نے ان کا ذکر رکھا ہے
32:00تو اتنی منزلت کیوں
32:03صرف اس لیے
32:05کیونکہ پروردگار عالم کی
32:07رضا کے آگے
32:09اپنے سر کو جھکا دیا
32:12پروردگار عالم کے
32:13دین کو بچانے کے لیے
32:15اپنے گھر آنے کو قربان کر دیا
32:19اپنی جان کو قربان کیا
32:21اپنی مرضی کو
32:23اللہ کی مرضی سے مشروط کر دیا
32:25اگر اتنا مرتبہ
32:28کوئی چاہے
32:28نہیں لے سکتا
32:30کیونکہ وہ تو ایک پاکیزہ ہستی ہیں
32:32ہم تو ان کے قدموں کی خاک کے برابر بھی نہیں ہیں
32:34لیکن اتنا مرتبہ کیسے ملا
32:37پروردگار عالم کی اتنی اطاعت کی
32:41کہ پروردگار عالم
32:42نے یہ مرتبہ آتا فرمایا
32:44اتنا اپنی مرضی کو
32:46اللہ کی مرضی کے تابع کر دیا
32:48کہ اگر
32:50اس وقت قربانی دینی ہے
32:52so to be with regard to دینی
32:54is
32:55if Zainab
32:56jaysi b immunaki rida ki kribani
32:58dianye is able to be with Allah
33:01so Zainab jaysi b immunaki rida ki kribani
33:03dianye gye
33:04if Abbas jaysa ba density
33:06baa-faa bhaai
33:06kariyal žawaan
33:08eske bazaoans ke kribani chahye
33:10Allah ke din ko
33:11to Hussein ibn Ali dayga
33:13if Ali Akbar jaysay
33:15kariyal jawan ke
33:16sienay ke kribani chahye
33:18para wordigar alam ko
33:19کہ علی اکبر اپنے سینے پر برچی کھائیں
33:22تو حسین ابن علی اپنا کڑیل جوان قربان کرے گا
33:26اور اگر ششماح علی اصغر کی قربانی چاہیے
33:29اللہ کے دین کو
33:31تو حسین ابن علی اصغر کی بھی قربان کرے گا
33:34علی اصغر کی قربانی وہ قربانی ہے
33:37کہ جو تمام قربانیوں سے بالکل الگ ہے
33:41اور کیوں الگ ہے
33:43کہ جس وقت امام علی مقام علی اصغر کے لاشے
33:47کو لے کر آئے ہیں نا اپنے ہاتھوں پر
33:50تو بی بی امی رباب نے
33:52علی اصغر کے لاشے کو دیکھ کر ایک جملہ کہا تھا
33:56زخمی اور سوکھے لبوں کو چوما
33:59اور ایک جملہ کہا
34:01کہ کیا تجھ جیسا بھی نہر ہوتا ہے
34:05اور باب اعزا کہتے ہیں
34:08جانور کے بھی چھ مہینے کے بچے کی قربانی جائز نہیں ہے دین
34:12حسین ابن علی کا چھ مہاں کا بچہ قربان کیا
34:19مقاتل یہ بیان کرتے ہیں
34:21کہ جس وقت مولا نے
34:23رنے کربو بلا میں
34:25حلم ناصرین ینسرنہ کی صدا کو بلند کیا ہے
34:29تو اس وقت خیموں سے رونے کی صدا بلند ہوئی
34:33خیموں سے رونے کی صدا بلند ہوئی
34:36اور اس رونے کی صدا بلند ہونے کا مقصد یہ تھا
34:40کہ ننے مجاہد نے حلمن کی صدا پہ لبیٹ کہتے ہوئے
34:46خود کو جھولے سے گرا دیا تھا
34:49جب حسین ابن علی نے رونے کی آوازوں کو سنا
34:53ایک مرتبہ پلٹ کر خیمے میں آئے
34:56کیا دیکھا کہ خیمے میں موجود
34:59ام رباب اور زینب کبرا روتی جاتی ہیں
35:04اور کہتی ہیں کہ آقا جب آپ نے حلمن کی صدا کو بلند کیا
