00:08مگداد بن عمر
00:30جو بتاتا ہے کہ مگداد سے محبت کرنا ایمان کا حصہ ہے
00:34تو سوال یہ ہے کہ آخر مگداد بن عمر تھے کون
00:38چلیں سب سے پہلے ان کی ابتدائی زندگی اور پہچان کو دیکھتے ہیں
00:41تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ وہ اتنے بڑے مقام تک پہنچے کیسے تھے
00:46تو ان کا نام تھا مگداد بن عمر لیکن انہیں مگداد بن الاسود بھی کہا جاتا تھا
00:52یہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بہت ہی معزز صحابی تھے
00:56اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ دو نام کیوں
00:59دراصل اس کے پیچھے بھی ایک پوری کہانی ہے
01:02جو مکہ میں ان کے شروع کے دنوں کے ایک مغایدے سے جڑیوی ہے
01:06ان کی ذاتی زندگی میں بھی ایک بہت اہم بات نظر آتی ہے
01:10دیکھیں ان کی شادی پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قزن
01:15زباہ بنت زبیر سے ہوئی تھی
01:17اب یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے
01:19یہ اس بات کی ایک زبردست مثال ہے
01:22کہ اسلام میں خاندان یا نسل سے زیادہ اہمیت تقوی اور ایمان کی ہے
01:27چلیں اب ان کی زندگی کے اس حصے کی طرف چلتے ہیں
01:31جہاں ایمان کا اصل امتحان تھا
01:33یعنی اسلام کا وہ ابتدائی دور جو سب سے مشکل اور کٹھن تھا
01:37یہ جو نمبر ہے نا ساتھ یہ بہت غیر معمولی ہے
01:41ذرا سوچیں وہ زمانہ جب مکہ میں اسلام کا نام لینا بھی
01:45اپنی جان خطرے میں ڈالنے جیسا تھا
01:47اس ماحول میں مقداد ان پہلے سات لوگوں میں شامل تھے
01:51جنہوں نے کھلے عام کہا کہ ہم مسلمان ہیں
01:54کیا ہمت ہوگی
01:55اور دیکھیں ان کا ایمان صرف اعلان تک نہیں رکا
01:59بلکہ یہ قربانیوں سے بھرا ہوا تھا
02:01مکہ میں جب ظلم بہت بڑھ گیا
02:03تو انہیں دو بار ہجرت کرنی پڑی
02:05پہلی بار حبشا کی طرف
02:06اور پھر دوسری بار مدینہ کی طرف
02:08یہ سفر خود بتاتا ہے کہ وہ اپنے ایمان پر کتنے پکے تھے
02:12تو بات صرف ایمان کے اعلان کی نہیں تھی
02:15مقداد نے اپنے ایمان کو میدان جنگ میں
02:18عملی طور پر ثابت بھی کیا
02:19میدان جنگ میں ان کی کمٹمنٹ کا لیول ہی الگ تھا
02:23وہ اسلام کے سب سے پہلے گھڑ سواروں میں سے تھے
02:26اور کوئی ایک جنگ بھی ایسی نہیں تھی
02:28جس میں وہ پیغمبر کے ساتھ نہ لڑے ہوں
02:30اور ایک دلچسپ بات
02:31ان کے گھوڑے کا نام تھا سبحا
02:34جس کا مطلب ہوتا ہے تیراک
02:35یہ نام ہی جیسے ان کی جنگی مہارت کی طرف
02:38ایک اشارہ ہے
02:39اچھا اب ایک بہت ہی نازک اور آزمائشی
02:42لمحے کی بات کرتے ہیں
02:43جنگی اہد کی
02:44شروع میں تو ایسا لگ رہا تھا کہ بس وطا مسلمانوں کی ہی ہے
02:48لیکن پھر اچانک
02:49سب کچھ بدل گیا
02:50ایک غلطی ہوئی افرہ تفری پھیلی
02:53اور جنگ کا پانسہ ہی پلٹ گیا
02:55مسلمانوں کی صفحے ٹوٹ گئیں
02:56اور میدان میں صورتحال بہت ہی زیادہ خطرناک ہو گئی
03:00اور اسی افرہ تفری اور بھگدر کے ماحول میں