35:10تو علی ازغر نے خود کو جھولے سے گرا دی
35:15حسین نے ایک مرتبہ بے کسی سے
35:18علی ازغر کی جانب دیکھا
35:20اور کہا رباب
35:22علی ازغر کو تیار کر دو
35:25میں علی ازغر کو پانی پلانے کی کوشش کرتا ہوں
35:30اب رباب نے علی ازغر کو تیار کیا
35:34اور جب حسین علی ازغر کو لے کر چلے
35:38تو ایک مرتبہ سکینہ سامنے آئیں
35:41اور سکینہ نے کہا
35:44کہ بھئیہ علی ازغر
35:46بابا تمہیں پانی پلانے کے لیے لے کر جا رہے ہیں
35:50بھئیہ اکیلے پانی نہ پی لے نہ
35:53بہن بہت پیاسی ہے
35:56حسین علی ازغر کو لے کر چلے
35:59جس وقت لے کر چلے
36:01تو اتنی سخت دھوپ تھی
36:03کہ ابا کے دامن سے علی ازغر کو ڈھاپ لیا
36:06اب جب فوج اشقیہ کے سامنے آئے
36:10تو فوج اشقیہ نے کہا
36:12کہ شاید حسین اپنی جان بچانے کے لیے
36:16قرآن کو لے کر آگئے ہیں
36:18آپ نے فرمایا
36:20کہ بے شک میری گود میں
36:22قرآن ناتق کا ایک ورک ہے
36:24یہ کہہ کے ابا کے دامن کو ہٹایا
36:27اربابِ ازا
36:29علی ازغر کربلا کی تاریخ کا
36:32وہ شہید ہے
36:33جس نے بینا کسی ہتھیار کے
36:36بینا کسی تیر کے
36:38بینا کسی تلوار کے
36:40اب پوری فوج اشقیہ میں
36:43تلاتم برپا کر دیا
36:45فوج اشقیہ میں کھلولی مچ گئی
36:47صرف علی ازغر کا ہتھیار
36:50وہ ایک ننی سی
36:52سوکھی ہوئی زبان تھی
36:54جو علی ازغر نے اپنے ہوتوں پہ پھیری تھی
36:57اور فوج اشقیہ میں
36:59تلاتم برپا ہو گیا
37:01لوگ مو پھیر پھیر کے رونے لگے
37:05جب کوئی پانی پلانے آگے نہ آیا
37:08تو مولا نے کہا
37:10کہ اگر تم یہ سمجھتے ہو
37:12کہ حسین امن علی
37:14علی ازغر کے بہانے
37:16خود پانی پینا چاہتا ہے
37:18تو لو
37:19میں علی ازغر کو جلتی ریت پر لٹا دیتا
37:22کوئی آؤ اور علی ازغر کو پانی پلا دو
37:26یہ کہہ کر
37:27علی ازغر کو
37:28زمین کربلا پہ رکھ دیا
37:31ارباب اعزا
37:32چھے ماہ کا بچہ
37:34جلتی ہوئی کربلا کی ریت
37:37اور حسین کا گل بدن
37:39علی ازغر
37:41کوئی آگے نہ آیا
37:43لوگوں نے کہنا شروع کیا
37:45عمر سعید
37:46اس بچے کو تو پانی پلا دے
37:48لیکن جب کوئی آگے نہ آیا
37:51حسین نے علی ازغر کو گودھ میں لیا
37:53ادھر عمر سعید نے دیکھا
37:55کہ فوج میں
37:56ایک ہلچل ہے
37:58بغاوت سر اٹھا رہی ہے
38:00تو عمر سعید نے
38:01ہرملا
38:02جو شقی ترین شخص تھا
38:05اور بہت ماہر نشانہ باز تھا
38:08اس سے کہا اقتا کلام الحسین
38:11یعنی حسین کے کلام کو قطع کر دو
38:15اب ہرملا نے
38:17تین تیر وہ لے کر آیا تھا
38:20جو سب سے زیادہ خطرناک
38:22اور سہشوبہ تھے
38:24وہ زہر میں بجھے ہوئے تیر تھے
38:28جب ہرملا سے
38:29پوچھا گیا تھا کربلا کے واقعے کے بعد
38:33کہ بتا تُو نے کربلا میں کیا کیا تھا
38:35تو اس نے بتایا تھا
38:37کہ میں نے پاس تین خاص تیر تھے
38:40ان کی خاصیت یہ تھی
38:42کہ ان کے تین مو تھے
38:43وہ سہشوبہ تیر تھے
38:45وہ زہر میں بجھے ہوئے تھے
38:47جس میں سے ایک میں نے مارا تھا
38:50عباس ابن علی کو
38:52جب وہ مشک خیموں کی جانب لے کر جا رہے تھے
38:55تو وہ تیر مشک کو چھیتتا ہوا
38:58عباس کے سینے میں پیوست ہوا تھا
39:01اور دو خون کے دریاؤں کے بیچ دریائے فرات کا پانی بہ گیا تھا
39:07دو ایک تیر میں نے مارا تھا
39:09حسین ابن علی کو
39:10ان کے سینے پر
39:12جس کے بعد وہ گھوڑے پہ سنبھل نہ سکے تھے
39:16اور وہ تیر
39:17ایک تیر میں نے مارا تھا
39:19علی اسغر کو
39:20جب حسین ابن علی انہیں گود میں لے کر
39:24پانی کا سوال کر رہے تھے
39:27تو عربابِ عزا
39:28میڈیکل سائنس یہ بتاتی ہے
39:30کہ چھے ماہ کے بچے کا
39:33عوصت وزن
39:34سات کلو
39:35یا اس سے کچھ زیادہ ہوتا ہے
39:38اور تاریخ یہ بتاتی ہے
39:40کہ علی اسغر کو جو تیرے سے شعبہ مارا گیا تھا
39:45اس تیر کا وزن بارہ کلو تھا
39:48تو جب عمر سعید نے کہا
39:52اتا قلام الحسین
39:54تو حرملا شقی نے
39:56اس تیر کو کمان میں جوڑا
39:58لیکن وہ جب تیر چلانا چاہتا تھا
40:01تو وہ تیر گر جاتا تھا
40:03اس کے ہاتھ
40:04جب تین مرتبہ یہ ہوا واقعہ
40:07کہ اس کے ہاتھ سے تیر گر گیا
40:10تو عمر سعید نے کہا
40:11حرملا
40:12تو تو اتنا پکا نشانہ باز ہے
40:15تجھے کیا ہو گیا
40:16حرملا کہتا ہے
40:19کہ جب میں تیر جوڑتا ہوں
40:21میں تیر چلانا چاہتا ہوں
40:24تو ایک مرتبہ خیمے کا پردہ اٹھتا ہے
40:27اور گر جاتا ہے
40:29شاید اس بچے کی ماں وہاں سے دیکھ رہی
40:33عمر سعید نے
40:35ایک مرتبہ حرملا کی آنکھوں پر ہاتھ رکھا
40:38اور حرملا نے
40:40وہ تیر چلایا
40:42جو ازغرِ بیشیر کے گلوے مبارک کو چھیتا ہوا
40:48حسین ابن علی کے بازوں میں کھڑ گیا
40:53ارے حسین ابن علی نے خون چلو میں لیا
40:57اپنے چہرے پر ملا
40:59اور کہا
41:01کہ پروردگارہ
41:03میں قیامت کے روز
41:05میدانِ قیامت میں
41:07اسی حالت میں آنگا
41:10اب لاشِ ازغر کو
41:13لے کر چلے خیموں کی جانب
41:17خیموں کی جانب لے کر چلے
41:19جب خیموں کے پاس پہنچے
41:22اب حسین ابن علی کے اندر
41:24اتنی ہمت نہیں ہے
41:26کہ رب آپ سے کہہ کر آئے تھے
41:29کہ پانی پلانے لے جا رہا
41:31کس طرح علی ازغر کو دکھائیں
41:34سات مرتبہ آگے گئے
41:37سات مرتبہ واپس پلٹے
41:39کہتے جاتے تھے
41:41رزن بِ قضائے ہی
41:44وَتَسْلِيمًا لِي أَمْرِ
41:45ایک مرتبہ
41:48روخیمے کا پردہ اٹھا
41:50اور بی بِ امِ رُبَاب
41:52سامنے آگئی
41:55کہا آقا
41:56اندر کیوں نہیں آتے
41:58کہا رب آپ
42:00میں کون ہوں
42:01کہا آپ امامِ وقت ہیں
42:03کہا میں جو کہوں گا وہ مانو گی
42:07ایک مرتبہ رب آپ نے کہا
42:10آقا
42:10میں سمجھ گئی
42:12میں سمجھ گئی
42:13بس حسین نے آبا کا دامن اٹھایا
42:16ارے رب آپ نے کیا دیکھا