03:03مگداد کی بہادوری کا اصل امتحان ہوا
03:05جب بڑے بڑوں کے قدم اکھڑ گئے تھے
03:07مگداد ان گنے چنے لوگوں میں سے تھے
03:09جو اپنی جگہ پر ڈٹے رہے
03:11اور انہوں نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر
03:13پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد
03:15ایک حفاظتی حصار بنا لیا
03:18پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے
03:20اس دنیا سے جانے کے بعد کا جو دور تھا
03:23وہ مگداد کی اصولوں کے لیے شاید
03:25سب سے بڑا امتحان ثابت ہوا
03:27یہ تاریخ کا ایک بہت ہی اہم موڑ ہے
03:30دیکھیں ایک طرف سکیفہ میں
03:32کچھ صحابہ جمع ہو کر
03:33جانشینی کا فیصلہ کر رہے تھے
03:34اور دوسری طرف مگداد کہاں تھے
03:37ان کی ترجی بلکل صاف تھی
03:39وہ امام علی کے ساتھ مل کر
03:41پیغمبر کی تجھیز و تکفین میں مصروف تھے
03:43یہ عمل خود ان کی وفاداری کی
03:45سب سے بڑی گواہی ہے
03:46اور انہوں نے اپنے حصولوں پر
03:48کوئی بھی سمجھوتا نہیں کیا
03:50ان کے ایکشنز بلکل کلیر تھے
03:52سب سے پہلے تو انہوں نے پہلے خلیفہ کی
03:54بیعت کرنے سے انکار کر دیا
03:55پھر وہ ان چند گینے چنے لوگوں میں شامل تھے
03:58جو حضرت فاطمہ کے جنازے میں شریک ہوئے
04:00اور جب امام علی نے مدد مانگی
04:03تو صرف تین لوگ تھے جو آ گیا ہے
04:05اور ان تین میں سے ایک مگداد تھے
04:07ان کی حمت اور جرت کا اندازہ
04:09اس بات سے لگائیں
04:10کہ جب تیسرے خلیفہ کے انتخاب کے لیے شورہ بیٹھی
04:13تو انہوں نے بھرے مجمع میں کھڑے ہو کر کیا کہا
04:15انہوں نے کہا
04:16خدا کی قسم
04:17تم لوگوں نے علی کو چھوڑ دیا ہے
04:20یہ اس وقت
04:21اہلِ بیعت پر ہونے والے ظلم کے خلاف
04:23اٹھنے والی ایک بہت ہی نڈر
04:24اور بے باک آواز تھی
04:26تو سوال یہ ہے
04:27کہ اس بے مثال وفاداری کا نتیجہ کیا نکلا
04:30خود پیغمبر اور ان کے اہلِ بیعت
04:32مقداد کو کس نظر سے دیکھتے تھے
04:34ان کا روحانی مقام بھی کوئی عام نہیں تھا
04:37امام صادق کے مطابق
04:39ایمان کے دس لیولز یا درجے ہوتے ہیں
04:41اور مقداد وہ آٹھے درجے پر تھے
04:44یعنی ایمان کی بلند ترین سطحوں میں سے ایک پر
04:46اور یہ روایت تو
04:48ان کے آخرت کے مقام کی ایسی تصویر کھینچتی ہے
04:51کہ جنت خود ان جیسی شخصیات کا انتظار کر رہی ہے
04:54تو آخر میں ان کی میراس کیا ہے
04:56یہی کہ وہ مکمل طور پر ثابت قدم رہے
04:59غیر متزلزل اطاعت کی مثال بنے
05:01اور ایک ایسا روحانی مقام حاصل کیا
05:03جو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا
05:05وہ ان لوگوں میں سے ہیں
05:07جنہوں نے کبھی بھی حق کا راستہ نہیں چھوڑا
05:09اور ان کا نام ہمیشہ ہمیشہ
05:11امام علی کے سب سے وفادار ساتھیوں میں لیا جائے گا
05:14مقداد بن عمر کی زندگی کی کہانی
05:16اس سوال کا ایک بہت ہی طاقتور
05:18اور ہمیشہ زندہ رہنے والا جواب ہے