42:21چھے ماں کالی از غیر
42:26اور بابِ ازا
42:28جب کسی ماں باپ کی
42:31اولاد
42:32اس دنیا سے گزر جاتی ہے
42:35تو جو لوگ ساتھ ہوتے ہیں
42:38ان کی کوشش ہوتی ہے
42:40کہ زیادہ سے زیادہ دل جوئی کی جائے ان کی
42:43اور ماں باپ کو
42:46کم سے کم
42:47اس لاشے کے نزدیک آنے دیا جائے
42:50لیکن
42:51علی ازغر کا لاشہ
42:53وہ لاشہ ہے
42:55اور حسین اور رباب
42:57وہ ماں باپ ہیں
42:58کہ یہ لاشہ
43:00ماں باپ نے اٹھایا ہے
43:02حسین ابن علی وہ باپ ہیں
43:05کہ اپنے بیٹے کے لاشے کو لے کر
43:07مقتل کی طرف جا رہے ہیں
43:09اور مشایت جنازہ کرنے کے لیے
43:12ساتھ میں ماں جا رہی ہے
43:14اور علی ازغر کا لاشہ بابا کے ہاتھوں پر آئے
43:19ایک مرتبہ
43:21ماں باپ نے چاہا
43:23کہ گھوڑوں کی پائمالی سے
43:26اس جسم ناظنین کو بچا لیا جائے
43:30خیموں کے پیچھے لے کر گئے
43:34ذلفقار کو
43:35ایک مرتبہ نیام سے نکالا
43:38رباب علی ازغر کے لاشے کو لے کر کھڑی
43:41اب ذلفقار کے ذمہ
43:43روزِ آشورہ یہ کام بھی تھا
43:46کہ علی ازغر کی قبر
43:48حسین ابن علی نے ذلفقار سے کھو دی ہے
43:52ذلفقار سے قبر کو کھو دا
43:54رباب لاشہ گھوت میں لے کر کھڑی ہے
43:57ماں باپ روتے جاتے ہیں
44:00ارے ازغر کو قبر میں اتارا
44:06پیروں کی طرف سے اس چاند کو چھپانا چرو کیا
44:11مٹی کو ڈالنا چرو کیا
44:14اور باپ ازا جب گردن تک مٹی ڈال چکے
44:21ایک مرتبہ حسین نے اپنے چہرے کو پھیر لیا
44:26ارے ہمارا سلام بی بی رباب پر
44:31حسین نے اپنے چہرے کو پھیرا
44:34کہا علی ازغر
44:38بیٹا تیرا بابا تجھے پانی نہ پلا سکا
44:44یہ کہہ کہ
44:45مٹی کو علی ازغر کے چہرے پر ڈالا
44:50ارے ننی سی لات کھوٹ کے
44:54ازغر کو گھاڑ کے
44:55ننی سی لات کھوٹ کے
44:58ازغر کو گھاڑ کے
45:00شبیر اٹھ کھڑے ہوئے
45:03دامن کو جھاڑ کے
45:07اروا بی ازا
45:08ابھی ظلم باقی تھا
45:11جب گیارہ محرم کو
45:13فوج حسینی کے
45:15سروں کی گنتی ہوئی ہے نا
45:18تو فوج حسینی میں سے
45:20ایک لائین نے پکار کے کہا
45:22ہم نے حسینی فوج کے
45:25بہتر لوگ مارے تھے
45:27ایک سر کم ہے اس میں
45:31سروں کی گنتی میں ایک سر کم ہے
45:34اور ایک شخص پکار کے بولا
45:37میں نے دیکھا تھا
45:39شہادتِ علی ازغر کے بعد
45:41حسین ابن علی خیموں کے پیچھے لے گئے تھے
45:45علی ازغر کا لاشا
45:46ایک گھڑ سواروں کا دستہ
45:49تیار کیا گیا
45:50اور کہا کربلا کی ریت میں سے
45:53ڈھونڈ کے لاؤ لاشاِ علی ازغر
45:56ارے ماں نے اپنے دل کو تھاما
46:00نیزہ بردار
46:02گھڑ سوار
46:04کربلا کی ریت میں
46:06نیزے مارتے جاتے ہیں
46:09ایک مرتبہ
46:11وہ نیزہ زمین کرولا میں گیا
46:15اور جب نیزہ بلند ہوا
46:18اس نیزے پہ لاشاِ علی ازغر
46:22کسی ماں سو ماں کے
46:33رونے کی صدا
46:44آتی ہے
Comments

Recommended